بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو الحجة 1447ھ 16 جون 2026 ء

بینات

 
 

تعلیماتِ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اور عہد حاضر


تعلیماتِ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اور عہد حاضر


تعلیماتِ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی اہمیت عہد حاضر میں پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے، بلکہ ا س عہد میں فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اور پر امن معاشرے کے قیام کے لیے اہلِ بیت عظامؓ کے قول و فعل سے رہنمائی لینا بے حد ضروری ہے، لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ جتنی اس چیز کی اہمیت و ضرورت ہے، اتنا ہی ہم اس سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ اس پر طرفہ تماشہ یہ ہے کہ بنیادی کتب اور مصادر تک رسائی اس عہد میں جتنی آسان ہے، شاید ہی پہلے کبھی رہی ہو، لیکن ہم اتنا ہی مطالعے سے دور جاچکے ہیں، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان گنت ایسی باتیں گردش کرتی ہیں جن کا اصل احوال سے دو ر کا بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا اور ان میں سے بےشمار چیزیں معاشرے کے امن کو خراب کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہی چیزوں میں سے ایک چیز لفظ ’’اہلِ بیتؓ‘‘ کے اطلاق کا مسئلہ بھی ہے، یعنی اہل بیتؓ کون ہیں؟ اور کون نہیں ہیں؟ اس کو بلاوجہ متنازع بناکر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ بزرگانِ دین کا اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔

اہلِ بیتؓ کون؟

اہلِ بیت دو لفظوں ’’اہل‘‘ اور ’’بیت‘‘ کا مجموعہ ہے اور اس کا مطلب اہل لغت کے ہاں ’’گھر والے‘‘ ہیں۔ قرآن پاک میں لفظ ’’اہلِ بیت‘‘ دو جگہ آیا اور دونوں جگہ بیویاں مخاطب ہیں:
’’قَالُوْآ اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللہِ رَحْمَتُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ عَلَيْکُمْ اَہْلَ الْبَيْتِ  اِنَّہٗ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ‘‘ (سورۃ ہود)
یہاں حضرت ابراہیم  علیہ السلام اور ان کی اہلیہ حضرت سارہ  رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے۔
’’اِنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ لِيُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَيْتِ وَيُطَہِّرَکُمْ تَطْہِيْرًا‘‘
یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مطہر بیویوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔
اگر مزید تحقیق کی جائے تو قرآن پاک میں لفظ ’’أہل‘‘ تقریباً ۱۲۵ مرتبہ آیا ہے اور متفرق معنوں میں استعمال ہوا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں:
1: أہل بمعنی بیوی ، اس کی دو مثالیں اوپر دی جاچکی ہیں ۔
2:کسی شہر یا بستی کے لوگ، جیسے : ’’وَلَوْ اَنَّ اَہْلَ الْقُرٰی اٰمَنُوْا‘‘
3:کسی دین یا کتاب کے ماننے والے، جیسے: ’’یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ‘‘
4:کسی چیز کے لائق یا حقدار لوگ، جیسے: ’’اِنَّ اللہَ يَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰی اَہْلِہَا‘‘
لفظ ’’أہل‘‘ سیاق و سباق کے ساتھ بدلتا رہتا ہے، اب ’’ اہل بیت‘‘ کے حوالے سے ایک مستند حدیث بھی ہے جسے ’’حدیث کساء‘‘ کہا جاتا ہے جوکہ اہل بیت کے مفہوم کو مزید وسیع کرتی ہےاور اس میں سیدنا علی المرتضی شیر خدا ،حضرات حسنین کریمین ،سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہم شامل ہیں، اسی طرح کچھ اور مستند احادیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ازواجِ مطہراتؓ کے حجروں کے پاس تشریف لے جاتے تو فرماتے : ’’السلام علیکم یا أہل البیت!‘‘۔ اسی طرح صاحبِ تحقیق بزرگانِ دین ’’اہل بیت‘‘ میں ان سب رشتہ داروں کو بھی شمار کرتے ہیں جن سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ان کے لیے زکوٰۃ حرام ہے اور یہی ’’اہلِ بیت‘‘ کا بہترین مفہوم ہے، لیکن بدقسمتی سے عہد حاضر میں کچھ کم علم لوگ ’’اہل بیت‘‘ کے مفہوم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازدواج ،تمام اولاد (سوائے حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا  کے)، تمام داماد(سوائے حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے) اور تمام نواسے نواسیوں (سوائے حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کے) کو نعوذ باللہ نکال دیتے ہیں، یہاں تک کہ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ  کے باقی سارے بیٹے بیٹیوں کو بھی نکال دیتے ہیں سوائے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے، پھر آگے حضرت حسن رضی اللہ عنہ  کی ساری اولاد کو نکال دیتے ہیں اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ  کی کچھ اولاد کے قائل ہیں، کچھ کے قائل نہیں ہیں۔
یہ ایک من گھڑت مفہوم ہے جو کہ پندرہ سو سال کے علماء کرام و بزگانِ دین نے نہیں اپنایا۔ تعلیماتِ اہل بیتؓ سے پہلے اہل بیتؓ کے مفہوم کو مختصراً آپ سب کے سامنے رکھنا بے حد ضروری تھا، اب اہلِ بیت عظام رضی اللہ عنہم کی وہ تعلیمات جو ’’رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ‘‘ کی عملی تفسیر تھیں کو مختصراً ذکر کیا جاتا ہے، جس کا مقصد وہ حقیقی منظر نامہ آپ کے سامنے رکھنا ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے عملی پیکر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے عملی نمونےاور اہل بیت عظام و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی باہمی محبت و الفت اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے مشترکہ کاوشیں عوام الناس کے سامنے آئیں اور وہ ہستیاں جو باہم شیر وشکر تھیں ، ’’رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ‘‘ کی عملی تفسیر تھیں، جو نبوت سے براہِ راست فیض یاب ہوئیں ،جنہوں نے اسلام کی سر بلندی کے لیے مشترکہ قربانیاں دیں ،جنہوں نے ہمیشہ خود پر دوسرے کو فوقیت دی، جن کے باہمی تعلقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مطہر و بابرکت آنکھوں کے آگے پروان چڑھے،جنہیں قرآن پاک نے بے شمار اعزازت سے نوازا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے باقاعدہ شاگرد تھے، ایسے بہترین معاشرے کو آپ حضرات کے سامنے رکھا جائے، تاکہ ان کی باہمی محبت کو مشعلِ راہ بھی بنایا جاسکے اور ان کے بیچ نام نہاد توڑ ثابت کرنے کی ناکام کوششوں کی بیخ کنی بھی کی جاسکے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مطہر اولاد کے متعلق امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’خدیجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ اولاد پیدا ہوئی: قاسم ،طاہر، انہی کو عبداللہ کہتے ہیں اورام کلثوم، رقیہ، زینب اور فاطمہ۔‘‘  (کتاب الخصال للشیخ الصدوق، ص: ۳۷۵، باب السبعۃ)
’’ایک مرتبہ ایک شخص نے سیدنا علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ عنہ  کو اطلاع دی کہ: اے امیر المومنین! فلاں دروازے پر دو شخص ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  کے حق میں بدکلامی اور طعن گوئی کررہے ہیں تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ  نے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ  کو حکم دیا کہ ان ہتک عزت کرنے والے دونوں اشخاص کو کپڑے (قمیص) اُتار کر دُرّے لگائے جائیں۔‘‘  (البدایۃ لابن کثیرؒ، ج:۷، ص: ۲۴۵، تحت حالات بعد واقعۃ جمل)
’’حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ: ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا کہ یکایک ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دور سے آتے ہوئے دکھائی دیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: یہ دونوں تمام اگلے اور پچھلے پیرانِ اہلِ جنت کے سردار ہیں سوائے نبیوں اور رسولوں کے۔‘‘ (سنن ترمذی، حدیث نمبر: ۳۶۶۶، باب المناقب)
سیدناعلی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ عنہ‘ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی مقدس شخصیات سے بے حد لگاؤ رکھتے تھے اور ان کے دنیا سے جانے پر شدید غم کا اظہار کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:
 ’’اللہ نے مسلمانوں میں سے بہت سے افراد کو اپنی تائید و مدد کے لیے چن لیا تھا، اسلام میں جو کوئی جس منزلت کا حامل ہوتا ہے، اللہ بھی اپنے ہاں اسے وہی مقام و عزت بخشتا ہے، ان میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے بلند تر مقام کے حامل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ صدیقؓ اور صدیقؓ کے خلیفہ فاروقؓ ہیں، بے شک وہ دونوں اسلام میں عظیم مقام پر فائز ہیں، اللہ ان پر رحم کرے، انہیں اسلام کی وجہ سے بہت تکلیفیں اور مصیبتیں پہنچیں، اللہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے۔‘‘ (ابن میثم شرح نہج البلاغۃ، ص: ۴۸۸ ، مطبوعہ ایران)
’’منتہی الآمال‘‘ میں ہے کہ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ  اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ  کے درمیان معاہدہ طے پارہا تھا تو ان میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ  کی طرف سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ : 
’’وہ لوگوں کے تمام فیصلے و احکامات اللہ کی کتاب ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور خلفائے راشدینؓ (چاروں خلفاء) کی سیرت کے مطابق کیا کریں گے۔‘‘  (منتہی الآمال، ج:۲،ص: ۲۱۲، مطبوعہ ایران)
سیدناحسن رضی اللہ عنہ  سے ہی منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ابوبکرؓ مجھے اپنے جسم کی طرح عزیز ہے۔‘‘ (معاني الأخبار،صفحہ: ۱۱۰، مطبوعہ: ایران)
امام باقر رحمۃ اللہ علیہ سے ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا فاروق اعظمؓ کے متعلق آپ کا کیا عقیدہ ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: 
’’بالتحقیق میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں اور ان کے لیے استغفار کرتاہوں، کیوں کہ میں نے اپنے اہل بیتؓ میں سے کسی کو نہیں دیکھا جو ان دونوں سے محبت نہ کرتاہو۔‘‘  (محض الصواب لابن المبرد، ص: ۲۳۷ )
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا  کی لختِ جگر سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا  کا نکاح سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ  کے ساتھ ہوا تو حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کا اپنی ہمشیرہ کے ہاں آنا جانا رہتا تھا۔ ابن ابی شیبہؒ نے اپنی سند کے ساتھ لکھا ہے کہ : 
’’سیدنا حسنین کریمینؓ اپنی بہن امِ کلثومؓ کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے، اس حالت میں کہ بعض اوقات وہ اپنے سر کے بالوں میں کنگھی کررہی ہوتی تھیں۔‘‘  (المصنف لابن أبي شیبۃ، ج: ۴، ص:۳۳۶ ،طبع: دکن)
فقہاء نے اس سے مسئلہ اخذ کیا کہ اپنی بہن یا بیٹی کے بالوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔
ایک مرتبہ سیدناعلی المرتضیٰ  رضی اللہ عنہ  نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ  کو مخاطب کرکے فرمایا کہ : 
’’اے عثمان ! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ابوبکرؓ و عمرؓ سے قرابت اور رشتہ داری میں زیادہ قریب ہیں کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دامادی کا شرف پایا ہے۔‘‘   (نہج البلاغۃ، ج:۱ ، ص: ۳۰۳)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ  کے متعلق سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ  کا قول ’’نہج البلاغۃ‘‘ میں موجود ہے کہ: 
’’آپ امیر علیہ السلام کا فرمان ہے، جس کو آپ نے تمام ممالک میں روانہ فرمایا تھا، اس فرمان میں امیر اُن واقعات کو بیان کرتےہیں جو اُن کے اور اہلِ صفین کے درمیان واقع ہوئے: ’’اور ابتدا ہمارے واقعات کی یہ ہوئی کہ ہم میں اور اہلِ شام میں جنگ ہوئی اور ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک ،ہمارا اور ان کا نبی ایک ،ہماری اور ان کی دعوتِ اسلام ایک ،نہ ہم ایمان باللہ اور تصدیق بالرسول میں ان سے زیادہ اور نہ وہ ہم سے زیادہ، پس معاملہ ہمارا اور ان کا ایک ہے ،صرف خونِ عثمانؓ کے بارے میں ہمارا اور ان کا اختلاف پڑ گیا تھا، حالانکہ خداکی قسم میں اس سے بالکل پاک و صاف ہوں ۔‘‘   (نہج البلاغۃ:شرح شیخ محمد عبدہ، ج:۳،ص:۱۱۴ ،طبع: بیروت)
مضمون کی طوالت سے بچنے کے لیے ان چند اقوال پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے، ورنہ اس طرح کے واقعات سے کتابیں بھری پڑی ہیں اور یہ اقوال و اعمال ہمارے اس عہد حاضر میں جتنے قابلِ تقلید اور قابل عمل ہیں، شاید ہی ان کی ضرورت و اہمیت کسی دور میں اتنی زیادہ ہو، یہ واقعات یہ سکھاتے ہیں کہ اگر اختلاف ہوبھی جائے تو کسی کی تکریم کم نہیں ہونی چاہیے، انہی واقعات سے سبق ملتا ہے کہ مخالفت کی آڑ میں اخلاقیات کو پس پشت نہیں ڈالنا چاہیے،یہی چیزیں ہمیں سبق سکھاتی ہیں کہ ذاتی رجحانات آپ کو حقائق مسخ کرنے پر نہ اُبھارسکیں، یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ اختلاف میں شریعت کے تقاضوں کو نہیں بھولنا چاہیے، انہی سے یہ بھی سبق حاصل ہوتا ہے کہ سچ کوکبھی بھی توڑ موڑ کر نہیں پیش کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و اہلِ بیت عظام رضی اللہ عنہم کا سچا پیروکار بنائے، آمین۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین