بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو الحجة 1447ھ 16 جون 2026 ء

بینات

 
 

ترجمہ نگاری کے اُصول و ضوابط

ترجمہ نگاری کے اُصول و ضوابط

’’ترجمۃ‘‘ باب ’’فعللۃ‘‘ کا مصدر ہے، اس کا معنی ہے: کسی زبان کا دوسری زبان میں معنی بتانا۔ اسی سے ترجمان اور مُترجِم کے الفاظ ترجمہ کرنے والے کے لیے بولے جاتے ہیں۔ کسی جماعت، حکومت یا شخصیت کے ذاتی ترجمان کے لیے عربی زبان میں ’’المتحدِّث باسم فلان‘‘ یا ’’الناطق الرسميُّ‘‘ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔

ترجمہ کی تعریف

ترجمہ کی اصطلاحی تعریف میں اختلاف ہے:
۱-ـ بعض کےہاں ترجمہ کسی بات کوعربی زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنےکا نام ہے، جب کہ تعریب غیر عربی زبان کی بات کو عربی زبان میں منتقل کرنے کا نام ہے۔
۲-ـ بعض کےہاں کسی بھی زبان سےدوسری دوسری زبان میں جذبات، احساسات، خیالات، افکار، احوال اور علوم وفنون کی معلومات کو منتقل کرنےکا نام ترجمہ ہے۔ جس زبان سے ترجمہ کیا جائے اسے مترجَم منہ زبان اور جس میں ترجمہ کیا جائے اس کو مترجَم الیہ زبان کہتے ہیں۔ جب کہ تعریب اس سے بالکل الگ تھلگ مفہوم رکھتاہے، وہ یہ کہ کسی بھی عجمی زبان کےاسماء میں معمولی تغیر وتبدل کرکے اسےعربی زبان میں منتقل کرکے استعمال کرنا تعریب کہلاتاہے، جیسے: ڈیموکریٹک یونانی زبان کا لفظ ہے، عرب نے اسے عربی میں منتقل کرکے اسے ’’ديموقراطیۃ‘‘ بنایا، اسی طرح کمپیوٹر انگریزی کا لفظ ہے، اسے کمبیوتر بناکر استعمال کیا۔

ترجمہ کی اہمیت وفوائد

ترجمہ دراصل ایک ایسا ذریعہ ہے جو ایک زبان کے علمی وادبی یا دوسرے کسی بھی تحریری سرمایہ کو دوسری زبان میں منتقل کر دیتا ہے۔ اس کی اہمیت اس سے واضح ہوتی ہے کہ اس کی بدولت ایک قوم دوسری قوم کی علمی و فکری کاوشوں، اورتجربات سے فائدہ اُٹھاتی ہے۔
ترجمہ نگاری عربی ادب کے اہم ترین فنون میں شمارکی جاتی ہے، اس سےکاتب کو مختلف مصادر تک رسائی ملتی ہے، جس سے کاتب کی تحریر میں وسعت اور آفاقیت پیدا ہوتی ہے، یہی وجہ ہےکہ کسی نے کہا ہے: ’’الکاتب الذي لايَعرِفُ لُغَۃَ غَيرِہٖ لايَعرِفُ لغۃَ اُمِّہٖ‘‘ جو کاتب شخص صرف اپنی ایک زبان جانتاہے، وہ اپنی زبان کی ساخت، خوبیوں اور کمزوریوں کو گہرائی سے نہیں سمجھ پاتا، کیوں کہ دوسری زبانیں سیکھنےسےذہن میں موازنہ اور معیار پیدا ہوتا ہے، اور اس سے اپنی مادری زبان کو سمجھنے اور درست لکھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

ترجمہ کی اقسام

ترجمہ کی پانچ قسمیں ہیں: 
۱- لفظی ترجمہ۔         ۲- آزاد ترجمہ۔         ۳- لفظی اور آزاد کے بین بین ترجمہ۔ 
۴-تشریحی ترجمہ۔         ۵-ملخّص ترجمہ۔

۱-لفظی ترجمہ

وہ ہے جس میں ترجمہ نگار مترجَم منہ زبان کےالفاظ اور کلمات کا پابند ہو، اس میں کمی بیشی نہ کرے۔

۲- آزاد ترجمہ

وہ ہے جس میں ترجمہ نگار مترجَم منہ زبان کی عبارت پڑھ کر سمجھ لے، اس کے بعد اپنی سوچ دوسری زبان میں منتقل کردے، جس میں وہ کمی زیادتی بھی کرے، اس قسم میں ترجمہ نگار مترجَم منہ زبان کےالفاظ کا پابند نہیں ہوتا۔ یہ فصیح ترجمہ کہلاتا ہے۔

۳- لفظی اور آزاد کے بین بین ترجمہ

یہ ترجمہ کی وہ قسم ہے، جس میں ترجمہ نگار ترجمہ کرنےکےبعد کلام کو مرتب اور مہذب بنائے، اور اسے اس اندازسے ڈھالے جس سے اس کا ترجمہ ہونا معلوم نہ ہو، بلکہ قاری یہ سمجھےکہ یہ اسی زبان کا ایک مستقل کلام ہے۔

۴- تشریحی ترجمہ

یہ وہ قسم ہےجس میں ترجمہ نگار مترجَم منہ زبان کے الفاظ وعبارات کےترجمہ کےساتھ ساتھ کچھ تشریحی کلمات بھی شامل کرے، جس سےترجمہ کی مزیدوضاحت ہوجائے، اور الگ سےاس عبارت کی تشریح کی ضرورت نہیں ہوتی۔

۵- ملخص ترجمہ

یہ ترجمہ کی وہ قسم ہے، جس میں ترجمہ نگار مترجَم منہ زبان کی نص کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کرے، اس میں مترجَم منہ زبان کے الفاظ وعبارات کا پابند نہ ہو، اس میں اپنی صواب دید کےمطابق تقدیم وتاخیر بھی کرے۔

ترجمہ نگار کے لیے ضروری ہدایات

ترجمہ نگار کو متن کی زبان پر کامل دست گاہ ہونی چاہیے؛ کیوں کہ اسے ترجمے میں محض مفہوم کوہی منتقل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس تأثر اور کیفیت کو بھی ترجمے کا حصہ بنانا ہے جو کہ متن کی زبان میں پائی جاتی ہے۔ یہ کام آسان نہیں ہے، اس کے لیے ترجمہ نگار کو تخلیق یا تصنیف کی زبان سے کما حقہ واقف ہونا ضرور ی ہے۔ اس واقفیت کے تحت درج ذیل چیزیں آتی ہیں:

1-مفہومی ترجمہ

ترجمہ نگار کےلیےضروری ہےکہ وہ کسی بھی زبان کا ادبی اور فصیح ترجمہ کرے، جس سے مترجَم منہ زبان کا معنی ومفہوم مکمل طور پر واضح ہوسکے۔ بعض اوقات لوگ کسی مضمون کا لفظی ترجمہ کردیتےہیں جس سے مفہوم کچھ کاکچھ بن جاتاہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔

2-قواعد سے واقفیت

کسی بھی زبان کو کامل صحت کے ساتھ لکھنے اور بولنے کے لیے اس کے قواعد سے واقف ہونا ضروری ہے۔ ایک ترجمہ نگار کو بھی مترجَم منہ زبان سے واقف ہونا چاہیے؛ کیوں کہ اگر اسے واقفیت نہ ہو تو جملوں کی ساخت اور ترکیب کے فرق کو محسوس نہ کر سکے گا، مثلاً: عربی زبان کے قواعد کے مطابق جملہ فعلیہ میں پہلے فعل، پھر فاعل اور پھر متعلقات ( مفعول بہ/ جار مجرور وغیرہ) آتے ہیں، اس قاعدے کے مطابق جملہ اس طرح بنے گا: ’’ذَہَبَ حَامدٌ إلی المنزل‘‘ (حامد گھر گیا)۔
اس جملہ کا ترجمہ کرتے وقت اردو قواعد کی پابندی کی گئی ہے، یعنی پہلے فاعل پھر متعلق اور اس کے بعد فعل لایا گیا ہے۔ اگر ترجمہ کے وقت اردو کے قواعد کو فراموش کر دیا جاتا تو ترجمہ عجیب و غریب ہوجاتا۔ معلوم ہواکہ ترجمہ میں قواعد سے واقفیت ضروری ہے۔

3-محاوروں اورکہاوتوں سے واقفیت

ہر زبان میں محاوروں اور کہاوتوں کا ذخیرہ ہوتا ہے، یہ اُس زبان کے لیے شناخت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ایک ترجمہ نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان محاوروں اور کہاوتوں کے لغوی اور مرادی معنی، نیز ان کے پس منظرسے واقف ہو۔
محاوروں اور کہاوتوں کے ترجمے کے وقت دیکھا جائے کہ کیا مترجَم الیہ زبان میں اس کی متبادل کوئی کہاوت موجود ہے؟ اگر ہو تو اس کہاوت یا محاورہ سے اس کا ترجمہ کر دیا جائے، مثال کے طور پر عربی کی کہاوت ہے: ’’اَحَشَفًا وَسُوْءَ کِيْلَۃٍ‘‘ یہ کہاوت کسی چیز میں دوہری خرابی موجود ہونے کے وقت بولی جاتی ہے۔ (حَشَف کامعنی: خراب کھجورجوپکنےسےپہلےسوکھ جاتی ہے۔ سُوْءَ کِيْلَۃٍ     کامعنی: تول میں کمی۔ ضرب المثل کا معنی یہ ہوا کہ: ’’خراب کھجوریں تو دےہی رہے ہو، تول بھی پورا نہیں‘‘ اس کا ترجمہ اردو کی اس کہاوت سے کیا جاسکتا ہے: ’’کر یلا اور نیم چڑھا‘‘، اردو میں یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب ایک چیز میں پہلے سے ایک برائی موجود ہو اور اس پر مزید ایک اور برائی کا اضافہ ہوجائے؛ کیوں کہ کریلا ویسے بھی بہت کڑوا ہوتا ہے، اور نیم بھی بہت کڑوا درخت ہے، اگر کریلا نیم پر چڑھ جائے تو گویا کڑواہٹ اور زیادہ بڑھ جائے گی، اسی کےلیے کہاجاتاہے: ’’کریلا اور نیم چڑھا۔‘‘
اور اگر مترجَم الیہ زبان میں کہاوت کا متبادل نہ ہو تو اس کے مرادی معنی کا ترجمہ کر دیا جائے، اور لفظی ترجمہ سے گریز کیا جائے؛ کیوں کہ لفظی ترجمہ مضحکہ خیز ہوگا، مثال کے طور : ’’لِلْعُلَمَاءِ نَصِيْبُ الْاَسَدِ فِيْ تَحريْرِ الْبِلَادِ‘‘ علماء کا ملک کی آزادی میں بڑا کردار ہے۔ اس مثال میں ’’نَصِيْبُ الْاَسَدِ‘‘ کا لفظی ترجمہ شیر کا حصہ کرنا غلط ہوگا؛ کیوں کہ یہ لفظی ترجمہ ہوگا، جب کہ  ’’نَصِيْبُ الْاَسَدِ‘‘ کا اردو میں بامحاورہ ترجمہ ’’اچھے کردار‘‘ سے کیا جاتا ہے۔

4-تشبیہات اور استعارات سے واقفیت

تشبیہات و استعارات کسی بھی زبان کے ادبی پیرایۂ اظہار کا لازمی جز ہوتے ہیں، ترجمہ نگار کو زبان کے مزاج کا رمز شناس ہونا چاہیے، اور مترجَم الیہ زبان میں استعمال ہونے والی تشبیہات و استعارات سے واقف ہونا چاہیے، یہ استعارات و تشبیہات ہر زبان میں الگ الگ ہوتی ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ مترجَم منہ زبان میں جس چیز کو مشبہ بہ بنایا گیا ہو تو مترجَم الیہ زبان میں بھی وہی مشبہ بہ ہو، مثال کے طور پر عربی زبان میں کسی میدان کی عظیم اور قد آور شخصیت کے لیےلفظ ’’عملاق ‘‘ استعمال کیا جاتا ہے ، یہ واحد ہے، اس کی جمع ’’عمالقۃ ‘‘ ہے۔ در اصل ’’عمالقۃ‘‘ نام کی ایک قوم تھی کہ جس کے افراد دیوقامت اور قوی ہیکل ہوتے تھے؛ اسی لیے یہ لفظ عظیم شخصیت کے لیے مستعار لیا گیا ہے، مثلاً: ’’ہم عمالقۃ الفکر والأدب‘‘ لیکن اردو زبان میں کسی چیز کی بڑائی کے لیے ’’ہمالیہ‘‘ کا استعارہ بھی استعمال کیا جاتا ہے، چنانچہ ہمالیائی شخصیت، اور ہمالیائی غلطی بولتے ہیں، اسی لیےاس جملے کا اردو میں اس طرح ترجمہ کیا جا سکتا ہے: ’’وہ فکر و ادب کی ہمالیائی شخصیتیں ہیں۔‘‘

5-اسماء سے واقفیت

ہر زبان میں چیزوں، مقاموں اور علاقوں کے لیے مخصوص نام ہوتے ہیں، ترجمہ نگار اگر اُن سے واقف ہو تو اسے ان کا ترجمہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے اسماء زبان کے مزاج اور قواعد کے اعتبار سے مختلف شکلیں اختیار کرلیتے ہیں۔

6-مترادفات سے واقفیت

ترجمہ نگارجب ترجمہ کرتے وقت کسی لفظ کے معنی کے لیے لغت کے صفحات پلٹتا ہے تو اسے متعدد الفاظ سے سابقہ پڑتا ہے، اب یہ اس کی فہم اور زبان سے واقفیت پر منحصر ہے کہ وہ ان میں سے اس لفظ کا انتخاب کرے جو بر محل مناسب اور باموقع ہو؛ کیوں کہ بظاہر مترادفات حقیقت میں ہم معنی نہیں ہوتے، بلکہ ان میں دقیق فرق ہوتا ہے۔ اس فرق کو سمجھ کر لفظ کو اس کے مناسب محل میں استعمال کرنا ضروری ہے، مثال کے طور پر ’’الحجرۃ‘‘ اور ’’الغرفۃ‘‘ کے معنی کمرہ کے ہیں، بظاہر دونوں ہم معنی معلوم ہوتے ہیں، لیکن ان کےدرمیان فرق ہے، وہ یہ کہ زمین پر بنے ہوئے کمرہ کو ’’الحجرۃ‘‘ جب کہ اوپر کی منزل میں بنے ہوئے کمرے کو ’’الغرفۃ‘‘کہتے ہیں۔
اسی طرح بعض الفاظ مشترک ہوتے ہیں، یعنی لفظ ایک ہوتا ہے اوراس کےکئی معانی ہوتے ہیں، مثال کے طور پر ’’السيارۃ‘‘ کے دو معنی ہیں: ۱- قافلہ: آیتِ کریمہ: ’’ وَجَاءَتْ سَيَّارَۃٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَہُمْ‘‘ (یوسف: ۱۹) میں ’’سیارۃ‘‘ اسی معنی میں استعمال ہے۔ ۲- ٹیکسی، کار: اب یہ ترجمہ نگار پر ہے کہ وہ عبارت کےسیاق و سباق کو دیکھ کر یہ طے کرے کہ یہاں کونسا معنی مراد ہے۔
نیز اسی طرح زبانوں میں اضداد ( متضاد معانی والے الفاظ) بھی ہوتے ہیں، جن کے باہم متضاد معنی ہوتے ہیں، عربی زبان میں ایسے الفاظ کی بڑی تعداد ہے، مثال کے طور پر لفظ ’’وَرَاء‘‘ کے دو معنی ہیں: ۱- سامنے۔ ۲- پیچھے۔ اس قسم کے الفاظ کے ترجمہ کے وقت بھی ترجمہ نگار کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ دو متضاد معنی میں سےکونسا معنی یہاں مطلوب ہے۔

7- قدیم تراجم سےاستفادہ

ترجمہ نگار کےلیےضروری ہےکہ گزشتہ اہلِ فن مترجمین کی ترجمہ کی ہوئی ادبی کتب سےاستفادہ کرے، اسےمسلسل مطالعہ میں رکھے، اس کےلیےمختلف قدیم وجدید ترجمے اور ان کی کتابوں کی اصل عبارات کو غور سے پڑھے، عنوانات کے ترجموں پر غور کرے، مختلف ادبی تعبیرات کے انداز سمجھے۔
اس کےلیے علامہ ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب سےاستفادہ کرے؛ کیوں کہ ان کی بیشتر کتب اردو اورعربی دونوں زبانوں میں ہیں۔ ان میں سےکسی ایک کا انتخاب کرکے اسےپہلے اردو میں پڑھے، پھر اس کی عربی دیکھے، ذیل میں ان کی چندکتب ملاحظہ ہوں:
۱-’’رِجَالُ الْفِکْرِ وَالدَّعْوَۃِ‘‘ اس کا اردو ترجمہ: تاریخِ دعوت وعزیمت۔
۲- ’’إِذَا ہَبَّتْ رِيْحُ الْإِيْمَانِ‘‘ اس کا اردو ترجمہ: جب ایمان کی بہارچلی۔
۳-’’السِّيْرَۃُ النَّبَوِيَّۃُ‘‘ اس کا اردو ترجمہ: نبیِ رحمت( صلی اللہ علیہ وسلم )۔
۴-’’مَاذَا خَسِرَ الْعَالَمُ بِانْحِطَاطِ الْمُسْلِمِيْنَ‘‘ اس کااردو ترجمہ: انسانی دنیا پرمسلمانوں کےعروج وزوال کےاسباب۔
۵-’’مَسِيْرَۃُ الْحَـيَاۃِ‘‘ اس کا اردو ترجمہ : کاروانِ زندگی۔ 
روزانہ کےاعتبار سےان مترجَم کتب سےاستفادہ کرتےرہیں۔

8- ماہرینِ فن کی تصحیح

ترجمہ نگارکےلیےضروری ہےکہ ابتدائی طور پر کسی ماہرِ فن باذوق وباصلاحیت انسان سے استفادہ کرتا رہے، اپنی ترجمہ کی ہوئی عبارات اور نصوص کی تصحیح ان سے کرالیا کرے، کچھ عرصہ میں ہی مزاج ومذاق سمجھ میں آجائے گا۔ یاد رہے کہ تصحیح کراتے وقت اپنے مُشرف کو اصل عبارت اور ترجمہ کردہ عبارت دکھایا کرے، تاکہ تصحیح کا کام انتہائی تسلی بخش ہو۔

9- امانت داری

افکار کو امانت داری کے ساتھ بغیر اختصار و حذف کے منتقل کرے، اس میں اپنی طرف سےکوئی رائے یا سوچ شامل نہ کرے۔

10- صبر

بسااوقات معانی کو حل کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ اس سے گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار نہ ہو، جب تک کسی پیچیدگی کو حل نہ کر لے، چین سے نہ بیٹھے، چاہے جتنا وقت لگ جائے۔

ترجمے کےمختلف مراحل

جب کسی مضمون یا کتاب کا ترجمہ کرنے کا ارادہ ہو تو اس کےلیےچند مراحل سے گزرنا ناگزیر ہے:
۱- کسی بھی جملہ، فقرہ یا عبارت کا ترجمہ کرتےوقت پہلےمترجم منہ زبان کےمفردات کا ترجمہ معلوم کرلیں، اس کےبعد اس جملہ میں جتنےافعال ہیں ان کامعنی معلوم کرلیں، اگر کوئی لفظ ایسا ہو کہ جس کے معنی معلوم نہ ہوں توقاموس کی مراجعت سے اُسے حل کر لیں اورآخر میں یہ طےکریں کہ جملہ کی نوعیت کیا ہے؟ فعلیہ ہے، اسمیہ ہے یا پھر جملہ انشائیہ ہے؟ اس کے بعد ترجمہ کو مترجم الیہ زبان کےاعتبار سےدرست کریں۔
۲- پہلے اسے پورا غور سے پڑھ لیا جائے، تاکہ اس کی بنیادی فکر ذہن میں آجائے۔ اس کے بعد اس کے ایک ایک پیراگراف کو لے کر ترجمہ کیا جائے، پیراگراف بار بار پڑھا جائے۔ یہ بار بار پڑھنا اس ارادے سے ہو کہ اس کو دوسری زبان میں منتقل کرنا ہے۔ اس طرح پڑھنے سے ذہن میں اس پیرا گراف کے الفاظ اور جملوں کی تعبیر بہتر سے بہتر آتی جائے گی اور ذہن میں ترجمہ تیار ہوگا۔
۳- اس کے بعدترجمہ نگار کو صرف یہ کرنا ہوگا کہ وہ قلم اُٹھائے اور ذہن میں تیار شدہ ترجمہ کاغذ پر اُتار دے۔ اب اسے اس میں حذف واضافہ کی ضرورت نہیں پڑے گی؛ کیوں کہ اس میں حذف واضافہ ذہنی عمل کے دوران ہو چکا ہوگا، گویا کہ ترجمہ تحریری عمل سے پہلے ایک ذہنی عمل ہے، یہی ترجمے کا صحیح طریقہ ہے۔ جو لوگ اس طریقے کے بجائے قلم اُٹھا کر یوں ہی ترجمہ شروع کردیتے ہیں تو عام طور پر اُن کے ترجمے میں خامی رہتی ہے۔
۴- مضمون کو مختلف اجزاء وعنوانات میں تقسیم کرلیاجائے، اس کےبعد ہر جز اور عنوان کا الگ الگ ترجمہ کرے، یہ طریقہ اس طریقہ کی بنسبت زیادہ آسان ہےجس میں موضوع کےتجزیہ کےبغیرترجمہ نگار اَلل ٹَپ ترجمہ شروع کرے، عموماً مبتدی کےلیے یہ طریقہ اختیار کرنا مفید ثابت ہوا ہے۔ موضوع کےاجزاء متعین کرنے کے بعد ہر جز کو الگ کرکے لکھ دے، اور اس میں خوب غور کرکے اس کےمعانی کو بلیغ عربی زبان میں منتقل کردے، اور اس کےبعد اسے اصل (مترجَم منہ زبان کی) عبارت کےساتھ جوڑدے، کمی بیشی حذف کرکے دوبارہ لکھ دے، اور سب سے آخر میں مترجَم منہ زبان کی عبارت سامنے سے ہٹاکر مترجَم الیہ زبان کے اصول وضوابط، اس کے زبان وبیان کو پیش نظر رکھ کر اس پر نظر ثانی کرے، املائی اغلاط دور کرے، گفتگو کی سلاست اور روانگی کو درست کرے، تاکہ قاری کو اس کےترجمہ ہونے کا گمان نہ ہوسکے۔
۵- جملے پیچیدہ اور طویل ہوں تو ترجمے میں انھیں چھوٹے جملوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
۶- محاورات اور امثال کا ترجمہ دوسری زبان کے محاورات و امثال سےکرنا بہتر ہے، ورنہ انھیں سادہ الفاظ میں بیان کر دینا چاہیے۔
۷- ترجمہ میں اصل کام خیالات کی صحیح ترسیل ہے، البتہ اسلوب رواں، شستہ اور جاذب ہو تو بہتر ہے۔
ترجمہ نگارکےلیے ضروری چیزیں
ترجمہ نگار کےلیے ضروری ہےکہ اس کےپاس درج ذیل چیزیں ہروقت موجود رہیں:
۱- لغات (ڈکشنریاں)۔۲- معجم اصطلاحات۔ ۳-معجم امثال و محاورات۔ ۴-معجم مترادفات و اضداد۔ ۵-مخصوص موضوعات کی معاجم: فقہ، معاشیات، طب، سائنس، ٹیکنالوجی۔ ۶-انسائیکلوپیڈیاز۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین