
انسان اپنی محدود عقل، ناقص فہم اور مختصر تجربہ اور مشاہدے کے ساتھ زندگی کے پیچیدہ راستوں میں قدم رکھتا ہے۔ کبھی اسے کسی فیصلے میں خیر نظر آتی ہے، مگر انجام نقصان دہ نکلتا ہے، اور کبھی کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے، مگر بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اسی میں بھلائی پوشیدہ تھی۔ انسان کا علم محدود جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم کامل ہے، وہ ماضی، حال اور مستقبل کا جاننے والا، ظاہر و باطن کا واقف اور خیر و شر کے تمام پہلوؤں سے باخبر ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن کریم میں نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے :
’’وَعَسٰی اَنْ تَکْرَہُوْا شَيْـــًٔا وَّ ہُوَ خَيْرٌ لَّکُمْ وَعَسٰی اَنْ تُحِبُّوْا شَيْـــًٔا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللّٰہُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘
’’ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو، حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور یہ بھی ممکن ہے تم کسی چیز کو پسند کرو، حالانکہ وہ تمہارے حق میں نقصان دہ ہو، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ: ۲۱۶)
یہ آیت انسان کی بے بسی اور اللہ تعالیٰ کی حکمتِ کاملہ کو واضح کرتی ہے۔
اسی لیے شریعت نے بڑے فیصلوں میں دو عظیم سنتیں عطا فرمائیں:
1- استشارہ (مشورہ)
2- استخارہ (اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنا)
ایک کا تعلق اسبابِ ظاہری اور زمینی دنیا سے ہے اور دوسرے کا تعلق ربِّ کریم کی بارگاہ سے ہے۔
’’استشارہ‘‘ کا مطلب ہے: اہلِ علم، اہلِ تجربہ اور مخلص لوگوں سے مشورہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَيْنَہُمْ‘‘(سورۃ الشوریٰ: ۳۸)
’’اور ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔‘‘
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم دیا گیا:
’’وَشَاوِرْہُمْ فِي الْاَمْرِ‘‘ (سورۃ آل عمران: ۱۵۹)
’’اور معاملات میں ان(صحابہؓ) سے مشورہ کیجیے۔‘‘
حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے سائے میں تھے، اس کے باوجود مشورہ فرماتے تھے، تاکہ امت کو تعلیم ملے کہ اجتماعی اور اہم معاملات میں رائے لینا کوئی عیب کی بات نہیں ہے، بلکہ ہماری انفرادی اور معاشرتی ضرورت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی مشورے کے عملی نمونوں سے بھری ہوئی ہے، مثلاً: صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ علیہ السلام کا حضرت اُمّ سلمہؓ سے مشورہ لینا، چنانچہ سن ۶ ؍ہجری میں جب مسلمان عمرہ کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے تو کفارِ مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر روک دیا۔ طویل گفت و شنید کے بعد صلح حدیبیہ کا معاہدہ طے پایا۔ معاہدے کے مطابق مسلمانوں کو اسی سال واپس جانا تھا۔
صحابۂ کرامؓ جذباتی کیفیت میں تھے، وہ عمرہ کی اُمید سے آئے تھے، اس لیے واپسی ان پر گراں گزر رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو فرمایا کہ احرام کھول دیں اور قربانی کرلیں، مگر غم اور جذبات کی کیفیت سے صحابہؓ خاموش رہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تشریف لائے اور اپنی زوجۂ مطہرہ حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس حوالے سے مشورہ فرمایا کہ کیا کیا جائے؟ انہوں نے عرض کیا کہ : ’’یارسول اللہ! آپ خود باہر جاکر قربانی فرما دیں اور سر منڈوا لیں، صحابہؓ آپ کو دیکھ کر خود آپ کی اتباع کرلیں گے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مشورے پر عمل فرمایا اور دیکھتے ہی دیکھتے صحابہؓ نے بھی یہی عمل دہرایا جس سے فوری طور پر معاملہ آسان ہوگیا۔ (صحیح البخاري، کتاب الشروط)
اس واقعے سے معلوم ہوا کہ :
1- عورت اگر صاحبِ رائے اور مشاورت کی اہلیت رکھتی ہو تو اس سے بھی مشورہ لیا جاسکتا ہے۔
2- مشورہ عمر کا محتاج نہیں، قابلیت کا محتاج ہے۔
3- مشکل حالات میں اہلِ بصیرت سے رائے لینا سنت عمل ہے۔
4-مشورہ کسی خیر خواہ اور مخلص بندہ سے لینا چاہیے جو دل میں آپ کے لیے نیک جذبات رکھتا ہو۔
کن لوگوں سے مشورہ کرنا چاہیے؟
ہر شخص مشورے کے قابل نہیں ہوتا۔ شریعت نے مشاورت کے کچھ اصول سمجھائے ہیں:
جس شعبے کا مسئلہ ہو، اسی کے ماہر سے مشورہ کیا جائے، مثلاً:
۱- دینی و شرعی مسئلہ علماء و مفتیان سے۔
۲- کاروباری مسئلہ تجربہ کار کاروباری سے۔
۳- طبی مسئلہ ماہر ڈاکٹر اور معالج سے کیا جائے۔
یہ عقل اور شریعت دونوں کا تقاضا ہے کہ جب انجینئر شریعت سمجھائے،عالم کاروبار کے گر بتائے، ڈاکٹر ‘فنکار اور یوٹیوبر بن جائے تو یہ سب مشورے کے اہل نہیں ہوتے، بلکہ انسانی نظامِ زندگی کو ہی متاثر کردیتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اَلْمُسْتَشَارُ مُوْتَمَنٌ‘‘(سنن ترمذی، حدیث: ۲۸۲۲)
’’جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہوتا ہے۔‘‘
یعنی مشورہ دینے والے پر دو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
1-خلوص وہمدردی کے ساتھ درست مشورہ دینا
2-مشورہ کو راز رکھنا
اگر کوئی شخص رشتے، کاروبار یا کسی بھی حساس معاملہ کے بارے میں پوچھے تو حقیقت چھپانا درست نہیں، جو علم میں ہے بتانا چاہیے، جو علم میں نہیں ہے تب بھی واضح کردینا چاہیے، ٹال مٹول سے کام لینا مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ علماء یہاں تک بتاتے ہیں کہ مشورے کے دوران غیبت کرنا بھی جائز ہے، مثلاً کوئی کسی سے کاروبار یا رشتہ کرنا چاہ رہا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ وہ فراڈی ہے یا شرابی ہے تو اس بات کو مشورے میں رازدار انداز سے بیان کردینا غیبت نہیں ہے، بلکہ خیر خواہی ہے اور اس بات کو دوستی یاری یا بلا وجہ اچھا بننے کے چکر میں چھپادینا خیانت ہے، کیونکہ مشورہ امانت ہے اور امانت میں رازداری اور دیانت داری دونوں کا لحاظ کرنا ضروری ہوتا ہے۔
مشورہ حکم ہوتا ہے؟
نہیں، مشورہ حکم نہیں ہوتا بلکہ مشورہ مشورہ ہی ہوتا ہے، جس پر عمل کرنا نہ کرنا مشورہ لینے والے کی اپنی مرضی ہے، ضروری نہیں کہ وہ مشورہ دینے والے کی بات لازمی مان لے، کیونکہ مشورہ دینے والے نے فقط خیر خواہی میں مشورہ دیا ہے اور اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے، جج بن کر آرڈر نہیں دیا کہ اس کا حکم ہر حال میں نافذ کیا جائے۔
حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت مغیث رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ سے شدید محبت کرتے تھے، مگر حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہؓ سے فرمایا:
’’اگر تم اپنے شوہر کے پاس واپس چلی جاؤ تو بہتر ہے۔‘‘ حضرت بریرہؓ نے عرض کیا: ’’اَتَاْمُرُنِيْ يَا رَسُوْلَ اللہِ؟‘‘، ’’یارسول اللہ! کیا یہ حکم ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ‘‘، ’’نہیں، میں تو صرف سفارش/مشورہ دے رہا ہوں۔‘‘ اس پر حضرت بریرہؓ نے عرض کیا: ’’پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں۔‘‘ (صحیح البخاري)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ جواب سن کر ناراض نہیں ہوئے، کیونکہ آپ علیہ السلام جانتے تھے کہ یہ بالغ لڑکی ہے اور بالغ لڑکی کسی کے ساتھ رہنا پسند کرے نہ کرے، یہ اس کی اپنی زندگی اور مرضی کا فیصلہ ہوا کرتا ہے، اس پر کوئی بھی شخص یہاں تک کہ اس کے والدین بھی زبردستی نہیں کرسکتے۔یہاں سے معلوم ہوا:
۱- مشورہ ماننا لازم نہیں۔
۲- اختلافِ رائے پر ناراض نہیں ہونا چاہیے۔
۳- مشورہ خیرخواہی ہے، جبر اور عدالتی فیصلہ نہیں ہے۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ: اگر کسی مجلس میں سب سے مشورہ لیا جائے اور آخر میں پتہ چلے کہ سب کی ایک ہی رائے ہے تو مفتی صاحبؒ فرماتے تھے کہ اس کے دو مطلب نکل سکتے ہیں:
۱-ایک تو یہ کہ مجلس میں موجود تمام افراد نااہل اور نالائق ہیں، ان میں رائے دینے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔
۲-دوسرا یہ کہ اگر وہ اہلیت رکھتے ہیں تو پھر سب کے سب خائن ہیں اور خیانت کررہے ہیں اور کسی کے جبر،خوف،بزدلی یا ڈر کی وجہ سے اپنی رائے پیش نہیں کررہے۔ (مجالس مفتی اعظم ؒ)
اسی لیے فرمایا کہ مشورہ کوئی معمولی عمل نہیں ہے، اس کے لیے بہت سی صفات کا حامل ہونا ضروری ہے، جن میں بہادری،اہلیت و قابلیت، تجربہ کاری، خیر خواہی، امانت داری، صاف گوئی اور رازداری جیسی اہم صفات شامل ہیں۔
’’استخارۃ‘‘ عربی لفظ ’’خَیْر‘‘ سے نکلا ہے، جس کا آسان مطلب ہے: ’’اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنا۔‘‘
استخارہ میں انسان اپنے علم، طاقت،اختیار اور تدبیر کی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے کہ :
’’اے اللہ! میرے لیے جو بہتر ہو وہی مقدر فرما۔‘‘
کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میرے لیے دین و دنیا اور آخرت کے اعتبار سے بہتر کیا ہے، میرا علم، تجربہ، طاقت، اختیار اور سوچ سب محدود ہیں، یہ سب مجھے حقیقت تک نہیں پہنچاسکتے، اسی لیے میں اپنی محتاجی کا اظہار زمین والوں سے مشورہ کرکے اور آسمان والے سے استخارہ کی صورت میں کررہا ہوں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’کَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَۃَ فِي الْأمُورِ کُلِّہَا کَمَا يُعَلِّمُنَا السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْاٰنِ۔‘‘ (صحیح البخاری، حدیث: ۱۱۶۶)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’إِذَا ہَمَّ اَحَدُکُمْ بِالْأمْرِ فَلْيَرْکَعْ رَکْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيْضَۃِ۔‘‘ (صحیح البخاری)
’’جب تم میں سے کوئی کسی اہم کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نماز(نفل) پڑھے۔‘‘
پھر یہ دعا پڑھے:
’’اللّٰہُمَّ إِنِّيْ اَسْتَخِيْرُکَ بِعِلْمِکَ، وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَاَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِيْمِ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ، وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ، اللّٰہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ہٰذَا الْأمْرَ (یہاں اپنے کام کا نام لے) خَيْرٌ لِيْ فِيْ دِيْنِيْ، وَمَعَاشِيْ، وَعَاقِبَۃِ اَمْرِيْ - اَوْ قَالَ: عَاجِلِ اَمْرِيْ وَاٰجِلِہٖ - فَاقْدُرْہُ لِيْ، وَيَسِّرْہُ لِيْ، ثُمَّ بَارِکْ لِيْ فِيْہِ، وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ہٰذَا الْأمْرَ شَرٌّ لِيْ فِيْ دِينِيْ، وَمَعَاشِيْ، وَعَاقِبَۃِ اَمْرِيْ - اَوْ قَالَ: عَاجِلِ اَمْرِيْ وَاٰجِلِہٖ - فَاصْرِفْہُ عَنِّيْ، وَاصْرِفْنِيْ عَنْہُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ کَانَ، ثُمَّ اَرْضِنِيْ بِہٖ۔‘‘ (صحیح بخاری)
’’اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے خیر مانگتا ہوں، اور تیری قدرت کے ذریعے طاقت چاہتا ہوں، اور تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو تمام غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔
اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یہاں اپنے کام کا نام لے) میرے دین، میری دنیا (معاش)، اور میرے انجام کے اعتبار سے یا فرمایا: میرے موجودہ اور آئندہ معاملے کے لحاظ سے میرے لیے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر فرما، اسے میرے لیے آسان فرما، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما۔
اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین، میری دنیا (معاش)، اور میرے انجام کے اعتبار سے یا فرمایا: میرے موجودہ اور آئندہ معاملے کے لحاظ سے میرے لیے برا ہے تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے، اور میرے لیے خیر مقدر فرما جہاں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔‘‘
استخارہ: آسان دعا اور آسان نماز
دو رکعت نفل نماز (سوائے مکروہ اوقات کے) پڑھ کر سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا مانگی جائے، جس کام کے لیے استخارہ کرنا ہو، دعا میں ’’ہٰذَا الْأمْرَ‘‘ کے مقام پر اس کام یا شخص کا نام لے یا تصور کرے۔
استخارہ کوئی جادوئی یا عملیات قسم کا عمل نہیں ہے، بلکہ استخارہ میں تو انسان اپنی عاجزی کا اعتراف کرتا ہے، اللہ کے علم پر اعتماد کرتا ہے، اللہ سے خیر مانگتا ہے،شر سے حفاظت طلب کرتا ہے اور بس دعا مانگتا ہے۔
یہ ایک عام غلط فہمی ہے، کیونکہ استخارہ کے لیے خواب آنا شرط نہیں، بلکہ معاملات کا آسان ہوجانا، دل کا مطمئن ہوجانا، اللہ کی طرف سے رہنمائی کا مل جانا، غلطیوں اور دھوکہ سے محفوظ رہنا، حالات و واقعات کا شعور پیدا ہونا، صحیح غلط کی صلاحیت اور پہچان کا پیدا ہونا اور پھر اسباب کا انتظام ہوجانا وغیرہ، یہ استخارہ کا مقصد ہے۔
استخارہ ایک دعا ہے اور دعا مانگ کر خواب کا انتظار کرنا اور لال، کالے اور پیلے رنگوں کا انتظار کرنا یہ سب ڈھونگ اورفریب ہے۔
اگر ایک مرتبہ استخارہ کرنے سے اطمینان نہ ہو تو دوبارہ بھی استخارہ کیا جاسکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ سات مرتبہ تک کیا جاسکتا ہے اور اس طرح ایک دن میں ایک سے زائد مرتبہ بھی ہوسکتا ہے اور الگ الگ دنوں میں بھی ہوسکتا ہے۔
استخارہ ایک دعا ہے اور دعا اپنے لیے جو خود کی جاسکتی ہے وہ کوئی دوسرا آپ کے لیے کبھی نہیں کرسکتا۔ جو آہ، تڑپ، دلسوزی، خشوع، گریہ اور درد ہم خود محسوس کرسکتے ہیں‘ کوئی دوسرا قیامت تک ہمارے لیے ایسا جذبہ پیدا نہیں کرسکتا۔بقول اقبال ؒ:
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
خاص کر بعض لوگ جو پیسے لے کر استخارہ نکلوانے کا دھندا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے ہاتھوں کا شکار ہمیشہ دین سے نابلد اور جاہل عوام ہی ہوتی ہے اور پھر بعد میں پورے مذہبی طبقے کو ان حرکتوں کے طعنے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
بعض اوقات ضرورت اور ایمرجنسی کے موقع پر یہ مختصر سی دعا بھی استخارہ کے لیے لیٹے، بیٹھے، چلتے پھرتے پڑھ سکتے ہیں:
’’اَللّٰہُمَّ خِرْ لِيْ وَاخْتَرْ لِيْ۔‘‘
’’اے اللہ! میرے لیے خیر کا فیصلہ فرما اور میرے لیے بہترین انتخاب کر دے۔‘‘
بعض لوگ صرف استخارہ کرتے ہیں مگر مشورہ نہیں لیتے، اور بعض صرف لوگوں سے پوچھتے ہیں، مگر اللہ سے رجوع نہیں کرتے، جبکہ سنت یہ ہے کہ:
پہلے استشارہ، پھر استخارہ، پھر توکل علی اللہ ۔
اس بات میں ذرہ برابر شک نہیں کہ جو ان دو اعمال کے بعد کوئی نیا قدم اُٹھاتے ہیں تو وہ کبھی بھی پچھتاوے، دھوکے اور شرمندگی کا شکار نہیں ہوتے، بلکہ اللہ ان کی ضرور مدد کرتا ہے اور یہ اعمال کرکے اپنی کھلی آنکھوں سے تجربہ کرکے دیکھ سکتے ہیں، ان شاءاللہ۔
1- اہل لوگوں سے مشورہ
2- اللہ سے خیر طلب کرنا
3- پھر اعتماد کے ساتھ قدم اٹھانا
زندگی کے راستے ہمیشہ واضح نہیں ہوتے۔ کبھی رشتے، کبھی تعلیم، کبھی کاروبار، کبھی رہائش، کبھی ملازمت اور کبھی زندگی کے بڑے فیصلے انسان کو شک اور تذبذب میں ڈال دیتے ہیں۔
ایسے وقت میں مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی عقل پر غرور نہ کرے، بلکہ اہلِ خیر سے مشورہ لے، اللہ سے استخارہ کرے اور بالآخر نتائج اللہ کے سپرد کردے، کیونکہ ’’وَاللّٰہُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ‘‘، ’’اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اور اللہ تمہیں کبھی بھی گرنے نہیں دے گا، ان شاءاللہ۔