بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1448ھ 15 اگست 2026 ء

بینات

 
 

تدوینِ قرآن کے کچھ اہم گوشے

تدوینِ قرآن کے کچھ اہم گوشے


قرآن کریم کی مختلف ادوار میں مختلف خدمتیں ہوتی رہی ہیں، انہیں میں سے ایک خدمت قرآن کریم پر ہونے والے اعتراضات کا جواب بھی ہے، جس پر مختلف حضرات نے کام کیا ہے، مثلاً حفاظتِ قرآن مجید اور مستشرقین، قرآن مجید پر ملحدین کے سو اعتراضات اور ان کا جواب وغیرہ مختلف کتابیں لکھیں گئی ہیں ۔
 ذیل میں اس اشکال کو دور کرنے کی کاوش کی گئی ہے جو قرآن کریم کی تدوین و ترتیب کے متعلق ہوتا ہے کہ یہ قرآن کیسے مرتب ہوا؟ اور کن حضرات نے اس کو الفاظ و عبارات کی شکل میں مرتب کر کے کتابی شکل میں اقوامِ عالم کے ہاتھوں میں دیا؟ اس سے پہلے چند تمہیدی باتیں جاننا ضروری ہے، جس سے اصل موضوع کو سمجھنا آسان ہو۔

عہد نبوی میں جمعِ قرآن کا پہلا مرحلہ

عہد نبوی میں جمع قرآنی کی خدمت دو طریقہ سے ہوئی:
الف : حفظ کے ذریعے، لوگوں نے قرآن کریم اپنے سینوں میں محفوظ کیا ۔
ب : لکھنے کے ذریعے، قرآن کریم کو سطور میں بند کرکے محفوظ کیا گیا ۔
الف : بطور حفظ کےقرآن سینوں میں محفوظ کرنے کی تفصیل
قرآن کریم چونکہ یکبارگی مکمل نازل نہیں ہوا، بلکہ رفتہ رفتہ مختلف واقعات و حادثات کے تناظر میں نازل ہوتا رہا، کبھی سوال کے جواب کی صورت میں، تو کبھی فاسد اورغلط عقیدوں کی تردید میں اُترا، لیکن عہد نبوی میں اس کو مکمل ایک کتابی مجموعے کی شکل دینا محال تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ احکامات میں تدریج مقصود تھی، اور کچھ میں نسخ مقصود تھا، بہرحال دورِ نبوی میں کتابت سے زیادہ اللہ پاک نے قرآن کی حفاظت سینوں میں محفوظ کرکے فرمائی، اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُمی مبعوث ہوئے، ان لوگوں میں جن میں سے اکثر اُمی تھے (یعنی وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے) اور اُمیوں کا اکثر مدار حفظ پر ہوتا ہے، لیکن صحابہؓ میں کچھ وہ تھے جو کتابت سے خوب واقف تھے، انہوں نے بھی سینوں میں محفوظ کرنے میں کچھ دریغ نہ کیا، چنانچہ صحیح مسلم میں ہی حدیث قدسی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : 
’’وننزل عليک کتابا لا يغسلہ الماء۔‘‘
ترجمہ: ’’میں تم پر ایک ایسی کتاب نازل کرنے والا ہوں جسے پانی نہیں دھو سکے گا۔‘‘ (۱)
چنانچہ ابتدائے اسلام میں سب سے زیادہ زور حافظہ پر دیا گیا، صرف قرآن کی حفاظت اور یاد کی خاطر، جب وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے الفاظ کو اسی وقت دہراتے کہ کہیں بھول نہ جائے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
’’لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ  اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ‘‘ (۲)
’’اےپیغمبر! آپ (قبل وحی کے ختم ہو چکنے کے)قرآن پر اپنی زبان نہ ہلایا کیجئے، تاکہ آپ اس کو جلدی جلدی لیں، (کیونکہ) ہمارے ذمے ہے (آپ کے قلب میں)اس کا جمع کر دینا اور اس کا پڑھوادینا۔‘‘ (۳)
آیت کریمہ میں واضح طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ زبان کو زیادہ ہلانے اور الفاظ کو زیادہ دہرانے کی ضرورت نہیں، بلکہ ہم آپ کو یہ کلام یاد کرا دیں گے، چنانچہ یہی ہوا، ادھر قرآن نازل ہوتا اور ادھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد ہو جاتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو نوافل میں قرآن پڑھنے کا خوب اہتمام فرماتے، حتیٰ کہ جبرائیل  علیہ السلام  کو ہر سال ایک بار سناتے تھے، اور جس سال آپ کی وفات ہوئی، اس سال آپ نے دو مرتبہ قرآن کریم کا دور کیا۔ (۴)
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کو بھی قرآن یاد کراتے، اور ان کے معانی سکھاتے تھے، اور صحابہؓ بھی یاد کرنے میں خوب دلچسپی لیتے تھے، اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی فکر میں ہمیشہ لگے رہتے تھے، چنانچہ تھوڑی مدت میں صحابہ کرامؓ کی ایک ایسی جماعت تیار ہو گئی، جسے قرآن کریم ازبریاد ہوگیا، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حفاظِ قرآن کی اس جماعت میں حضرات خلفائے راشدین، حضرت طلحہ، حضرت سعد، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عمر وبن عاص، حضرت معاویہ، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت عبداللہ بن السائب، حضرت عائشہ، حضرت حفصہ، حضرت ام سلمہ، حضرت ام ورثہ، حضرت ابی بن کعب، حضرت معاذ بن جبل، ابو حلیمہ معاذ، حضرت زیدبن ثابت، حضرت ابو درداء، حضرت انس بن مالک، حضرت عقبہ بن عامر، حضرت تمیم داری، حضرت ابو موسیٰ اشعری، اور حضرت ابو زید رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے حضرات شامل تھے۔(۵)
ان کے علاوہ دیگر صحابہ کرامؓ بھی حافظ قرآن تھے۔ یہ تو وہ ہیں جن کا نام روایات میں آیا، ورنہ ان کے علاوہ اور بھی سیکڑوں صحابہؓ حاملین قرآن تھے۔ اس بات کی تائید عہد نبوی میں بئر معونہ والے واقعے سے ہوتی ہے جس میں ۷۰ حفاظ شہید ہوئے اور اس کے بعد عہد صدیقی میں جنگ یمامہ میں ۷۰۰ کے لگ بھگ افراد شہید ہوئے جو حافظ قرآن تھے، جیسا کہ ان کی تعداد بخاری میں مذکور ہے:
’’وکان عدۃ من قتل من القراء سبع مائۃ۔‘‘ (۶)
ترجمہ: ’’اس جنگ (یمامہ) میں شہید ہونے والے حفاظ کی تعداد ۷۰۰ تھی۔‘‘
یہ اس امتِ محمدیہ کا شرف ہے کہ قرآن کو اللہ نے ان کے سینوں میں محفوظ کیا۔ ان کی نقل کا مدار سینوں کے ساتھ ساتھ صحیفے پر بھی ہے، اللہ نے اس کی حفاظت خود بھی کی اور اس کی حفاظت کے ذرائع بھی مہیا کیے۔ ایک یہ کہ اس کے حفظ کو آسان کر دیا اور کتابت و سطور میں محفوظ کرنے کے ذرائع مہیا کیے، جیسا کہ قرآن میں ہے:
’’وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ‘‘ (القمر:۱۷)
جب اللہ نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے تو حفاظت اس کی دو طریقے سے کی: ایک صدور (حفظ) کے ذریعے، دوسرا سطور و نقوش کے ذریعے اور یہی ذرائع اس کی تحریف و تبدیلی سے بچنے کا سبب بنے۔

ب: عہدِ نبوی میں بطور کتابت محفوظ کرنے کی قدرے تفصیل
 

دوسری خصوصیت کتاب اللہ کی صحیفوں میں اس کا لکھنا اور جمع کرنا ہے، اور قرآن کریم کی ۱۱۴؍ سورتیں ۲۳ ؍سال کے عرصے میں بتدریج نازل ہوتی رہیں، مختلف مناسبتوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لکھوانے کا خوب اہتمام کیا، کتابتِ وحی کے لیے بعض صحابہ کرامؓ کو مختص کیا، جن میں درج ذیل نام قابل ذکر ہیں: خلفائے راشدین، زید بن ثابت، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، معاویہ بن ابی سفیان، اور دیگر بڑے صحابہ کرام رضوان اللّہ علیہم اجمعین جیسے افراد شامل تھے۔ یہ مشہور کاتبین وحی ہیں، ان کے علاوہ دیگر صحابہؓ نے بھی کتابتِ وحی کا خوب اہتمام کیا، کاتبینِ وحی کی تعداد چالیس تک شمار کی گئی ہے اور ان میں سے بعض صحابہ کرامؓ کا اپنا لکھا ہوا مصحف بھی تھا، جیسے: مصحف ابن مسعود، مصحف علی، مصحف عائشہ، وغیرہ، اور جب بتدریج نزول ہوتا رہا تو کوئی سورت پہلے مکمل ہوتی رہی، اور کوئی بعد میں، اور اس کے ساتھ آہستہ آہستہ کتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا اور صحابہ کرامؓ مسلسل اس کے لکھنے کا اہتمام فرماتے رہے۔ قرآن کریم کے قلم بند کرنے کا طریقہ کار ایک روایت میں یوں مذکور ہے :
’’وکان إذا نزل عليہ الشيء يدعو بعض من يکتب، فيقول: ضعوا ہٰذا في السورۃ التي يذکر فيہا کذا وکذا۔‘‘ (۷)
ترجمہ: ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیات کا نزول ہوتا تھا تو آپ بعض کاتبین کو بلا کر اُن سے کہتے کہ اس آیت کو اس سورت میں لکھو، جس سورت میں فلاں آیتیں یا فلاں باتیں ہیں۔‘‘
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کاتبین وحی کو سورتوں کی آیات کے متعلق جو ترتیب بتاتے تھے، وہ جبرائیل کے بتانے پر بتاتے تھے، جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام ہوا کرتا تھا، جیسا کہ مسند احمد کی روایت میں ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’أتاني جبرئيل فأمرني، الخ‘‘
ترجمہ:’’جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ اس آیت کو سورت کی فلاں جگہ پر رکھو۔‘‘ (۸)
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب لکھوا لیتے تو اس کے بعد خود سننے کا بھی اہتمام کرتے تھے، اور سن کر اگر کوئی لفظ درست نہ ہو تو اس کی تصویب فرماتے تھے، جیسا کہ کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ:
’’فإن کان فيہ سقط أقامہ۔‘‘ (۹)
ترجمہ: ’’اگر کوئی حرف یا نقطہ لکھنے سے چھوٹ جاتا، تو اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم درست کراتے۔‘‘
 اور جب یہ تمام کام مکمل ہو جاتے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اشاعتِ عام کا حکم دیا کرتے، تاکہ لکھنے والے اور صحابہؓ بھی لکھ لیں، یہی احتیاط بعد میں مددگار بنی ، عہد صدیقی میں انہی لکھے ہوئے نسخوں سے کام لیا گیا۔ بلاشبہ روایات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ عہدِ نبوی میں قرآن کریم کو مختلف چیزوں پر لکھا گیا، مثلاً: چمڑا، پتھر کی سفید پتلی پتلی تختیاں، اونٹ کے مونڈھے کی گول ہڈی، کھجور کی شاخوں کی جڑ کا وہ کشادہ عریض حصہ جس میں کانٹے والے پتے نہیں ہوتے، یہ اور اس جیسی چیزوں میں لکھا جاتا تھا، اور مستدرک حاکم کی روایت میں ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں کہ:
’’کنا عند رسول اللہؐ نؤلف القرآن من الرقاع۔‘‘ (۱۰)
ترجمہ: ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر چرمی قطعات (میں لکھے ہوئے قرآن) کی تالیف (مرتب) کرتے تھے۔‘‘
عہد صدیقی میں انہی مذکورہ بالا نوشتوں سے قرآن کو مصحف کی شکل میں مرتب کیا گیا، اور اگر بالفرض قرآن کی کتابت عہد نبوی میں نہ ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو دشمن کی زمین میں لے جانے سے کیوں کر منع فرماتے؟ اور کیوں فرماتے کہ: ’’کوئی شخص قرآن کے نسخے میں دیکھے بغیر تلاوت کرے، تو اس کا ثواب ایک ہزار درجہ ہے، اور اگر قرآن کے نسخے میں دیکھ کر تلاوت کرے، تو اس کا ثواب دوہزار درجے ہے۔‘‘ (۱۱)

عہد صدیقی میں جمعِ قرآن کا دوسرا مرحلہ

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جن متفرق چیزوں پر قرآن لکھا گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اصرار پر ان متفرق چیزوں کو یکجا کرکے سرکاری طور پر ایک قرآنی نسخہ مرتب کیا، جس کی تفصیل حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ یوں بیان کرتے ہیں کہ جنگِ یمامہ کے فوراً بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے طلب کیا، حاضر ہو کر دیکھتا ہوں کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ’’عمر نے ابھی آکر مجھ سے یہ بات کہی کہ جنگ یمامہ میں حفاظ کی ایک بڑی جماعت اوربڑی تعداد شہید ہوئی ہے، اگر اسی طرح ہوتا رہا تو مجھے قرآن کے ضیاع کا بڑا خوف ہے، لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ آپ اپنے حکم سے قرآن کریم کو جمع کروانے کا کام شروع کر دیں۔‘‘ میں نے عمر سے کہا:جو کام حضور رضی اللہ عنہ نے خود نہیں کیا وہ میں کیسے کروں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم! یہ کام یقیناً بہتر ہے۔ اور اب اللہ نے اس کام کے لیے میرے سینے کو کھول دیا ہے، جس کام کے لیے عمر کا سینہ کھول دیا تھا، لہٰذا اب میری رائے بھی وہی ہے جو عمر کی ہے، اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا:
’’إنک رجل شاب عاقل لا نتّہمک۔‘‘
’’تم نوجوان سمجھدار آدمی ہو، ہمیں تم پر کوئی بدگمانی نہیں ہے۔‘‘ 
تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کتابتِ وحی کا کام بھی کرتے رہے ہو، لہٰذا تم قرآن کی آیتوں کو جمع کرو۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: اگر یہ حضرات مجھے پہاڑ اُٹھانے کا کہتے تو اس بات سے مجھ پر اتنا بوجھ نہ ہوتا، جتنا قرآن کے جمع کرنے کی بات سے مجھ پر بوجھ ہوا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ وہ کام کیسے کر رہے ہو، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم! یہ کام یقیناً بہتر ہے، اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کام کے لیے مجھ سے بار بار اصرار کرتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ نے میرا سینہ اس کام کے لیے کھول دیا جس کام کے لیے ان کا سینہ کھولا تھا، چنانچہ میں نے قرآن کریم کو کھجور کی شاخوں سے اور پتھر کی تختیوں سے اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنا شروع کیا ۔‘‘ (۱۲)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے قرآن کریم کو جمع کرنا شروع کیا، لیکن وہ صرف ان لکھی ہوئی تحریروں پر یا خود اپنی یاد پر، یا صحابہؓ کی یاد پر اکتفا نہ کرتے تھے، جب تک کہ اس کے متعلق شواہد سے یہ بات معلوم نہ ہو جاتی کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضور کے حکم سے لکھا گیا ہے اور پھر حضور پر اس کو پیش بھی کیا گیا ہے، اور ان کے بغیر وہ کسی آیت کو قبول نہیں کرتے تھے۔ اور ان لکھی ہوئی آیتوں کا دیگر مجموعوں کے ساتھ بھی مقابلہ کیا جاتا تھا جو مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تیار کر رکھے تھے۔ اور جب درج ذیل طرق سے اس کا اثبات ہو جاتا، تب اپنے نئے صحیفے میں درج کرتے، اور صرف زیدؓ نہیں بلکہ ان کے ساتھ اس کام میں دیگر اراکینِ کمیٹی بھی شامل تھے، جو اس کام میں ان کے معین تھے، یہ کل سات افراد تھے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس کمیٹی کے ذمہ دار تھے، اور خود لکھنے والے تھے اور دیگر اراکین ان کے معاون تھے۔ (۱۳)
 لہٰذا سرکاری طور پراعلان کیا گیا کہ جس کے پاس قرآن کا جتنا حصہ ہو وہ لے آئے، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان مختلف عریضوں کو قبول کرنے میں کچھ مضبوط کڑی شرائط لگائیں، تاکہ یہ کام حسن وخوبی سے مکمل ہو جائے کہ جو آیت آئے، یہ اراکین کمیٹی سب سے پہلے اپنے حافظے سے اس کی توثیق کریں، اور بعض روایتوں میں ہے کہ: حضرت زید رضی اللہ عنہ پہلے اپنی یادداشت سے اس کی توثیق کرتے تھے، پھر ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ توثیق فرماتے تھے۔ (۱۴)
 کیونکہ یہ حضرات خود بھی ماہرِ قرآن اور حفاظِ قرآن تھے، پھر اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ کوئی آیت اس وقت تک قبول نہ کی جائے گی، جب تک دو قابلِ اعتبار گواہ گواہی نہ دے دیں اس بات کی کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی تھی، اور اس کے بعد ان لکھی ہوئی آیتوں کے متعلق یہ حکم بھی تھا کہ دوسرے صحابہؓ کے ذاتی مجموعوں سے تقابل کیا جائے۔ توثیق کے بعد دو گواہیاں، پھر دیگر مجموعوں پر آیتوں کو پیش کرنا یہ صرف احتیاط کے پہلو کو مدِ نظر رکھنے کی خاطرتھا، اور سورتوں کو صحیح ترتیب دینے کے لیے تھا، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے جمع کیے ہوئے نسخے کو’’ اُم ‘‘کہا جاتا ہے، اور یہ صحیفہ درج ذیل خصوصیات کا حامل تھا:
۱-اس نسخے میں آیاتِ قرآنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق مرتب تھیں، لیکن سورتیں مرتب نہ تھیں، ہر سورت الگ الگ لکھی ہوتی تھی۔ (۱۵)
۲-اس نسخے میں ساتوں حروف (سات قبائل کی لغات) جمع تھے۔(۱۶)
۳-یہ نسخہ خطِ حیری میں لکھا گیا تھا۔(۱۷)
۴-اس میں صرف وہ آیتیں درج کی گئی تھیں، جن کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی۔
۵-اس نسخہ کو لکھوانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک مرتب نسخہ تمام امت کی اجماعی تصدیق کے ساتھ تیار ہو جائے، تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کی طرف رجوع کیا جا سکے۔ (۱۸)
یہ صحیفہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات تک آپ کے پاس رہا، آپ کی وفات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا۔ (۱۹)

عہد عثمانی میں جمع قرآنی کا تیسرا مرحلہ
 

جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو کثرتِ فتوحات کی بنا پر اسلام عرب سے نکل کر عجم میں پھیلنے لگا، ہر نئے علاقے کے لوگ اپنے استاذ سے پڑھی ہوئی قراءت کے مطابق قرآن کی تلاوت کرتے، اور چونکہ انہوں نے بھی صحابہؓ سے اسی قراءت میں سیکھا ہوتا جس قراءت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو پڑھایا تھا، تو جب تک لوگوں کو یہ بات معلوم تھی کہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے تو اختلاف کا نام و نشان نہ تھا، لیکن جب یہ بات ذہنوں سے ذہول کر گئی اور عجم جو قراءات و لغات کی باریکیوں سے واقف نہیں تھے، ان میں خصوصاً قراء کے معاملہ میں آپس میں اختلاف ہونے لگا، جب اس طرح کے واقعات ہونے لگے، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک نسخے پر امت کو جمع کرنے کی ضرورت محسوس کی، اسی دوران حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ جو آذربائجان اور ارمینیا کے محاذ پر اہلِ عراق کے ساتھ جہاد میں مشغول تھے، انہوں نے وہاں لوگوں کو قراءات میں اختلاف کرتے پایا، تو آپؓ نے مدینہ منورہ رختِ سفر باندھ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو آگاہ کیا، اور فرمایا کہ: امیر المومنین! اس امت کو روک لیجیے، کہیں یہ امت یہود و نصاریٰ کی طرح اللہ کی کتاب میں اختلاف نہ کرنے لگے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے جلیل القدر اصحابِ رائے صحابہؓ کو طلب کرکے ان سے یہ مشورہ لیا کہ اس کا کیا حل ہے؟ صحابہؓ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا:آپ نے اس کے بارے میں کیا سوچا ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: میری رائے یہ ہے کہ تمام لوگوں کو صرف ایک مصحف پر جمع کر دیا جائے، تاکہ کوئی اختلاف و افتراق نہ رہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ: تم لوگ میرے قریب رہتے ہوئے قراءتِ قرآن میں اختلاف کرتے ہو تو جو لوگ مجھ سے دور ہوں گے، وہ تو اس سے بھی زیادہ اختلاف کریں گے، لہٰذا تم لوگ ایک قرآن کے نسخے کو تیار کرو، جو سب کے لیے واجب الاقتدا ہو۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کام کی تکمیل کے لیے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے وہ نسخہ طلب کیا، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لکھا گیا تھا (وہ خود اس میں تلاوت کیا کرتی تھیں)، تاکہ اس سے قرآن کو نقل کر کے کئی نسخے ایک لغت پر بنائے جائیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے چار صحابہؓ کی ایک جماعت بنائی، جو زید بن ثابت، سعید بن العاص، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت عبدالرحمٰن بن حارث رضوان اللہ علیہم اجمعین پر مشتمل تھی۔(۲۰) اور ان کو اس مصحفِ صدیقی سے کئی مصاحف نقل کر کے تیار کرنے کا حکم دیا، جن میں سورتیں بالترتیب ہوں، ان میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے علاوہ تین حضرات قریشی تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اُن کو مامور کیا کہ اگر قرآن کے کسی لفظ کی کتابت میں اختلاف ہو جائے تو لغت قریش میں لکھ دینا، اس لیے کہ قرآن اُن کی لغت میں نازل ہوا ہے، پھر بعد میں ان کے ساتھ دوسرے صحابہؓ کو مدد کے لیے لگا دیا گیا، جیسے ابن ابی داؤد کی روایت کے مطابق ان حضرات کی تعداد ۱۲ تک پہنچ گئی، جن میں ابی بن کعب، کثیر بن افلح، مالک بن ابی عامر، انس بن مالک، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم جیسے حضرات شامل تھے۔
اب تک قرآن کریم کا ایک معیاری نسخہ عہدِ صدیقی میں امت کی اجتماعی تصدیق سے مرتب کیا گیا تھا، البتہ عہد عثمانی میں ان حضرات نے نئے مصحف کے تقریباً پانچ نسخے تیار کرائے تھے، البتہ امام ابوحاتم سجستانی  ؒ کے مطابق کل تیار کردہ نسخے سات تھے، جن میں سے ایک مکہ مکرمہ، ایک شام، ایک بحرین، ایک کوفہ، ایک بصرہ، ایک یمن بھیج دیا گیا، اور ایک مدینہ منورہ میں محفوظ کیا گیا۔(۲۱)
اُمتِ مرحومہ ان اکابر صحابہ کرامؓ کی خدمات، مصلحتوں اور ان کی دور رسی کی ہمیشہ ممنون و مشکور رہے گی، جنہوں نے قرآن کی حفاظت اور اس کی قراءت میں لوگوں کو اختلاف سے بچایا اور اس وادی سے انہیں دور رکھا۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہر دم ہر گھڑی رحمتوں سے مالا مال فرمائے، آمین بجاہ سید الأنبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ واٰلہ وأصحابہٖ أجمعین۔

حوالہ جات

۱- علوم القرآن، ص: ۱۷۳- ۱۷۴، ناشر: مکتبہ دار العلوم کراچی 

۲- القیامہ: ۱۶، ۱۷
۳- ترجمہ از بیان القرآن مولانا اشرف علی تھانوی ؒ، ص :۶۱۴، مکتبہ رحمانیہ

۴- صحیح بخاری مع فتح الباری، ص: ۳۶، ج: ۹
۵- الاتقان، ص:۷۳، ۷۴، ج:۱ 

۶- بخاری، ص:۷۴۰، ج: ۲
۷- کنز العمّال، جلد:۲، ص:۴۷
۸- ماخوذاز :تدوین قرآن، افادات: مولانا مناظر احسن گیلانی  ؒ، صفحہ:۲۶، طبع:بشریٰ    ۹- مجمع الزوائد، ج :۱، ص:۶۰
۱۰- مستدرک حاکم، ج:۲، ص:۶۰۳، یہ حدیث جامع ترمذی وغیرہ میں بھی ہے۔

۱۱- سنن دارقطنی، ص :۱۲۳ ، ج:۱
۱۲- صحیح بخاری مع فتح الباری، ص:۸ تا ۱۱، ج:۹ 

۱۳- البرہان فی علوم القرآن، ص :۲۳۷، ج:۱
۱۴- فتح الباری، ص :۱۱، ج:۹ 

۱۵- الاتقان، ص:۶۰، ج:۱    
۱۶- مناہل العرفان، ص: ۲۴۶، ۲۴۷، ج:۱ 

 ۱۷- تاریخ العرفان از عبد الصمد صارم، ص:۴۳، لاہور
۱۸- ماخوذ من علوم القرآن، ص:۱۸۶، مفتی محمد تقی عثمانی ۔ التبیان فی علوم القرآن، ص:۷۷، طبع: مکتبہ بشریٰ ۔
۱۹- فتح الباری، ص: ۱۶، ج: ۹ 

۲۰- فتح الباری، ص:۱۳ تا ۱۵، ج: ۹
۲۱- صحیح البخاری، فتح الباری، ص: ۱۷، ج: ۹
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین