بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو الحجة 1447ھ 16 جون 2026 ء

بینات

 
 

تزکیہ و تصوف  حقیقت  -  ضرورت

تزکیہ و تصوف 

حقیقت  -  ضرورت


انسان کی تخلیق اور اس کی زندگی کا اصل مقصداپنے خالقِ حقیقی کی پہچان اور اس کی عبودیت کا حصول ہے، جس کے لیے باطن کی صفائی اور ظاہر کا موافقِ شریعت ہونابنیادی اورضروری چیز ہے، چنانچہ تصوّف (تزکیۂ نفس) کی حقیقت اور اصل مقصد بھی رذائل و اخلاق ذمیمہ سےدل کی پاکیزگی، روح کی اصلاح، اللہ تعالیٰ سے محبت، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی پیروی کرتے ہوئےاتباعِ شریعت میں کمال کا درجہ حاصل کرنا اور ان چیزوں کے حصول کے لیے غایت درجہ کا مجاہدہ کرنا ہے، حقیقی تصوّف وہی ہے جو قرآنی تعلیمات اور احادیث کی رہنمائی کے مطابق ہو، اور جس میں بدعات اور دیگر غیر شرعی خرابیاں نہ ہوں، جبکہ دوسری طرف قرآنی آیات و احادیث مبارکہ میں روحانی تربیت اور دل کی اصلاح پر بہت زور دیا گیا ہے، جو درحقیقت تصوّف کی اصل بنیاد ہے، لہٰذا مذکورہ بالا تناظر میں اگر دیکھا جائے تو تصوّف (طریقت) اور شریعت میں تلازم اور ہم آہنگی ثابت ہوتی ہے کہ تصوّف شریعت سے ہٹ کر کوئی نئی چیز نہیں، چنانچہ امام شہاب الدین سہروردی بغدادیؒ نے اپنی کتاب’’ عوارف المعارف‘‘ میں حضرت جنید بغدایؒ سے تصوّف کی تعریف بھی یہی نقل کی ہے کہ:
’’وقال الجنید: و قد سئل عن التصوّف فقال: ’’أن تکون مع اللہ بلاعلاقۃ۔‘‘  (عوارف المعارف، ص:۳۷، ط:دار الکتب، بشاور)
’’تصوف یہ ہے کہ بغیر کسی ذاتی غرض کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کا براہِ راست تعلق جڑ جائے۔‘‘
اسی طرح حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نور اللہ مرقدہٗ اپنی کتاب’’شریعت و طریقت‘‘ میں فرماتے ہیں کہ:

’’شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی تعریف اور باہمی تعلق

شریعت احکامِ تکلیفیہ کے مجموعہ کا نام ہے، اس میں اعمال ظاہری اور باطنی سب آگئے اور متقدمین کی اصطلاح میں لفظ فقہ کو اس امر کا مرادف (ہم معنی) سمجھا جاتا ہے، جیسے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے فقہ کی یہ تعریف منقول ہے: ’’معرفۃ النفس مالہا وما علیہا‘‘ یعنی ’’نفس کے نفع اور نقصان کی چیزوں کو پہچاننا۔‘‘
 پھر متاخرین کی اصطلاح میں شریعت جزو متعلق باعمالِ ظاہرہ کا نام ’’فقہ‘‘ ہو گیا اور دوسرے جزو متعلق باعمالِ باطنہ کا نام ’’تصوّف‘‘ ہوگیا اور ان اعمالِ باطنی کے طریقوں کو ’’طریقت‘‘ کہتے ہیں، پھر ان اعمال کی درستی سے قلب میں جو جلاء اور صفاء پیدا ہوتا ہے، اس سے قلب پر بعض حقائقِ کونیہ متعلقہ اعیان و اعراض (یعنی حقائق ولوازمات) بالخصوص اعمالِ حسنہ وسیئہ و حقائقِ الٰہیہ صفاتیہ وفعلیہ بالخصوص معاملات بین اللہ اور بین العبد (یعنی جو معاملات اللہ اور بندے کے درمیان ہیں)وہ منکشف ہوتے ہیں، ان مکشوفات کو ’’حقیقت‘‘ کہتے ہیں اور اس انکشاف کو ’’معرفت‘‘ کہتے ہیں اور اس صاحبِ انکشاف کو ’’محقق‘‘ اور ’’عارف‘‘ کہتے ہیں، پس یہ سب امور متعلق شریعت کےہی ہیں ۔
اور عوام میں جو یہ شائع ہو گیا ہے کہ شریعت صرف جزو متعلق باحکامِ ظاہرہ کو کہتے ہیں، یہ اصطلاح کسی اہلِ علم سے منقول نہیں اور عوام کے اعتبار سے اس کا منشا بھی صحیح نہیں کہ وہ ظاہر اور باطن میں اعتقادِ تنافی یعنی (ظاہر اور باطن میں اختلاف کا قائل ہونا ہے)، واللہ اعلم۔
 تصوّف کے اصولِ صحیحہ قرآن اور حدیث میں سب موجود ہیں اور یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ تصوّف قرآن اور حدیث میں نہیں ہے، بالکل غلط ہے، یعنی غالب صوفیوں کا بھی یہی خیال ہے اور خشک علماء کا بھی کہ تصوف سے قرآن و حدیث خالی ہیں، مگر دونوں غلط سمجھے۔ خشک علماء تو یہ کہتے ہیں کہ تصوف کوئی چیز نہیں، یہ سب واہیات ہیں، بس نماز روزہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے، اس کو کرنا چاہیے، یہ صوفیوں نے کہاں کا جھگڑا نکالا ہے؟! تو گویا ان کے نزدیک قرآن و حدیث تصوّف سے خالی ہیں ۔
اور غالی صوفی یوں کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں تو ظاہری احکام ہیں، تصوف علم باطن ہے، ان کے نزدیک نعوذ باللہ قرآن و حدیث ہی کی ضرورت نہیں۔ غرض دونوں فرقے قرآن و حدیث کو تصوف سے خالی سمجھتے ہیں، پھر اپنے اپنے خیال کے مطابق ایک نے تو تصوف کو چھوڑ دیا اور ایک نے قرآن و حدیث کو۔
اے صاحبو! کیا غضب کرتے ہو، خدا سے ڈرو۔ اس کے متعلق میں نے اس مضمون پر دو مستقل کتابیں لکھی ہیں ایک تو ’’حقیقۃ الطریقت‘‘ جس میں مسائل تصوف کی حقیقت احادیث سے ثابت کی گئی ہے۔ ایک رسالہ مستقل ’’مسائل السلوک‘‘ جس میں صاف طور پر ظاہر کیا گیا ہے کہ تصوف کے مسائل قرآن مجید سے بھی ثابت ہیں۔ ان دونوں کتابوں سے معلوم ہوگا کہ قرآن و حدیث تصوف سے لبریز ہیں اور واقعی وہ تصوف ہی نہیں جو قرآن و حدیث میں نہ ہو۔
 غرض جتنے صحیح اور مقصودی مسائل تصوف کے ہیں، وہ سب قرآن و حدیث میں موجود ہیں ۔ (ماخوذ از ’’شریعت و طریقت‘‘، ص:۳۵، ۳۴، ط:مکتبۃ الحق) 
جبکہ اس مضمون کا خلاصہ حدیث جبرائیلؑ میں بھی بخوبی واضح ہے کہ حضرت جبرائیل  علیہ السلام  نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ: احسان کیا چیز ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو جیسے اس کو دیکھ رہے ہو، لہٰذا طریقت دراصل اس احسان ہی کا ایک نام ہے یا تحصیلِ صفت احسان کا طریقہ ہے، اسی کو تصوف اور سلوک کہتے ہیں یا جو چاہے نام رکھ دیا جائے، یہ سب تعبیرات ہیں۔
اسی طرح شیخ الحدیث حضرت علامہ الشیخ زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’شریعت وطریقت کا تلازم‘‘ میں شیخ الاسلام مولانا مدنی نور اللہ مرقدہٗ کے حوالے سے نقل کر کے فرماتے ہیں کہ: 
حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی نوّر اللہ مرقدہٗ کے مکاتیب میں بھی کثرت سے اس پر زور دیا گیا ہے کہ مقصودِ اصلی سلوک سے احسان ہے، وہ ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:
’’ میرے محترم! مقصودِ اصلی سلوک سے احسان ہے: ’’أن تعبد اللہ کأنک تراہ‘‘الحدیث
 یعنی سالک میں ملکہ راسخہ پیدا ہو جائے، یہ مبدأ ہے، اور باعتبار نہایت کے رضائے باری عز اسمہ کا حصول ہے:

فراق و وصل چہ خواہی رضائے دوست طلب
کہ حیف باشد ازو غیر ازیں تمنائے

یعنی فراق و وصل کو کیا ڈھونڈتا ہے، محبوب کی رضامندی ڈھونڈ کہ محبوب سے محبوب کے سوا کی تمنا بڑے افسوس کی بات ہے۔
یہ کوشش کرنا کہ اللہ تعالیٰ سے محبتِ صادقہ پیدا ہو جائے اور وہ بڑھتے بڑھتے اتنی ہو جائے کہ ماسوا کا تعلقِ قلبی منقطع ہو جائے، یہ اور اس کی مؤیدات وذرائع سب کے سب وسائل ہیں، ریاضات اور اصلاحِ اخلاق بھی اسی قسم سے ہے۔ متقدمین صوفیہ اصلاحِ اخلاق کو مقدم سمجھتے ہیں اور بسا اوقات اس میں سالہا سال خرچ کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بسا اوقات وصول الی اللہ سے پہلے ہی موت آ جاتی ہے اور انسان کو اس نعمت سے محرومی کی حالت میں دنیا سے سفر کرنا پڑتا ہے۔ متاخرین نے اس میں تدبر سے کام لیا، وہ وصول الی اللہ اور توجہ الی الذات المقدسہ کو مقدم فرماتے ہیں اور اس رابطہ میں انہماک کرا کر حضورِ دائم کو پیدا کرتے ہیں اور اس میں ملکہ کو رسوخ و قوت دیتے ہیں اور جس کی وجہ سے اخلاقِ ذمیمہ اور رذائل ایک ایک کرکے زائل ہو جاتے ہیں۔ بہرحال آپ توجہ الی الذات المقدسہ میں ہمیشہ کشاں رہیں، خواہ ذاتِ محضہ کی طرف یا بیعت باعتبار صفت من صفاتہ الکاملہ اور ’’الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ دَائِمُوْنَ‘‘ کا حال قائم رکھیں، انسان کے اعمال میں نقائص کا ہونا فطری امر ہے، مگر انسان کا فریضہ ہے کہ نقائص کے ازالے میں کوشاں رہے اور ’’اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ ہر نماز میں اخلاص سے کہتا رہے۔
اسی طرح حضرت شیخ حضرت مدنیؒ سے ہی نقل کر کے فرماتے ہیں کہ اکابر کے کلام میں بہت تصریح اس بات کی ہے کہ اصل مقصود درجۂ احسان کا حاصل کرنا ہے اور یہ مجاہدات و ریاضات جو صوفیوں نے تجویز کیے ہیں، وہ امراضِ قلوب کی وجہ سے تجویز کیے ہیں، جیسا کہ امراضِ بدنیہ میں نئے نئے امراض پیدا ہوتے ہیں اور اس کے لیے ڈاکٹر،حکیم نئی نئی ادویہ تجویز کرتے رہتے ہیں، جیسا ان کے متعلق یہ شبہ نہیں ہوتا کہ یہ بدعت ہے، ایسا ہی ان علاجوں کے متعلق یہ تجویز کرنا کہ یہ بدعات ہیں، یہ ناواقفیت ہے، وہ تو اصل مقاصد ہیں ہی نہیں، وہ تو خاص خاص امراض کے خاص خاص طریقۂ علاج ہیں۔
اسی طرح آگے جاکر حضرت شیخ  ؒ فرماتے ہیں کہ: حضرت قطب الارشاد گنگوہی نور اللہ مرقدہٗ کا ارشاد مولانا میرٹھیؒ نے حضرت کی سوا نح ’’تذکرۃ الرشید‘‘ جلد دوئم ص: ۱۱ میں لکھا ہے کہ:
’’صوفیاء کا علم نام ہے ظاہر و باطن، علم دین و قوتِ یقین کا اور یہی اعلیٰ علم ہے، صوفیاء کی حالت اخلاق کا سنوارنا اور ہمیشہ خدا کی طرف لو لگائے رکھنا ہے،تصوف کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے اخلاق سے مزین ہونا اور اپنے ارادے کا چِھن جانا اور بندے کا اللہ تعالیٰ کی رضا میں بالکلیہ مصروف ہو جانا ہے۔ صوفیاء کے اخلاق وہی ہیں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق ہے، حسبِ فرمانِ خداوند تعالیٰ کہ: ’’بے شک تم بڑے خلق پر پیدا کیے گئے ہو۔‘‘ اور نیز جو کچھ حدیث میں آیا ہے اس پر عمل اخلاقِ صوفیاء میں داخل ہے۔ (ص: ۱۰۲، ۱۰۳، ۱۰۴، ۱۱۵، شریعت و طریقت کا تلازم، مکتبۃ الشیخ، بہادر آباد، کراچی)

تصوّف سے انکار اور اس کو شرک سمجھنا

لہٰذا ایسے تصوّف کا انکار کرناجو حق تعالیٰ شانہ کے ساتھ تعلق جوڑنے کا سبب ہو،یا اس کو سراسر باطل یا دین سے خارج سمجھنے کا نظریہ رکھنا اور اس کو شرک کہنادرست نہیں اور شریعت کی تعلیمات کے منافی اور گمراہی کا سبب ہے۔

حوالہ جات

کما في القرآن الکریم: ’’یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَاۗءَکَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللہِ شَـیْـــــًٔــا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَہُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُہْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْہِنَّ وَاَرْجُلِہِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْہُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَہُنَّ اللہُ ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ‘‘ (المُمْتَحِنَۃ:۱۲)
’’قَدْ اَفْلَحَ مَن زَکّٰیہَا  وَقَدْ خَابَ مَن دَسّٰیہَا‘‘ (الشَّمْس)
 وفي سنن النسائي :(کتاب البیعۃ،البیعۃ علی الجہاد)،(۲/۶۲۳)، ط:مکتبہ لدھیانوی:
عن ابن شہاب قال: حدثني إدریس الخولاني، أن عبادۃ بن الصامت قال: ’’إن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم قال، وحولہ عصابۃ ‌من ‌أصحابہ: ‌تبايعوني علی أن لا تشرکوا باللہ شيئا ولا تسرقوا ولا تزنوا ولا تقتلوا أولادکم ولا تأتوا ببہتان تفترونہ بين أيديکم وأرجلکم ولا تعصوني في معروف، فمن وفی فأجرہ علی اللہ، ومن أصاب منکم شيئا فعوقب بہ فہو لہ کفارۃ، ومن أصاب من ذلک شيئا ثم سترہ اللہ فأمرہ إلی اللہ إن شاء عفا عنہ، وإن شاء عاقبہ.‘‘
وفي عوارف المعارف:(ص:۳۶)،ط:دار الکتب بشاور:
’’أبومحمد الجریري یقول:سمعت الجنیدؒ یقول:ما أخذنا التصوّف عن القیل والقال، و لٰکن عن الجوع و ترک الدنیا و قطع المألوفات والمستحسنات.‘‘

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین