
دنیا دارالامتحان ہے، جس طرح ایمان سے محروم انسان کو ابتلا وآزمائش میں مبتلاکیا جاتا ہے، اسی طرح صاحبِ ایمان کے لیے بھی ابتلا وآزمائش مقدرہوتی ہے۔ اسلام کا تصوریہ ہے کہ بیماری اور شفا اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، فرماں بردار اور نافرمان کی کوئی تخصیص نہیں ہے، حضرات انبیائے کرامo بھی بیمار ہوئے ہیں، سیدالمرسلین اورامام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی متعدد مرتبہ بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں، وفات کے موقع پر تقریباً چودہ دن بیمار رہے، بیماری مومن کے لیے امتحان وآزمائش ہے، دنیا میں آزمائشیں بخشش اور مغفرت کے لیے آتی ہیں۔ حقیقت میں بیماری ایک نعمت ہے، گناہوں کے لیے کفارہ اور رفعِ درجات کا سبب ہے، بیمار کو اللہ اور بندوں سے معافی تلافی اور حقوقی کی ادائیگی کے لیے ایک موقع دیا جاتا ہے:
’’ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مومن کی مثال نرم ونازک پودے کی سی ہے، جس کو ہوائیں اِدھر سے اُدھرجھکاتی رہتی ہیں، منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے، جس کی جڑیں زمین میں نہایت مضبوط ہوتی ہیں، ہوائیں اس کو اِدھر اُھر جھکا نہیں سکتیں؛ یہاں تک کہ اس کو یکبارگی اُکھاڑدیا جاتا ہے۔‘‘ (بخاري، کتاب المرضی، باب کفارۃ المرض: ۵۶۴۳)
یعنی مومن کو غفلت سے بیدارکرنے اوراس کی اُخروی ترقی کے لیے باربارآزمائشیں آتی رہتی ہیں، منافق اوربے ایمان کو مہلت دی جاتی ہے اوروہ غفلت کی زندگی میں مست ہوتاہے؛ یہاں تک کہ اچانک اس کو موت آجاتی ہے، یا اس پر کوئی عذاب نازل ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے لیے توبہ، استغفار اور گناہوں سے معافی تلافی کی کوئی صورت با قی نہیں رہتی۔
حدیثِ قدسی میں وارد ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ إِنَّ الرَّبَّ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی یَقُوْلُ: وَعِزَّتِيْ وَجَلَالِيْ لَا اُخْرِجُ اَحَدًا مِنَ الدُّنْیَا اُرِیْدُ اَغْفِرَ لَہٗ حَتّٰی اَسْتَوْفِیَ کُلَّ خَطِیْئَۃٍ فِيْ عُنُقِہٖ بِسَقَمٍ فِيْ بَدَنِہٖ وَإِقْتَارٍ فِيْ رِزْقِہٖ، رَوَاہُ رَزِیْنٌ۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض:۱۵۸۵)
’’ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں: میری عزت اورجلال کی قسم!میں کسی شخص کو جس کی میں مغفرت کرنا چاہتاہوں، اس کودنیاسے نہیں نکالتا؛یہاں تک کہ بدنی بیماری اوررزق کی تنگی میں مبتلاکرکے اس کی گردن پر موجود گناہوں سے اس بندے کوپاک و صاف نہ کردوں۔‘‘
’’ عَنْ اَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ اَبِيْ ہُرَیْرَۃَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ، وَلَا ہَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا اَذًی وَلَا غَمٍّ، حَتَّی الشَّوْکَۃِ یُشَاکُہَا، إِلَّا کَفَّرَ اللہُ بِہَا مِنْ خَطَایَاہُ۔‘‘ (رواہ البخاري، کتاب المرضی:۵۶۴۱)
’’ حضرت ابوسعیدخدری اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان کوجو تھکان، بیماری، غم و رنج، کوئی تکلیف اور غم حتیٰ کہ کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس تکلیف کی وجہ سے اس کے گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں۔‘‘
’’ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصِیْبُہٗ اَذًی مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاہُ إِلَّا حَطَّ اللہُ تَعَالٰی بِہٖ سَیِّئَاتِہٖ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا۔‘‘ (رواہ البخاري، کتاب المرضی، باب أشد الناس بلاء: ۵۶۴۸)
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کسی مسلمان کوبیماری، یا کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس تکلیف اوربیماری کی وجہ سے اس مسلمان کے گناہوں کو اس طرح (تیزی سے ) گراتے ہیں، جس طرح درخت (موسمِ خزاں میں ) اپنے سوکھے پتوں کو (تیزی سے) گراتا ہے، یعنی مسلمان کم وقت میں اپنے تمام گناہوں سے پاک وصاف ہوجاتا ہے۔‘‘
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُمِ سائب ؓ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: کیا بات ہے کہ تم لمبی لمبی سانس لے رہی ہو؟ انھوں نے کہا: بخار ہے، اللہ اس کو نامبارک بنائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار کو برا بھلا نہ کہو، کیوں کہ بخارانسان کے گناہوں کو اس طرح دور کردیتا ہے، جس طرح بھٹی لوہے کی گندگی کو دور کردیتی ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب ثواب المومن:۲۵۷۵)
ابوالاشعث صنعانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’میں صبح سویرے دمشق کی جامع مسجدپہنچا، میری ملاقات اصحاب ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت شدادبن اوس اورصنابحی رضی اللہ عنہما سے ہوئی، میں نے ان دونوں سے عرض کیا: اللہ تم پر رحم کرے، آپ حضرات کہاں جارہے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: قریب میں ہمارا ایک بھائی ہے، اس کی عیادت کے لیے ہم جارہے ہیں، تو میں بھی اُن کے ساتھ ہوگیا، پھر ہم لوگ چلے اور اس بھائی کے پاس پہنچے، ان دونوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس مریض سے پوچھا کہ تم نے صبح کیسی کی؟ (خیریت سے ہو؟) اس مریض نے کہا: اللہ کے فضل سے صبح کی، (الحمدللہ خیریت سے ہوں) پھر حضرت شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گناہوں کو مٹانے والی اور معاف کرانے والی چیزوں سے خوش ہوجاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے کہ آپ نے فرمایا:
’’ إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُوْلُ: إِنِّيْ إِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِيْ مُوْمِنًا، فَحَمِدَنِيْ عَلٰی مَا ابْتَلَیْتُہٗ، فَإِنَّہٗ یَقُوْمُ مِنْ مَضْجَعِہٖ ذٰلِکَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ اُمُّہٗ مِنَ الْخَطَایَا، وَیَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: اَنَا قَیَّدْتُّ عَبْدِيْ، وَابْتَلَیْتُہٗ، فَاَجْرُوْا لَہٗ کَمَا کُنْتُمْ تُجْرُوْنَ لَہٗ وَہُوَ صَحِیْحٌ ۔‘‘ (مسند أحمد، مسند شداد بن أوس: ۱۷۱۱۸)
’’ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میں اپنے کسی مؤمن بندے کو آزمائش میں مبتلاکرتاہوں اور وہ بندہ آزمائش میں بھی میری حمدوثنا بیان کرتا ہے، (تقدیرپرراضی رہ کر ثواب کی اُمید رکھتا ہے، صبر کرتا ہے، بے صبری، جزع وفزع اور شکوے شکایات سے احتراز کرتا ہے) تو وہ اپنی بیماری کے بستر سے (گناہوں سے پاک وصاف ہوکر) اس طرح اُٹھے گا، جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو، اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) فرماتے ہیں: میں نے اپنے بندے کو عمل کرنے سے روک دیا تھا اور آزمائش میں مبتلا کر رکھا تھا؛ لہٰذا اس کے لیے اسی طرح اجر لکھا کرو جس طرح تم اس کی صحت کے زمانے میں اجر لکھا کرتے تھے۔‘‘
بیماری ایک طرح سے رحمت ہے، اس سے گناہوں کی صفائی ہوتی ہے اور جنت میں درجات بلند ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ بعض بندوں کے لیے آخرت میں بلند مقام کا فیصلہ کرتے ہیں؛ مگر ان کے پاس وہ اعمال نہیں ہوتے جن کی وجہ سے وہ اس کے مستحق ہوسکیں؛ اس لیے بسا اوقات بیماریوں اور آزمائشوں میں مبتلا کرکے ان کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ آخرت کے اس بلند مقام کے اہل ہوجائیں۔
محمد بن خالد سلمی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَہٗ مِنَ اللہِ مَنْزِلَۃٌ لَمْ یَبْلُغْہَا بِعَمَلِہٖ، ابْتَلَاہُ اللہُ فِيْ جَسَدِہٖ اَوْ فِيْ مَالِہٖ اَوْ فِيْ وَلَدِہٖ ثُمَّ صَبَّرَہٗ عَلٰی ذٰلِکَ یُبَلِّغُہُ الْـمَنْزِلَۃَ الَّتِيْ سَبَقَتْ لَہٗ مِنَ اللہِ۔‘‘ (رَوَاہ اَبُودَاود، کتاب الجنائز، باب الأمراض المکفرۃ للذنوب:۳۰۹۰)
’’ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے لیے کسی اونچے مقام کا فیصلے فرماتے ہیں، وہ بندہ اس مقام تک اپنے عمل سے پہنچ نہیں پاتا، تو اللہ تعالیٰ اس کو کسی مالی یا بدنی مصیبت وپریشانی میں مبتلا کرتے ہیں، پھر اس کو اس مصیبت پر صبر کی توفیق عطا فرماتے ہیں؛ یہاں تک کہ اس کو اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جس کا فیصلہ خدا کی طر ف سے اس بندے کے لیے ہوا ہے۔‘‘
حدیث مذکور سے معلوم ہوا کہ پریشانیاں اور بیماریاں ہمارے لیے رفعِ درجات کا ذریعہ ہیں، بشرط یہ کہ ہم صبروہمت سے کام لیں اور ثواب کی اُمید رکھیں اور خدائی فیصلے اور تقدیر پر راضی رہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عطابن رباح رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا: میں تمہیں جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ عطا بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ نے عرض کیا:ضرور دکھائیے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ وہ سیاہ فام عورت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئی اور عرض کیا: مجھ پر مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میرا ستر کھل جاتا ہے، آپ میرے لیے اس مرض سے شفا کی دعا فرمائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تم چاہو تو صبر کرو اور تمہارے لیے جنت ہے، اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ تمہیں اس مرض سے نجات دے دے، اس عورت نے عرض کیا: میں صبر کروں گی، پھراس نے یہ درخواست کی: مرگی کے دورے کے دوران میرا ستر کھل جاتا ہے، آپ بس اتنی دعا فرما دیجیے کہ دورے کے دوران میرا ستر محفوظ رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔‘‘ (رواہ البخاري، کتاب المرضی، باب فضل من یصرع:۵۶۵۲)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’ یَوَدُّ اَہْلُ الْعَافِیَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حِیْنَ یُعْطَی اَہْلُ الْبَلَاءِ الثَّوَابَ لَوْ اَنَّ جُلُوْدَہُمْ کَانَتْ قُرِضَتْ فِی الدُّنْیَا بِالْمَـقَارِیْضِ۔‘‘ (رواہ الترمذي، أبواب الزھد:۲۴۰۲)
’’ دنیا میں عافیت سے رہنے والے قیامت میں جب آزمائش والوں کو دیکھیں کہ ان کو خو ب اجر وثواب دیاجارہاہے تو وہ لوگ یہ تمنا کریں گے کہ کا ش! دنیا میں ان کے جسموں کو قینچیوں سے کاٹ دیا جاتا اور ان کو بھی اسی طرح اجر وثواب دیا جاتا، جیسے ان آزمائش والوں کو دیا جارہا ہے۔‘‘
ایک صحت مند انسان جن کاموں کو کرسکتا ہے، بیمار آدمی ان کو انجام دے نہیں سکتا، اللہ تعالیٰ کا انتہائی فضل وکرم ہے کہ مؤمن بندہ کسی عمل کو پابندی اوراہتمام سے کرتا تھا، مرض، سفر یا کسی اور عذر کی وجہ سے وہ عمل چھوٹ جائے، تو بھی اس عمل کا جروثواب اس کے لیے لکھا جاتا ہے:
’’ حضرت عبداللہ بن عمرو صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی بندہ کوئی عبادت کرتا رہے، پھر بیمار ہوجائے تواللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں: اس بندے کے لیے اس عمل کا ثواب بھی لکھو جوعمل وہ صحت کی حالت میں کیاکرتاتھا؛یہاں تک کہ میں اس کو صحت دے دوں، یا اپنے پاس بلالوں۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض:۱۵۵۹، مسند أحمد، مسند عبداللہ بن عمرو:۶۸۹۵)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب مومن بندہ کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ فرشتے سے فرماتے ہیں: ان نیک اعمال کو اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیاکرو جن کو وہ (صحت کے زمانے میں) کیا کرتا تھا، پھر اللہ تعالیٰ اس کو شفا وصحت عطا فرمادے تو اس کو گناہوں سے پاک وصاف فرمادیتے ہیں، اگر اس کو اپنے پاس بلالیں، تو اس کو معاف فرمادیتے ہیں اور اس پر رحم فرماتے ہیں۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض:۱۵۶۰، مسند أحمد، مسند أنس بن مالکؓ:۱۳۵۰۱)
حضرت شقیق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیمار تھے، ہم لوگ عیادت کے لیے حاضر ہوئے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ رونے لگے، ہم نے آپ کو تسلی دی، تو آپؓ نے فرمایا: میں بیماری سے پریشان ہوکر نہیں رورہا ہوں؛ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ بیماری گناہوں کے لیے کفارہ کے ذریعہ ہے؛ اس لیے بیماری سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، میں اس بات پر رو رہا ہوں کہ بیماری کمزوری کے زمانے (بڑھاپے کی عمر جس میں طاقت و قوت مفقود ہونے کی وجہ سے انسان عمل نہیں کرسکتا ہے) میں آئی ہے، محنت کے زمانے میں بیماری آتی، تو بیمار ہونے سے پہلے جو اعمال کرتا تھا، بیماری کے زمانے میں بھی ان اعمال کا اجروثواب لکھا جاتا ہے (اس بات پر رو رہا ہوں)۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض:۱۵۸۶)
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صحت آدمی کے لیے ہزار نعمت ہے، تمام دینی و معاشرتی خدمات اہل وعیال کی نگرانی، تجارت و کاروبار؛ بلکہ دنیا کا کوئی کام ایسا نہیں جس کے لیے صحت کی ضرورت نہ ہو، اسی لیے ہر شخص یہ تمنا کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ صحت مند رہے؛ لیکن بیماری انسان کے ساتھ لگی رہتی ہے، اس سے کوئی مفر نہیں؛ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص میں کوئی خیرنہیں جس کو کبھی بیماری آئی نہیں۔
لہٰذا ایمان والوں کو چاہیے کہ جب حالات سازگار ہوں، خوشی اور شادمانی کے سامان میسر ہوں، مالی وسعت اور تن درستی حاصل تو بھی وہ اس کو اپنا کمال اور اپنی قوت بازو کا نتیجہ نہ سمجھیں؛ بلکہ اس وقت بھی اپنے دل میں اس یقین کو تازہ کریں کہ یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی بخشش ہے اور وہ جب چاہے اپنی بخشی ہوئی ہر نعمت چھین بھی سکتا ہے؛ اس لیے ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کریں۔
جب کوئی دکھ، مصیبت اوربیماری پیش آ جائے، تو وہ مایوسی اور سراسیمگی کا شکار نہ ہوں؛بلکہ ایمانی صبر و ثبات کے ساتھ اس کا استقبال کریں اور دل میں یہ یقین رکھیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، جو ہمارا حکیم اور کریم رب ہے اور وہی ہم کو اس دکھ، مصیبت اوربیماری سے نجات دینے والا ہے۔
اس دنیا میں تکلیف اور آرام تو سب ہی کے لیے ہے؛ لیکن اس تکلیف اور آرام سے اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنا یہ صرف اُن اہل ایمان ہی کا حصہ ہے جو چین و آرام اور مسرت و خوشی کی ہر گھڑی میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور جب کسی رنج اور دکھ میں مبتلا کیے جاتے ہیں اور کوئی بیماری اورتنگی ان کو پیش آتی ہے تو وہ بندگی کی پوری شان کے ساتھ صبر کرتے ہیں۔
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، ہر حال میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے، اگر اس کو خوشی اور راحت و آرام پہنچے تو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہے، اگر اس کو دکھ اور رنج پہنچتا ہے، تو وہ (اس کو بھی اپنے حکیم و کریم رب کا فیصلہ اور اس کی مشیت پر یقین کرتے ہوئے) اس پر صبر کرتا ہے اور یہ صبر بھی اس کے لیے سراسر خیر اور موجبِ برکت ہوتا ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب الزہد والرقاق:۲۹۹۹)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
’’جو بندہ کسی جانی یا مالی مصیبت میں مبتلا ہو اور وہ کسی سے اس کا اظہار نہ کرے اور نہ لوگوں سے شکوہ شکایت کرے، تو اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے کہ وہ اس کو بخش دیں گے۔‘‘ (مجمع الزوائد، باب فی من صبرعلی العیش الشدید:۱۷۸۷۲)
صبر کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ اپنی مصیبت اور تکلیف کا کسی کے سامنے اظہار نہ کرے اور ایسے صابروں کے لیے اس حدیث میں مغفرت کا وعدہ کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بخشش کا ذمہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان وعدوں پر یقین اور اُن سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
حضر ت مولانا سیدشبیراحمدعثمانی رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں:
’’ حضرت ایوب علیہ السلام کو حق تعالیٰ نے دنیا میں ہر طرح سے آسودہ رکھا تھا، کھیت، مویشی، لونڈی، غلام، اولاد صالح اور بیوی مرضی کے موافق عطا کی تھی، حضرت ایوب علیہ السلام بڑے شکر گزار بندے تھے؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمائش میں ڈالا، کھیت جل گئے، مویشی مر گئے، اور اولاد اکٹھی دب کر مرگئی، دوست اور آشنا الگ ہوگئے، بطورخاص سالہا سال کسی سخت بیماری میں میں مبتلاکیے گئے، اس طویل بیماری کے زمانے کبھی بھی زبان پرایک حرف شکایت نہیں لائے، اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کی داددیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہم نے ایوب کو صبرکرنے والا پایا، وہ بہت ہی بہترین بندہ تھا اور(میری طرف ) بہت رجو ع کرنے والاتھا، حضرت ایوب علیہ السلام جیسے نعمت میں شاکر تھے، ویسے ہی بلا میں صابررہے، پھر دعا کی: ’’اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۔‘‘ (الانبیاء: ۸۳) رب کو پکارنا تھا کہ دریائے رحمت امنڈ پڑا، اللہ تعالیٰ نے مری ہوئی اولاد سے دگنی اولاد دی، زمین سے چشمہ نکالا، اسی سے پانی پی کر اور نہاکر تن درست ہوئے، بدن کا سارا روگ جاتا رہا اور جیسا کہ حدیث میں ہے :’’سونے کی ٹڈیاں برسائیں۔‘‘ غرض سب طرح درست کردیا، ایوب علیہ السلام پر یہ مہربانی ہوئی اور تمام بندگی کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت اور یادگار قائم ہوگئی کہ جب کسی بندے پر دنیا میں برا وقت آئے، تو ایوب علیہ السلام کی طرح صبرو استقلال دکھلانا اور صرف اپنے پروردگار سے فریاد کرنا چاہیے، حق تعالیٰ اس پر نظر عنایت فرمائے گا۔‘‘ (مستفاد:ازتفسیرعثمانی، سورۃ الانبیاء:۸۳)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ، وَإِنَّ اللہَ إِذَا اَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاہُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَہُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخِطَ فَلَہُ السَّخَطُ۔‘‘(رواہ الترمذي، أبواب الزھد:۲۳۹۶)
’’ بڑا انعام بڑی آزمائش پر ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتے ہیں، تو اس کو آزمائش میں مبتلا کرتے ہیں، جو اس کے فیصلے سے راضی ہوتا ہے، اللہ اس سے راضی ہوتے ہیں، جو اس کے فیصلے سے ناراض ہوتے ہیں، اللہ ان سے ناراض ہوتے ہیں۔‘‘
اس دنیا میں تکلیف، دکھ اور رنج بھی ہے اور آرام، خوشی اورمسرت بھی، تن درستی اوربیماری بھی ہے اور سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے اور اسی کے حکم اور فیصلے سے ہوتا ہے؛ اس لیے ایمان والوں کو چاہیے کہ جب تکلیف، مصیبت، پریشانی اورآزمائشیں آئیں، تو صبروہمت سے کام لیں، ظاہری تدابیراختیارکریں، خداکی طرف رجوع کریں اوران مصائب پراجروثواب کی اُمید رکھیں، ان شاء اللہ حالات سازگار ہوں گے، اس کی بہترین مثال اللہ نے قرآن پاک میں حضرت ایوب m کے واقعے میں بیان فرمائی ہے، یہی ہمارے لیے کافی ہے۔
مرض کے ازالے کے لیے ظاہری تدابیر اختیارکرنا، علاج ومعالجہ کرنا، ڈاکٹر، طبیب اور تیماردار کواپنی بیماری اور تکلیف بتانا اوردعاکی درخواست کرنا، مریض کا شدت ِمرض کی وجہ سے کراہنا، صبر، تقویٰ اورتوکل کے خلاف نہیں ہے، نیز اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا، اللہ کے سامنے اپنے کمزوری اور عاجزی اوراپنی عبدیت وحاجت مندی کا اظہار کرنا، پریشانی اوربیماری سے شفاطلب کرنا بے صبری نہیں ہے؛بلکہ یہ باتیں اللہ کو بہت پسند اور محبوب ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں: حضرت ایوب علیہ السلام کا تذکرہ کیجیے جب کہ انھوں نے (شدید مرض میں مبتلا ہونے کے بعد) پکارا کہ مجھ کو تکلیف پہنچی ہے اورآپ سب سے زیادہ مہربان ہیں، پس اپنی مہربانی سے میری تکلیف اوربیماری کو دور کردیجیے، ہم نے ان کی دعاقبول کی اور ہم نے اپنے فضل سے اور عبادت گزاروں کی عبرت کے لیے ان کو دوبارہ ان کا کنبہ عطا فرمایا اوران کے ساتھ ان کے برابر اور بھی اہل، اولاد اورمال ودلت عطاکیا۔ یہی وجہ ہے کہ محققین نے فرمایاہے:حضرت ایوب علیہ السلام کی مذکورہ دعاتوحید وعبدیت، عجز وانکساری پر مشتمل عجیب جامع دعاہے۔‘‘ (التفسیرالقیم، الأنبیاء:۸۳)
بے صبری یہ ہے کہ بیمار جزع وفزع کرے، تقدیرپر ناراضگی کااظہارکرے اورمخلوق کے سامنے خالق کی شکایت کرے، خدا، رسول اور شریعت کو برا بھلاکہے، اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجائے، مرض کی شدت کی وجہ سے کوئی نامناسب قدم اُٹھائے، یہ بے صبری ہے جوممنوع ہے، مسلمان کی شان نہیں ہے، نیز جزع وفزع سے تکلیفیں، مصیبتیں، پریشانیاں اوربیماریاں دورنہیں ہوں گی، دنیا میں ان پریشانیوں میں مبتلارہیں گے اور آخرت میں اجروثواب سے محروم ہوجائیں گے۔
دین متین جس طرح ہم کوخوشیوں میں دوسروں کا ساتھ دے کر ان کی خوشیاں بڑھانے کی ترغیب دیتا ہے، اسی طرح دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنے، اس میں شریک ہونے اوراس کے ازالے کی کوشش کرنے کی تلقین کرتاہے، ایک مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان بھائی کو بیماری وپریشانی میں مبتلا دیکھ کر اس کے اندر رحم کے جذبات اُبھریں اور اس کی مصیبت کا اسے بھی احساس ہو، یقیناً ایک مسلمان کا دوسروں کی تکلیف کا احساس کرکے دل جوئی اور دل داری کی خاطر اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر عیادت کرنے میں اُس فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی اظہار ہوتا ہے کہ جس میں تمام مسلمانوں کوایک جسم کی مانند قرار دیا گیا ہے۔
عیادت اور مزاج پرسی سے آپسی تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے، ایک دوسرے کے تئیں ہم دردی اورغم خواری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، مریض، اس کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کے دل میں عیادت کرنے والے کی محبت پیدا ہوتی ہے اور اتحاد و یگانگت کی ایک اچھی فضا قائم ہوتی ہے، گویا سماجی اور دینی دونوں ضرورتیں اس سے پوری ہوتی ہیں، اگر بیماری کے علم کے باوجود مریض کی عیادت نہ کی جائے اور اس کی طرف بالکل توجہ نہ دی جائے، تو آپس میں عداوت، کدورت اورنفرت اور کم از کم بدگمانی پیدا ہو تی ہے۔
عیادت مسلمان کا حق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ چلنا، دعوت قبول کرنا اور چھینک کے جواب پر ’’یرحمک اللہ‘‘ کہنا۔‘‘ (رواہ البخاري عن أبي ھریرۃؓ، کتاب الجنائز، اتباع الجنائز :۱۲۴۰)
اسلام نے بیمار پُرسی اور تیمارداری کو گناہوں کی بخشش اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بتایا ہے، کسی بھی بیمار کی عیادت کو اللہ تعالیٰ کی عیادت کے مترادف بتلایا گیا، اللہ تعالیٰ کی ذات اگرچہ ہر بیماری سے پاک ہے، اُسے کوئی بیماری و تکلیف ہرگز ہرگز لاحق نہیں ہوسکتی؛ لیکن عیادت کی فضیلت اُجاگر کرنے کے لیے اس طرح کی مثال بیان کی گئی؛ چناں چہ حدیثِ قدسی میں ہے:
’’ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا: اے ابن آدم!میں بیمار ہوا، تو نے میری عیادت نہیں کی، وہ کہے گا: اے پروردگار! میں تیری عیادت کیسے کرتا؟ حالاں کہ تو رب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو تُو مجھے اس کے پاس پالیتا الخ۔‘‘ (مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب فضل عیادۃ المریض:۲۵۶۹)
مریض دوست ہو، یا دشمن، امیر ہو، یا غریب، عیادت کو سنت، اخلاقی فریضہ اورمسلمان کاحق سمجھ کرنا چاہیے، آج عیادت کا دائرہ سمٹ کررہ گیا ہے، معاشرے میں عیادت ایک رسم بن گئی ہے، لوگ اس وجہ سے عیادت کرتے ہیں کہ اگرمیں نے عیادت نہیں کی تو اس کے گھر والے کیا سمجھیں گے؟! کوئی مال دار یا عہدہ دار یا خاص رشتہ دار ہو تو اس کی عیادت کی جاتی ہے، اگر کوئی غریب ہے تو پڑوس میں ہونے کے باوجود ایک مرتبہ بھی مزاج پرسی اور اظہارِ ہم دردی نہیں کی جاتی؛اس لیے کہ اس سے ہمارا کوئی دنیوی مفاد وابستہ نہیں اور نہ آئندہ اس کی کوئی توقع ہے۔ ہائے افسوس !
’’ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاہُ الْمُسْلِمُ، لَمْ یَزَلْ فِيْ خُرْفَۃِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی یَرْجِعَ ۔‘‘ (رَوَاہُ مُسْلِمٌ، کتاب البر والصلۃ، باب فضل العیادۃ:۲۵۶۸)
’’ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی عیادت کے لیے جاتاہے، تو واپس ہونے تک وہ جنت کے باغات میں ہوتاہے۔‘‘
یعنی عیادت کرنے والاجب سے عیادت کے لیے نکلتاہے، توواپس ہونے تک اس طرح ثواب کو حاصل کرنے میں لگا رہتاہے، جس طرح جنتی جنت کے باغات میں پھل توڑنے میں لگارہتاہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز:۱۵۲۷)
’’ عَنْ ثُوَیْرٍ ہُوَ ابْنُ اَبِيْ فَاخِتَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: اَخَذَ عَلِيٌّ بِیَدِيْ، قَالَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَی الْحَسَنِ نَعُوْدُہٗ، فَوَجَدْنَا عِنْدَہٗ اَبَا مُوْسٰی، فَقَالَ عَلِيٌّ: اَعَائِدًا جِئْتَ یَا اَبَا مُوْسٰی اَمْ زَائِرًا؟ فَقَالَ: لَا، بَلْ عَائِدًا، فَقَالَ عَلِيٌّ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَعُوْدُ مُسْلِمًا غُدْوَۃً إِلَّا صَلّٰی عَلَیْہِ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ حَتّٰی یُمْسِيَ، وَإِنْ عَادَہٗ عَشِیَّۃً إِلَّا صَلّٰی عَلَیْہِ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ حَتّٰی یُصْبِحَ، وَکَانَ لَہٗ خَرِیْفٌ فِي الْجَنَّۃِ ۔‘‘ (رواہ أبوداود والترمذي، أبواب الجنائز، باب ماجاء في عیادۃ المریض:۹۶۹)
’’ حضرت ابوفاختہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میراہاتھ پکڑا اورفرمایا:میرے ساتھ حسن ؓ کی عیادت کے لیے چلو، (ہم حضرت حسن ؓ کے گھرگئے)وہاں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ موجود تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے پوچھا، ابوموسیٰ!آپ ملاقات کے لیے آئے ہو؟ یا عیادت کی غرض سے آئے ہو؟حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: حضرت حسن کی عیادت کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو مسلمان صبح کے وقت کسی مسلمان کی عیادت کرتا ہے، شام تک ستر ہزار فرشتے عیادت کرنے والے کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں، اگر شام کے وقت عیادت کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے عیادت کرنے والے کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ تیار کیا جاتا ہے۔‘‘
’’ عَنْ اَبِيْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَادَ مَرِیْضًا اَوْ زَارَ اَخًا لَہٗ فِي اللہِ نَادَاہُ مُنَادٍ اَنْ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاکَ وَتَبَوَّاْتَ مِنَ الْجَنَّۃِ مَنْزِلًا۔‘‘ (رَوَاہُ الترمذي، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء في زیارۃ الإخوان:۲۰۰۸)
’’ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جوشخص کسی مریض کی عیادت کرے، یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کرے، تو آسمان سے ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ تم نے اچھا کیا، تمہارا (عیادت وملاقات کے لیے) چلنا مبارک ہے اور تم نے(عیادت کرکے) جنت میں اپنے لیے ٹھکانہ بنالیا۔‘‘
علامہ طیبیؒ شارحِ مشکوٰۃ تحریرفرماتے ہیں: ’’اس روایت میں عیادت کرنے والے کے لیے تین دعائیں دی گئیں ہیں، یہ جملے خبریہ نہیں؛ بلکہ دعائیہ ہیں، پھر حدیث کا ترجمہ یوں ہوگا:تیرابھلاہو(دنیا وآخرت میں)، تو آخرت کے راستے پر (برائیوں سے بچتے ہوئے) بھلائی کے ساتھ چلے اور تیرا ٹھکانہ جنت بنے، گویا اس روایت میں عیادت کرنے والے کے لیے دنیا وآخرت کی بھلائی، نیکیوں کی توفیق کی اورحصولِ جنت کی دعائیں دی گئیں ہیں۔‘‘ (مرقات:۱۵۷۵)
’’ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ -رَضِيَ اللہُ عَنْہُ- قَالَ: عَادَنِي النَّبِيُّ مِنْ وَجَعٍ کَانَ بِعَیْنِيْ۔‘‘ (أبوداود، کتاب الجنائز، باب العیادۃ من الرمد:۳۱۰۲)
’’ حضرت زیدبن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں آشوبِ چشم کے مرض میں مبتلاتھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لے آئے۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہواکہ مرض بظاہر چھوٹا اور معمولی ہو، تب بھی مسلمان کی ہم دردی اور دل داری کے لیے عیادت مستحب ہے، اس پربھی عیادت کرنے والے کو اجروثواب ملے گا۔‘‘ (مرقاۃ المفاتیح: ۱۵۵۱)
اسلا م میں عیاد ت کو بڑی اہمیت حاصل ہے، اس بناپر بعض فقہاء نے عیادت کو واجب قرار دیا ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان بھی یہی ہے، علّامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’عیادت کا حکم اصلاً مستحب ہے، بعض اوقات بعض لوگوں پرواجب ہوتاہے۔‘‘ (فتح الباري، کتاب المرضی، باب وجوب عیادۃ المریض:۵۶۴۹)
’’عیادت کا واجب یامستحب ہونا حالات پرموقوف ہے، اگرمریض کے متعدد تیماردار موجود ہوں تو مستحب ہے، کوئی دیکھ ریکھ کرنے والا نہ ہو تو واجب ہے، علامہ بغوی ؒ نے یہی بات کہی ہے۔‘‘ (قاموس الفقہ: ۴ /۴۱۸)
ایک مسلمان کا فرض ہے کہ مریض کے ساتھ ہم دردی اورغم خواری کرے، اس کے احوال پوچھے اور جہاں تک ہوسکے، اس کا تعاون کرے، اسی کو عربی زبان میں عیادت کہا جاتا ہے، عیادت کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ بیمار کی مزاج پرسی کی جائے، یا تیمار داروں سے اس کے احوال معلوم کرلیے جائیں، عیادت کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ مریض کے ساتھ مکمل غم خواری کی جائے، یعنی بیمار کے پاس پیسے کی کمی ہے اور اللہ نے وسعت دی ہے، تو پیسوں کے ذریعے اس کا تعاون کریں؛ تا کہ صحیح علاج کیا جاسکے، اگر خدمت کی ضرورت ہو تو خدمت کی جائے، صحیح ڈاکٹر کی رہنمائی کی جائے، اپنے علم کے اعتبار سے صحیح اورمفید مشورے دیے جائیں۔
تیمارداروں (اور مریض کے رشتہ داروں) پر لازم ہے کہ وہ اپنی وسعت و مالی استطاعت کے موافق مریض کی خدمت، اس کا علاج اور اس کی ضروریات کی تکمیل کریں، شریعت ہمیں بتاتی ہے کہ مریض بوجھ نہیں؛ بلکہ سببِ رحمت ہے، اس کی خدمت اور تیمارداری اجر وثواب کے حصول کا ذریعہ ہے۔ (اسلامک فقہ اکیڈمی کے فیصلے: ۲۹)
1- جب عیادت کے لیے جائے، تو باوضو جائے۔
2- اللہ کی رضا اور ثواب کی نیت سے عیادت کی جائے، جاہ ومنصب، مال ومنال کی رعایت، یا ترک ِعیادت پر ملامت سے بچنے کی غرض سے عیادت نہ کی جائے۔
حضر ت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص وضو کرے، اچھا وضو کرے اور اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے (کسی دنیوی غرض سے نہ جائے؛ بلکہ محض رضائے الٰہی اور)، ثواب کی نیت سے جائے، تواللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے ساٹھ سال کی مسافت کے بقدردورکردیتے ہیں۔‘‘ (أبوداؤد، کتاب الجنائز، باب في فضل العیادۃ علی الوضوء:۳۰۹۷)
3- مریض کے سامنے اس کو خوش کرنے والی باتیں کی جائیں، ایسی باتیں نہ کی جائیں جو اس کے دل کو تکلیف پہنچانے والی ہوں، یا اس کے فکر و اندیشے میں اضافہ کرنے والی ہوں، مریض کو تسلی دے اورکہے ان شاء اللہ ٹھیک ہوجاؤگے، کوئی بڑی بات نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے، تومندرجہ ذیل کلمات سے تسلی دیتے تھے:
’’لاَ بَاْسَ، طَہُوْرٌ إِنْ شَاءَ اللہُ۔‘‘ (رواہ البخاري عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ، کتاب المرضی، باب عیادۃ الأعراب:۵۶۵۶)
’’ کوئی تکلیف یا گھبراہٹ کی بات نہیں ہے؛ اس لیے کہ بیماری گناہوں کی صفائی وستھرائی کا ذریعہ ہے، ان شاء اللہ (بہتر ہی ہوگا)۔‘‘
4- مریض کو صحت وتن درستی اورزندگی کی اُمیددلائے، مریض کو نااُمیدبنانے والی گفتگوسے احتراز کرے:
’’ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم بیمارکے پاس جاؤ تو اس سے عمرکی درازی اور لمبی زندگی کی بات کرو، عمر کی درازی کی بات سے اس کی عمر لمبی اور بیماری دور نہیں ہوجائے گی؛ لیکن بیمار خوش اورمطمئن ہوجائے گا۔‘‘ (رواہ الترمذي، أبواب الطب: ۲۰۸۳)
5- مریض کے سر یا بدن کے جس حصے پر تکلیف ہو، اس جگہ داہنا ہاتھ پھیرے، احایث میں بے شمار دعائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، انھیں پڑھ کر دم کرے، ذیل میں چند دعائیں ذکرکی جاتی ہیں، موقع و محل کی رعایت سے اُن کو پڑھ کرمریض پر دم کرے۔
’’ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو، تین مرتبہ بسم اللہ پڑھے، پھر سات مرتبہ مندرجہ ذیل دعاپڑھ کراللہ تعالیٰ سے شفا کی دعا کرے، تواللہ تعالیٰ اس مریض کو ضرور شفا عطا فرماتے ہیں:
’’اَسْاَلُ اللہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَکَ۔‘‘ (رواہ الترمذي، أبواب الطب: ۲۰۸۳)
’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:جب ہم میں سے کوئی آدمی بیمارہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا داہنا ہاتھ (بدن کے اس حصے پر) پھیرتے (جس جگہ تکلیف ہے) پھر مندرجہ ذیل دعا پڑھتے:
’’ اللّٰہُمَّ رَبَّ النَّاسِ اَذْہِبِ الْبَاسَ، اشْفِہٖ وَاَنْتَ الشَّافِيْ، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤکَ، شِفَاءً لاَ یُغَادِرُ سَقَمًا۔‘‘ (رواہ البخاري، کتاب الطب، باب رقیۃ النَّبِيّ صلی اللہ علیہ وسلم : ۵۷۴۳)
’’ اے اللہ!اے لوگوں کے پروردگار! تکلیف اورمرض کو دور فرما، اس مریض کو شفانصیب فرما، آپ ہی شفا عطا فرمانے والے ہیں، ایسی شفا نصیب فرما جو کسی بیماری کو باقی نہ چھوڑے، سب کو دور کرے۔‘‘
’’ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جبریل امین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اور عرض کیا: اے محمد! تم بیمار ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! میری طبیعت خراب ہے، پھرجبرئیل امین m نے مندرجہ ذیل دعا (جو نظربد اور برے اثرات کے لیے نہایت مفید و مجرب ہے) پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دم کیا:
’’ بِاسْمِ اللہِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَيْءٍ یُوْذِیْکَ، مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْ عَیْنِ حَاسِدٍ، اللہُ یَشْفِیْکَ بِاسْمِ اللہِ اَرْقِیْکَ۔‘‘
’’ اللہ کے نام سے تم پر دم کرتاہوں، ہرچیز کے شرسے جوتمہیں تکلیف پہنچائے، ہرنفس کے شر اور حاسد کی نظربد سے، اللہ تمہیں شفا عطا فرمائے، اللہ کے نام سے تم پر دم کرتاہوں۔‘‘ (رواہ مسلم، کتاب الاٰداب، باب الطب والمرض:۲۱۸۶)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسنین رضی اللہ عنہما کو (نظربد اور انسانی وغیرانسانی اذیتوں سے حفاظت کے لیے) مندرجہ ذیل کلمات سے دم کیاکرتے تھے اور فرماتے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنے بچے حضرت اسحاق اوراسماعیل علیہما السلام کو ان کلمات سے دم کیاکرتے تھے:
’’ اُعِیْذُکُمَا بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَہَامَّۃٍ، وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّۃٍ، وَیَقُوْلُ: ہٰکَذَا کَانَ إِبْرَاہِیْمُ یُعَوِّذُ إِسْحَاقَ وَإِسْمَاعِیلَ۔‘‘ (رواہ الترمذي، أبواب الطب، باب مَا جَاء في الرقْیۃ من العیْن:۲۰۶۰)
’’ میں اللہ تعالیٰ کے کلماتِ تامہ(اس کے اسمائے حسنیٰ اوراس کی نازل کردہ کتب) کے توسط سے شیطان مردود، ہرقسم کے زہریلے جانور اورہرملامت کرنے والی آنکھ (جو نظرِبد کا سبب ہوتی ہے) سے تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔‘‘
6- مریض کے پاس زیادہ دیرنہیں ٹھہرنا چاہیے۔
بعض مرتبہ مریض کو آرام یا بعض خاص ضروریات کی تکمیل کا تقاضا ہوتا ہے، بیمار اور تیماردار مہمان کے واپس ہونے کے انتظار میں رہتے ہیں، زبان سے کہہ نہیں سکتے، جس کی وجہ سے ان لوگوں کی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے، اس لیے مریض اورتیمارداروں سے چند تسلی کے کلمات کہہ کرچلے آنا چاہیے؛ البتہ اگر مریض خود خواہش مند ہو اور اہل خانہ کو بھی کوئی زحمت نہ ہو تو دیر تک بیٹھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
7- مریض کے پاس شوروشغب نہیں کرنا چاہیے؛ اس لیے کہ شوروشغب سے مریض کو بھی اذیت ہوتی ہے اورتیمارداروں کو بھی برالگتاہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’الْعِیَادَۃُ فَوَاقَ نَاقَۃٍ۔‘‘ (مشکوٰۃ، کتاب الجنائز، باب عیاۃ المریض:۱۵۹۰)
’’ عیادت دودھ دوہنے کے وقت کے بقدر ہونی چاہیے۔‘‘
حضرت سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ سے مرسلاً مروی ہے: ’’سب سے جلد واپسی والی عیادت سب سے افضل ہے۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’عیادت میں سنت یہ ہے کہ مریض کے پاس کم وقت ٹھہرا جائے اور شورشرابہ نہ کیا جائے۔‘‘
مریض کو سکون اور خاموشی کا ماحول اچھا لگتا ہے، شور و غل سے تکلیف اور اُلجھن محسوس ہو تی ہے؛ اس لیے عیادت کرنے والوں اور تیمار داروں کو غیر ضروری بات چیت سے احتراز کرنا چاہیے۔
’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: مِنَ السُّنَّۃِ تَخْفِیْفُ الْجُلُوْسِ، وَقِلَّۃُ الصَّخَبِ فِي الْعِیَادَۃِ عِنْدَ الْمَرِیْضِ رَوَاہُ رَزِیْنٌ ۔‘‘ (مشکوۃ المصابیح، کتاب الجنائز:۱۵۸۹)
’’اگر کوئی شخص ایسا ہو کہ مریض کو اس کے قریب رہنے سے خوشی حاصل ہوتی ہو، راحت ملتی ہو، یا کوئی ایسی شخصیت ہوجس سے حصولِ برکت کی اُمید ہو توان لوگوں کے مریض کے پاس دیر تک رہنا جائز ہے۔‘‘ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز، باب عیاۃ المریض:۱۵۹۰)
8- مریض کسی کھانے پینے کی چیز کی خواہش کرے اور وہ چیز اس کی صحت کے لیے نقصان دہ نہ ہو تو وہ چیز مریض کے لیے فراہم کرنا چاہیے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اس بیمارسے فرمایا:کیاکھاناچاہتے ہو؟بیمارشخص نے کہا:گیہوں کی روٹی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اس مریض کے پاس بھیج دے۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:جب کوئی مریض کسی چیز کے کھانے کی خواہش کرے، تو اس کو وہ چیز کھلادے۔‘‘ (ابن ماجۃ، کتاب الطب، باب المریض یشتھي الشيء:۳۴۴۰)
9-جب عیادت کے لیے جائے تومریض سے دعاکی درخواست کرنی چاہیے؛اس لیے کہ مریض کی دعا قبول ہوتی ہے۔
حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ، تو اس سے دعاکی درخواست کرو؛ اس لیے کہ مریض کی دعا(قبولیت میں )ملائکہ کی دعاکی طرح ہوتی ہے۔‘‘ (ابن ماجۃ، کتاب الطب، باب المریض یشتھي الشيء:۳۴۴۱)
10-عیادت کے لیے مناسب وقت میں جائے؛کیوں کہ بعض اوقات مریض اور تیماردار کے آرام اور ضروریات کے ہوتے ہیں؛ اس لیے ان چیزوں کالحاظ رکھنا چاہیے۔ (فتح الباري، کتاب المرضی، باب وجوب عیادۃ المریض:۵۶۴۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں اورعورتوں یہاں تک کہ غیرمسلموں کی عیادت کے لیے بھی تشریف لے جاتے تھے؛ اس لیے کہ انسانیت کی بنیاد پر وہ بھی ہمدردی کے مستحق ہیں، ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کی عیادت کرنا تو اسلامی حق ہے؛ مگر اس سے آگے بڑھ کر انسانیت کی بنیاد پربلاتفریقِ مذہب و ملت غیرمسلم برادرانِ وطن کی مزاج پرسی بھی اجر و ثواب سے خالی نہیں، اگراس میں تبلیغِ اسلام کی نیت کرلی جائے تو پھر نور علی نور۔ اس کے بہتر اورمفید نتائج سامنے آتے ہیں۔
ایک یہودی لڑکارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمارہوگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی لڑکے کی خبر گیری اور عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور اس کو اسلام کی دعوت دی اور فرمایا: اسلام قبول کرلو، (اس کا باپ بھی وہیں بیٹھا ہوا تھا) وہ یہودی لڑکا اپنے باپ کو دیکھنے لگا، باپ نے کہا: بیٹا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لے، بیٹے نے فوراًکلمہ پڑھا، اورانتقال کرگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’الحمد للہ الذي أنقذہ من النار۔‘‘ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اس بچے کو جہنم سے بچالیا۔‘‘ (رواہ البخاري عن أنس، کتاب الجنائز، باب إذا أسلم الصبي، فمات:۱۳۵۶)
(بشکریہ ماہنامہ دارالعلوم دیوبند)