بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو الحجة 1447ھ 16 جون 2026 ء

بینات

 
 

تفسیرِ قرآن میں سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے خصوصی تلامذہ

تفسیرِ قرآن میں سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے خصوصی تلامذہ


ترجمان القرآن ،بحر العلم حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دینی علوم کی تما م شاخوں میں کمال عطا کیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو فہمِ دین اورعلمِ تفسیرِ قرآن کی دعا سے نوازا تھا۔ اس کا اثر تھا کہ تفسیرِ قرآن آپ کا خصوصی میدان تھا۔ آپ کے شاگردوں میں تابعین کی ایک بڑی جماعت ہے، ان میں سے بعض تلامذہ کو تفسیرِ قرآن کے حوالے سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی، اس طبقہ کو ’’أعلم الناس بالتفسیر‘‘ (تفسیرِ قرآن سب سے زیادہ جاننے والا) کا شرف حاصل ہے۔ تابعینِ کرام کے اس طبقے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے خصوصی اصحاب مجاہد بن جبر، سعید بن جبیر،عکرمہ مولیٰ ابن عباسؓ، طاؤس اور عطا بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہم شامل ہیں۔ ان کے حالات ذیل میں لکھے جاتے ہیں:

مجاہد بن جبر رحمۃ اللہ علیہ 

آپ کا نام مجاہد بن جبر مکی ہے۔ سائب بن ابی سائب مخزومی کے غلام تھے۔ ایک مدت حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی صحبت کو لازم پکڑا اور تفسیر سیکھی۔ آپ فرماتے ہیں : ’’ میں نے فاتحہ سے لے کر آخر تک قرآن تین بار حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پر پیش کیا۔میں ہر آیت کے پاس رکتا ‘ اور اس کے متعلق سوال کرتا کہ یہ کس بارے میں نازل ہوئی؟ حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے تفسیر سیکھی ، وہ فرماتے ہیں کہ: ’’مجاہد اس وقت میں موجود لوگوں میں تفسیر کے علم میں سب سے بڑھ کر ہیں۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ  جیسے صحابیؓ کبھی آپ کی سواری کی رکاب پکڑ لیتے تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ، ص:۷۱)
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے: ’’چار لوگوں سے تفسیر سیکھو۔‘‘ ان میں مجاہدؒ    کو بھی شمار فرمایا۔ خصیفؒ فرماتے ہیں: ’’ان میں زیادہ عالم مجاہد ہیں۔‘‘ امام اعمشؒ فرماتے کہ: ’’حضرت مجاہد ؒ دیکھنے میں سامان اُٹھانے والے عام آدمی دِکھتے، لیکن جب وہ بولتے تو گویا ان کے منہ سے موتی نکل رہے ہوتے۔‘‘ قتادہؒ فرماتے کہ: ’’حلال و حرام جاننے والوں میں جو لوگ باقی رہ گئے ان میں سب سے بڑھے ہوئے زہری ؒ اور تفسیرِ قرآن کے جاننے والوں میں سب سے بڑھ کر حضرت مجاہد ؒ ہیں۔‘‘ (سیر أعلام النبلاء، ج: ۴، ص: ۴۴۹)
حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کے تفسیری اقوال پر مشتمل ایک کتاب ’’تفسیر مجاہد‘‘ کے نام سے دستیاب ہے جو اولاً ۱۳۹۶ھ میں شیخ طاہر سورتی اور ثانیاً ۱۴۱۰ھ میں دکتور محمد عبدالسلام ابو النیل کی تحقیق سے شائع ہوئی ہے۔ محقق لکھتے ہیں کہ اس کتاب کی نسبت حضرت مجاہد ؒ کی طرف کرنے میں کوئی شک نہیں۔ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کے اکثر اقوال حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہیں، تاہم دیگر صحابہ حضرت عائشہؓ، ابوہریرہؓ ،سعد بن ابی وقاصؓ، عبداللہ بن عمرs وغیرہ سے بھی منقول ہیں۔

سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ 
 

کبار تابعین میں سے ہیں۔اہلِ کوفہ حج کے موقع پر ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مسائل دریافت کرتے تو آپ فرماتے: ’’کیا تم میں سعید بن جبیر نہیں ؟ ان کے ہوتے ہوئے کسی اور سے مسئلہ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ حضرت عدی بن حاتم،عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہما سے علم حاصل کیا اور آپ سے بھی کثیر خلق نے استفادہ کیا۔ حجاج بن یوسف نے اپنے خلاف بغاوت کی پاداش میں شہید کروادیا۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک ستاون برس تھی۔ میمون بن مہران ؒ کہتے ہیں کہ: ’’سعید بن جبیر ؒ ایسے وقت میں شہید ہوئے کہ تمام اہلِ زمیں ان کے علم کے محتاج تھے۔‘‘ آپ کو ’’جہبذ العلماء‘‘ کہا جاتا تھا۔ (تذکرۃ الحفاظ للذہبي، ص:۶۱)

عکرمہ مولیٰ ابنِ عباس رحمۃ اللہ علیہ 

’’عکرمۃ الحبر العالم أبو عبد اللہ البربري ثم المدني الہاشمي مولی ابن عباسؓ‘‘ یہ عکرمہ مولی ابن عباسؓ کے نام سے مشہور ہیں، بربر ی غلام تھے، حسین بن ابی الحر عنبری نے انہیں حضرت ابن عباسؓ کو بطور ہدیہ پیش کیا۔ عکرمہ نے اپنے مولی ابن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ حضرت علی  رضی اللہ عنہ ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، ابن عمر  رضی اللہ عنہ ، ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  اوربعض دیگر حضرات سے بھی روایات نقل کی ہیں۔ (تھذیب التھذیب: ۷/۲۶۳، دارالمعارف النظامیۃ، الھند)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اُن کی تعلیم کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ عکرمہ خود بیان کرتے ہیں کہ: ’’ابن عباسؓ میرے دونوں پیروں پر بیڑیاں لگادیتے تھے اورمجھے قرآن وسنت کی تعلیم دیتے تھے۔‘‘ اس محنت وجانفشانی کا اثر تھا کہ اپنے وقت کے مثالی مفسر بن گئے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں: ’’کتاب اللہ کو عکرمہ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہ رہا۔‘‘ (مناھل العرفان للزرقاني، ص:۲۰، ج:۲، مطبع: عیسیٰ بابي الحلبي)
قتادہؒ فرماتے ہیں: ’’عکرمہ تفسیر کے سب سے بڑے عالم ہیں۔‘‘سلام بن مسکینؒ فرماتے ہیں: ’’عکرمہ تفسیر قرآن کے سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔‘‘ عباس بن مصعب مروزیؒ کا بیان ہے: ’’عکرمہ ابن عباسؓ کے آزاد کردہ غلاموں میں اور آپ کے شاگردوں میں تفسیر کے سب سے بڑے عالم ہیں۔‘‘ شعبیؒ کہتے ہیں:’’عکرمہ سے بڑھ کر کتاب اللہ کا جاننے والا کوئی باقی نہ رہا۔‘‘ سفیان ثوریؒ کا قول ہے: ’’چارلوگوں سے تفسیر سیکھو۔‘‘ ان چاروں میں عکرمہ کو آ پ نے سب سے پہلے شمار کرایا۔ ابن حبانؒ کا بیان ہے: ’’عکرمہ اپنے زمانے میں فقہ اورقرآن کے بڑے علماء میں سے تھے۔‘‘ (ھدي الساري مقدمۃ فتح الباري: ۱/۴۲۹، دار المعرفۃ، بیروت)
حبیبؒ بن ابی ثابت کہتے ہیں: ’’ میرے پاس پانچ حضرات جمع ہوئے: طاؤس، مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ، عطاء، ان میں سے مجاہد اور سعید بن جبیر آگے بڑھ کر عکرمہ سے آیات کی تفسیر سے متعلق مسائل پوچھنے لگے؛ چنانچہ وہ دونوں جس آیت کی بھی تفسیر ان سے دریافت کرتے تھے، وہ ان کے سامنے اس کی تفسیر بیان کردیتے تھے؛ حتیٰ کہ جب ان کے سوالات ختم ہوگئے تو عکرمہ ازخود کہنے لگے کہ فلاں آیت فلاں موقع پر نازل ہوئی اورفلاں آیت فلاں موقع پر اُتری۔‘‘ (تھذیب التھذیب:۷/۲۶۶)
ایوب سختیانی ؒ ایک شخص کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ: ’’ میں عکرمہ ،سعید بن جبیر،طاؤس اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے عطاء کا بھی نام لیا تھا، ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اوراس دن عکرمہ علمی مذاکرہ کررہے تھے، اس وقت سامعین وحاضرین کا حال یہ تھا کہ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں (یعنی پوری توجہ وانہماک سے وہ سب ان کی باتیں سن رہے تھے) ان میں سے سوائے سعید کے کسی نے بھی کسی مسئلہ میں ان سے اختلاف نہیں کیا اورسعید نے بھی صرف ایک مسئلہ میں ان سے اختلاف کیا۔‘‘ (ھدي الساري مقدمۃ فتح الباري: ۱/۴۲۸)
علماء ومحدثین کے ان اقوال وواقعات کی روشنی میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عکرمہ کا مقام ومرتبہ تفسیر میں کس قدر بلند تھا اور ان کے تفسیری اقوال وروایتیں کس درجہ مقبول و مستند تھیں؛ لیکن اس کے باوجود کچھ ایسے علماء ومحدثین بھی تھے جو بعض وجوہات کی بنا پر عکرمہ سے ناخوش تھے، بلکہ ان پر جرح کرتے تھے اور ان پر اعتراضات کرتے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ’’ہدي الساري مقدمہ فتح الباري‘‘ میں صحیح بخاری کے ان راویوں پر ایک الگ عنوان قائم کیا ہے جن پر طعن کیا گیا ہے، اس میں حضرت عکرمہ ؒ پر ایک طویل کلام کرکے بڑی تفصیل کے ساتھ ان اعتراضات کو نقل کرکے ایک ایک کی تردید یا توجیہ کی ہے، جس کی تلخیص مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے علوم القرآن میں تحریر فرمائی ہے، اس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ عکرمہؒ پر جو اعتراضات وارد کیے جاتے ہیں، ان کا دارومدار تین اعتراضات پر ہے:ایک یہ کہ انہوں نے بعض غلط باتیں حضرت ابن عباسؓ کی طرف منسوب کردی تھیں۔ دوسرے یہ کہ وہ عقیدۃً خارجی تھے۔ اور تیسرے یہ کہ وہ امراء وحکام سے انعامات وصول کرتے تھے،جہاں تک اس تیسرے الزام کا تعلق ہے کہ انہوں نے امراء سے انعامات وصول کیے ہیں، سو ظاہر ہے کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کی بنا پر ان کی روایات کو رد کردیا جائے۔ رہے باقی دو اعتراضات سوحافظ ابن حجرؒ نے تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ ان میں سے کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوا،اس سلسلہ میں جتنے قصے ان کی طرف منسوب ہیں، حافظ ابن حجرؒ نے ان میں سے ایک ایک کو نقل کرکے اس کی مدلل تردید یا توجیہ کی ہے؛ مثلاً ان پر جھوٹ کا جو الزام عائد کیا گیا ہے، اس کا منشا ایک غلط فہمی ہے اور وہ یہ کہ بسا اوقات انہوں نے ایک حدیث دو آدمیوں سے سنی ہوتی تھی، ایک موقع پر وہ ایک شخص سے روایت کرتے تھے، پھر کوئی اسی حدیث کے بارے میں پوچھتا تو دوسرے آدمی سے روایت کردیتے، اس سے بعض لوگ یہ سمجھتے کہ یہ حدیث گھڑتے ہیں ؛ حالانکہ دونوں مرتبہ ان کی روایت درست تھی، چنانچہ خود انہوں نے فرمایا ہے:’’أرأیت ھولاءِ الذین یکذبون من خلفي، أفلایکذبوني في وجھي؟‘‘ ۔۔۔ ’’بھلا یہ لوگ جو میرے پیٹھ پیچھے میری تکذیب کرتے ہیں میرے سامنے کیوں تکذیب نہیں کرتے؟۔‘‘مطلب یہ ہے کہ اگر وہ میرے سامنے تکذیب کریں تو میں ان کو حقیقت حال سے آگاہ کروں۔ اسی طرح ان پر خارجی ہونے کا جو الزام لگایا گیا ہے، اس کے بارے میں حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ: وہ کسی قابل اعتبار ذریعہ سے ثابت نہیں ہوا، البتہ ہوا یہ کہ انہوں نے بعض جزوی (فقہی)مسائل میں ایسا مسلک اختیار کیا تھا جو خارجیوں کے مطابق تھا، اس سے بعض لوگوں نے انہیں خارجیت کی طرف منسوب کردیا؛ چنانچہ امام عجلیؒ فرماتے ہیں:’’عکرمۃ مولی ابن عباسؓ مکي تابعي ثقۃ بريء مما یرمیہ بہ الناس من الحروریۃ۔‘‘ ۔۔۔ ’’عکرمہ حضرت ابن عباسؓ کے مولیٰ ہیں، مکہ کہ رہنے والے ہیں، ثقہ تابعی ہیں اورلوگ ان پر خارجیت کا جو الزام لگاتے ہیں وہ اس سے بری ہیں۔‘‘   (علوم القرآن، ص:۴۶۴تا۴۶۶، مکتبہ دارالعلوم)
اسی وجہ سے امام بخاریؒ کا ارشاد ہے: ’’ہمارے ساتھیوں میں سے (یعنی محدثین میں سے) کوئی ایسا نہیں مگروہ عکرمہؒ کی روایت سے استدلال کرتا ہے۔‘‘ محمد بن نصر المروزیؒ فرماتے ہیں: ’’اکثر اہل علم کا عکرمہؒ کی روایت سے استدلال واحتجاج کرنے پر اتفاق ہے اوراس پر محدثین متفق ہیں۔‘‘
حافظ ابنِ مندہ ؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ستر سے زیادہ اعلیٰ درجے کے تابعین نے ان کی توثیق کی ہے اور یہ کسی دوسرے کے لیے نہیں کی گئی۔اس کے ساتھ جس نے ان پر جرح کی ہے، وہ بھی ان کی روایت لینے سے رکا نہیں اور نہ ہی ان سے بے نیاز ہوا ہے۔‘‘
خلاصہ کلام یہ ہے کہ عکرمہ ترجمان القرآن حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہ  کے علوم کے محافظ اورامین، اپنے زمانہ کے بہت بڑے مفسر اوراکثر اہل علم کے نزدیک ثقہ اور قابل اعتبار ہیں،محدثین آپ سے روایت کرنے پر اورآپ سے احتجاج واستدلال کرنے پرمتفق ہیں، آپ کی وفات ۱۰۴ھ میں ہوئی۔
حضرت عکرمہ ؒ کےتفسیری اقوال کا نمونہ
۱: ’’يَا  صَاحِبَيِ السِّجْنِ اَمَّا اَحَدُکُمَا فَيَسْقِيْ رَبَّہٗ خَمْرًا‘‘  (یوسف:۴۱) 
’’اے قید خانہ کے دونوں رفیقو! تم میں ایک تو (بری ہوکر) اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا ۔‘‘
حضرت عکرمہ ؒاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: وہ قیدی حضرت یوسف  علیہ السلام  کے پاس آیا اورکہنے لگا: میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں نے ایک انگور کا دانہ زمین میں گاڑا، اس سے انگور کی بیل اُگ آئی،پھر اس میں انگور کے خوشے نکل آئے، میں نے انہیں توڑ کر اسے نچوڑا، پھر اسے بادشاہ کو پلانے گیا تو حضرت یوسف  علیہ السلام  نے اس خواب کی یہ تعبیر بیان فرمائی کہ تم تین دن جیل میں رہو گے، پھر رہا ہوکر جیل سے نکل جاؤ گے، پھر بادشاہ کو شراب پلایا کروگے۔ (الدرالمنثور:۴/۵۳۹)
۲: ’’ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيْہِ اِلَيْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَيْہِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَہُمْ اَيُّہُمْ يَکْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا کُنْتَ لَدَيْہِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ‘‘ (آل عمران:۴۴)
’’یہ قصے منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں، ہم ان کی وحی بھیجتے ہیں آپ کے پاس اوران لوگوں کے پاس، آپ نہ اس وقت موجود تھے، جبکہ وہ (قرعہ کے طورپر) اپنے اپنے قلموں کو پانی میں ڈالتے تھے کہ ان سب میں کون شخص مریم ( رضی اللہ عنہا ) کی کفالت کرے اورنہ آپ ان کے پاس اس وقت موجود تھے، جبکہ باہم وہ اختلاف کررہے تھے۔‘‘
حضرت عکرمہؒ فرماتے ہیں: وہ لوگ یعنی بیت المقدس کے نگران و متولیان نہر اُردن کے پاس آئے اور مریم ( رضی اللہ عنہا ) کی کفالت کے لیے قرعہ اندازی کی اور قرعہ اندازی کے لیے یہ بات طے پائی کہ وہ سب اپنے قلموں کو جس سے وہ توراۃ اوردیگر کتبِ مقدسہ لکھا کرتے تھے، نہر میں ڈال دیں، سو جس کا قلم پانی کے بہاؤ میں نہ بہے، بلکہ ٹھہر جائے تو وہی شخص مریم کی کفالت کرے گا، پھر ان لوگوں نے اپنے اپنے قلموں کو نہر میں ڈال دیا توزکریا  علیہ السلام  کے قلم کے سوا باقی سب کے قلم نہر کے بہاؤ میں بہہ گئے اورزکریا  علیہ السلام  کا قلم پانی کے بہاؤ میں ٹھہرا رہا۔(تفسیر ابن کثیر)
۳: ’’وَیَلْعَنُہُمُ اللّٰعِنُوْنَ‘‘  (البقرۃ:۱۵۹)
’’اور لعنت کرتے ہیں ان پر لعنت کرنے والے۔‘‘
اس آیت کی تفسیر میں حضرت عکرمہؒ فرماتے ہیں: ’’ان کفار پر ہر چیز لعنت کرتی ہے، حتیٰ کہ مکوڑے اور بچھو تک ان پر لعنت کرتے ہیں، کہتے ہیں: بنی آدم کے گناہوں کی نحوست کے سبب ہم سے بارش روک لی گئی۔‘‘ (الدر المنثور: ۱/۳۹۱)

طاؤس بن کیسان حمیری ؒ

طاؤس نام، ابو عبدالرحمٰن کنیت، الیمانی الجندی نسبت تھی۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ سیدہ عائشہ،زید بن ثابت، ابوہریرہ، زید بن ارقم s سے بھی شرفِ تلمذ حاصل تھا۔ اہلِ علم کی ایک بڑی جماعت نے ان سے روایت کی جن میں ان کے بیٹے عبداللہ اور امام زہری رحمۃ اللہ علیہم شامل ہیں۔ فضل وکمال کے اعتبار سے طاؤس کا شمار کبار تابعین میں تھا، علم وعمل کے سرتاج تھے۔عمرو بن دینار ؒ فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے طاؤس کی مثل کوئی نہیں دیکھا۔‘‘ قیس بن سعد کہتے ہیں کہ: ’’طاؤس ہمارے درمیان ایسے ہی تھے جیسے بصرہ میں ابنِ سیرینؒ۔‘‘ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ’’طاؤس یمن کے شیخ اور ان کی برکت اور ان کے مفتی تھے، بکثرت حج کیے۔‘‘ (تذکرۃ الحفاظ:۱/۷۰)آپ سے حضرت ابنِ عبا س رضی اللہ عنہما کی تفسیری روایات پہلے تین حضرات کی نسبت کم تعداد میں منقول ہیں۔
 

عطا بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ 

مکہ مکرمہ کے مفتی اور محدث تھے۔ مناسکِ حج کے علم میں فائق تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایسے تلمیذ ہیں جن کے بارے میں خود ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’یا أھل مکۃ! تجتمعون علي وعندکم عطاء؟‘‘ اے اہل مکہ! جب تمہارے پاس حضرت عطاء موجود ہیں تو میرے پاس آنے کی کیاضرورت ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ مکرمہ تشریف لائے تو لوگ آپ سے مسائل دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا: ’’تجتمعون لي المسائل وفیکم عطاء ؟‘‘ جب تمہارے اندر حضرت عطاء موجود ہیں تو مجھ سے مسائل پوچھنے کیوں آتے ہو؟امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے حدیث کا سماع کیا اور فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے عطا سے بڑھ کر کوئی نہیں دیکھا۔‘‘  (تذکرۃ الحفاظ ۱/۷۵،دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین