
امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ہر تحریر علوم و معارف کا گنجینہ ہوتی ہے، جس کے حقائق و دقائق کایہ عالم ہے کہ ان کے ایک ایک جملہ پر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ مستقل رسالہ لکھ سکتےتھے، تبھی تو وہ اُنہیں ’’حجۃ الإسلام‘‘ قرار دیتے تھے۔ شاہ صاحبؒ کی تحریرات اس کی بین گواہ ہیں کہ ان کی طرف جومقولہ منسوب ہے، اس کی صحت میں کوئی اشکال نہیں۔ فرماتے تھے کہ رمضان میں بمشکل ایک بار تلاوتِ قرآن کر پاتا ہوں کہ صدیوں کے علوم ومعارف اپنے تمام تر تنوع، اقسام، اختلاف اور توسع کے ساتھ ان پر آ وارد ہوتے، اس پر مستزاد اُن کا اَخّاذ ذِہن، قوتِ استنباط واستخراج، وسعتِ فکر! اللہ اللہ کیا عالم ہوگا!؟
یقیناً اگر اکابر کی خواہش پرشرح بخاری و ترمذی پر اُنہیں قلم اُٹھانا میسر آجاتا تو ماضی کی علمی یادگاریں قصۂ پارینہ بن جاتیں۔ علمی مقام ومرتبہ کے تعیُّن میں بڑے بڑے نام ان کے بعد لیے جاتے: ’’کم ترک الأول للاٰخر‘‘ دُہرایاجاتا، اور ’’وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّایَلْحَقُوْابِہِمْ‘‘ کی تفسیر سامنے آتی:
ہيہات لايأتي الزمان بمثلہٖ
إن الزمان بمثلہٖ لبخيلٗ
افسوس کہ یہ فقیر اِنشائی اسلوب، ذخیرۂ الفاظ اور شاہ صاحبؒ کے مقام و مرتبہ کے اظہار کے لیے ضروری مواد سے تہی دامن ہے اور اسی شعر پر اکتفا کرتا ہے :
تمنيت أن القلب کان لساني
يبوح بشيء يحتويہ جناني
فإنني إذا مارمت إظہار فضلکم
تقصر عنہ منطقي و بياني
شاہ صاحبؒ نے ۱۳۳۸ ہجری میں بعمر ۴۶ سال فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر ایک رسالہ بنام ’’فصل الخطاب‘‘لکھا، جس میں انہوں نے اپنے بحرِمواج کے ترجمان قلم سیال سے فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غرض تک پہنچنے کی سعی کی۔ مناظرانہ غرض اُن کے پیش نظرنہ تھی۔(کتاب مذکور، ص: ۷، مطبوعہ دارالبشائر الاسلامیہ، ۲۰۱۰ء)
کتاب میں انہوں نے دراصل اس موضوع پر آنے والی جملہ روایات کے الفاظ وجملوں کا باہمی ربط، ان پر وارد ہونے والے نحوی، منطقی، بیانی، فقہی، حدیثی روایتاً ودرایتاً، لفظی معنوی اشکالات، تعارض اور تناقض کا حل پیش کیا ہے۔ اور اپنے مشہور مقولہ ’’فإن الحديث إذا لم تجمع طرقہٗ، لاينکشف مرادہٗ‘‘ (فيض الباري۱: ۴۳۲) کو چمکتے سورج کی طرح عیاں کیا ہے اور انہی علوم میں اپنی اجتہادی صلاحیتوں سے استخراج اور استنباط سے متعدد نئی مباحث کو چھیڑا ہے۔ شاید علامہ کوثری مرحوم نے اسی کتاب کو پڑھ کر کہا ہوگاکہ: ’’ابن ہمامؒ کےبعدکوئی شخص سوائے امام العصر کےایسانہیں آیا، جواحادیثِ نبویہ سے ایسی نادرمباحث پیش کرسکتا ہو۔‘‘
موضوعِ تحقیق کی وسعت کااندازہ اس سے ہوسکتاہے کہ شاہ صاحبؒ نے ان مباحث پر گفتگو کی ہے:
قراءت سے مراد فاتحہ کی قراءت ہے، یا سورت آخر کی، یا دونوں کی؟ ان کا حکم شرعی اباحت ہے یا وجوب؟ یہ حکم شرعی دونوں کا ہے یا ایک کا؟ حکم میں یکسانیت ہے یا نہیں؟ حکمِ شرعی کا تعلق امام سے ہے، مقتدی سے ہے، منفرد سے ہے، یا سب سے، یا بعض سے ؟
اس موضوع پر رواتِ حدیث کے یہاں ملنے والے تمام الفاظ کونقل کرتے ہوئے ان پر محاکمہ، ادلۂ موافق و مخالف کا بیان، تعارض وتناقض کا حل پیش کرتے ہوئے محققین، ائمہ مجتہدین، ائمہ فقہ، تفسیر، حدیث، رجال، ادب، اصول، منطق کی نقول کی روشنی میں معانیِ راجحہ ومرجوحہ کاتعین کرتے ہوئے اُن کے تعیُّن پر قرآن وحدیث، اشعار ومحاورات اور ادلۂ عقلیہ کے ساتھ اپنے فیضِ خاطر سے لطیف استنباطات کو پیش کیا ہے۔ بلاشبہ علامہؒ کی تحریرات پڑھ کریہ خیال آتا ہے کہ اپنے اپنے زمانہ کے علومِ مختلفہ کے گنے چنے ائمہ فن محققین کے دماغ خود میں سموئے اس نابغۂ جہاں نے قلم اُٹھایا ہوگا:
وليس علی اللہ بمستنکر
أن يجمع العالم في واحد
’’فصل الخطاب‘‘کی ایک مختصر فصل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تحریر علومِ انوری کی تقریب کےلیے رقم کی گئی ہے۔ اس میں بین القوسین عبارات ہماری طرف سے بغرضِ تسہیل وتفہیم پیش کی گئی ہیں۔
فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر، حدیثِ عبادہ میں ایک جملہ ہے:
’’لاتفعلو إلابأم القراٰن؛ فإنہٗ لاصلاۃ لمن لم يقرأبہا۔‘‘ اس کی توضیح کرتےہوئےحضرت علامہ کشمیریؒ فرماتے ہیں کہ :
’’فصل: ويحتمل أن يکون الاستثناء للإباحۃ. ثم قولہ : فإنہ لا صلاۃ لمن لم يقرأ بہا تعليم لحکم آخر مستقل من حيث کونہم مصلين، لا من حيث کونہم مقتدين، أراد الإخبار بہٰذا وبہٰذا، وہو وجوبہا في الصلاۃ المطلقۃ، ولعل ضمير الشأن يأتي لمثل ہٰذا، وعلمان خير من علم.
والإباحۃ علی تقدير کون القصر للقلب، أو للتعيين أظہر، ولا ينافيہ قصر الإفراد أيضاً. والباء في قولہ: إلا بأم القرآن داخلۃ علی المفعول بہ، والمراد الاقتصار عليہا، بخلاف قولہٖ : ’’فإنہٗ لا صلاۃ لمن لم يقرأ بہا‘‘ أي لم يأت بہا في جملۃ القراءۃ۔ ونظيرہٗ في تعليم أمرين قولہٗ تعالی : ’’وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی‘‘ أشکل وجہہ، والوجہ فيہ أن قولہ : ’’وَتَزَوَّدُوْا‘‘ أمر، وقولہ : ’’فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی‘‘ تعليم أمر آخر، وحکم ثان لہم، فقد کانوا أخذوا السؤال زاداً، فعلمہم أن يتزودوا، وأن خير الزاد: التقوی، والمراد بہا معناہا المعروف.
ففي الدر المنثور : وأخرج عبد بن حميد عن قتادۃ : وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی، قال : کان ناس من أہل اليمن يحجّون، ولا يتزوّدون، فأمرہم اللہ بالزاد والنفقۃ في سبيل اللہ، وأخبرہم أن خير الزاد التقوی.
وأخرج الترمذي والحاکم عن أنسؓ قال: جاء رجل، فقال: يا رسول اللہ! إني أريد سفراً، فزوّدني، فقال: زوّدک اللہ التقوی، قال : زدني، قال: وغفر ذنبک، قال: زدني بأبي أنت وأمي، قال:ويسر لک الخير حيثما کنت . وأخرج الترمذي وحسنہٗ، والنسائي وابن ماجۃ والحاکم وصحّحہ عن أبي ہريرۃؓ، قال: جاء رجل إلٰی رسول اللہ ﷺ يريد سفراً، فقال : أوصني، قال: أوصيک بتقوی اللہ، والتکبير علی کل شرف .... إلخ . وليس المعنی أن خير زاد يکون ہو ما يتّقی بہ عن السؤال. و في قنوت الوتر علی مختار الحنفيۃ، وہما سورتان من مصحف ابن مسعودؓ، وأبيؓ، کما في الکنز و الإتقان: نرجو رحمتک، ونخشی عذابک، إن عذابک بالکفار ملحق، فہٰذا وجہ۔ وأکثر ما يقع ہٰذا فيما يريد المتکلم مسايرۃ الواقعۃ، وإفادۃ ما عندہٗ. نبّہ عليہ في أحکام القرآن في قولہٖ تعالٰی: ’’يٰاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَہَادَۃُ بَيْنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّۃِ اثْنٰنِ۔‘‘
عبارت کاحاصل یہ ہے کہ:
’’اس بات کا احتمال ہے کہ یہاں ’’لاتفعلوا إلا بأم القراٰن‘‘میں استثناء اباحت کے لیے ہو اور اگلا جملہ ’’فإنہ لاصلاۃ لمن لم يقرأ بہا‘‘ مستقل طور پر ایک نئےحکم پر مشتمل ہو، کیونکہ مخاطب جماعت دو حیثیتیں رکھتی تھی، ایک حیثیت مقتدی کی تھی، دوسری مطلق نمازی ہونے کی، چنانچہ ان دونوں حیثیتوں کا اعتبار کرتے ہوئے دو حکم دیے گئے: ایک یہ بتایا گیا کہ مقتدی کی حیثیت سے قراءتِ فاتحہ مباح ہے اوردوسرایہ کہ مطلق مصلی کی حیثیت سے قراءتِ فاتحہ واجب ہے۔ شاید ضمیرِ شان اسی چیز کا فائدہ دے رہی ہے۔ شاہ صاحبؒ نے ص: ۱۳۲پرائمہ نحوو بلاغت کی نقول پیش کی ہیں کہ ضمیرِشان تاکیدکافائدہ دیتی ہے اور تاکید کااستعمال تب ہوتا ہے جب مخاطب اور متکلم میں اختلاف ہوتا ہے۔ ( اور دو علم ایک علم سے بہتر ہیں۔) دو جملوں کے ایک حکم سے متعلق ہونے سے بہتر ہے کہ ان کو دو مستقل احکام سے متعلق کیا جائے۔
اور چونکہ یہاں پر نفی و استثناءکے ساتھ جملہ استعمال ہوا ہے،جو علم البیان میں قصر کی علامت قرار پاتی ہے اور قصر کی تین اقسام ہیں، تو علامہؒ فرماتے ہیں کہ: تینوں اقسام یہاں پر مراد لی جا سکتی ہیں(چنانچہ یہاں پر قصرِ قلب ) گویا مخاطب وجوبِ قرات کا قائل تھا، متعدد صحابہؓ کااقتداءنبوی میں فاتحہ پڑھنا بعض کے التزام کاپتادیتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اعتقاد کے برعکس اباحت کا حکم دیا، (اورقصرِ تعیین کی صورت) جس میں مخاطب حکمِ وجوب و اباحت کے درمیان متردد تھے، بعض صحابہؓ کا فاتحہ پڑھنا، بعض کا نہ پڑھنااُن کےترددکی علامت ہے(میں حکمِ اباحت مرادہونااظہرہے، اور بصورت قصرِ افراد، اگرچہ حکمِ اباحت اَظہر نہیں، لیکن اس کے مرادہونے کے منافی بھی نہیں )، چنانچہ قصرِ افراد کی صورت میں مخاطب فاتحہ اور غیر فاتحہ دونوں پڑھنےکا اعتقاد رکھتے تھے، جیساکہ روایت میں ہے کہ مقتدی نے ’’سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی‘‘ پڑھی تو شارع نے صرف فاتحہ کاتعین کیا۔
اور پہلے جملے میں باء چونکہ مفعول پر داخل ہے، اس لیے فقط فاتحہ ہی مراد ہے، جن روایات میں فقط فاتحہ کی اجازت مصرح ہے، وہ اس کی دلیل ہیں۔ اور دوسرے جملے میں فی الجملہ قراءتِ فاتحہ مراد ہے؛ کیونکہ یہاں نفیِ کمال مراد ہے، نفیِ صحت مراد نہیں ہے، تبھی درست ہو سکتی ہے کہ یہاں وجوبِ فاتحہ مراد لی جائے، کیونکہ فاتحہ ترک کرنے کے ساتھ کسی نے دوسری آیات کی قراءت کرلی تو فرض کی ادائیگی ہو جائے گی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس جملہ میں قراءتِ فاتحہ سے مراد فی الجملہ وجوبِ قراءتِ فاتحہ ہے، اور نفی کا جملہ کمالِ نفی کے لیے ہے، نفیِ صحت کے لیے نہیں، ورنہ ترکِ فاتحہ مع قراءتِ سورت سے نمازنہ ہوتی۔ نیز علامہ ابن القیمؒ نے بھی ’’بدائع الفوائد‘‘ میں یہی معنی مرد لیا ہے، جسے حضرت شاہ صاحبؒ نے صفحہ: ۵۳ پر نقل کیا ہے۔ نیز جس طرح یہ دونوں جملے لفظاً مستقل ہیں، ویسے ہی معنیً بھی مستقل ہیں، چنانچہ ایک میں اباحت، دوسرے میں وجوب ہے، ایک میں اقتصار، دوسرے میں غير اقتصار معنی مراد ہے۔ اور اس بات کی نظیر کہ اس طرح کےجملوں (یعنی بظاہرعلت معلول کافائدہ دیتے جملوں) میں دونوں جملے مستقل معنی وحکم رکھتے ہوں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’وَتَزَوَّدُوْافَاِنَّ خَيْرَالزَّادِ التَّقْوٰی‘‘ اب اس میں دونوں جملے علت و معلول ہونے کا خیال دیتے ہیں، لیکن (پہلے جملے کی طرح دوسرا بھی مستقل الگ جملہ ہے، چنانچہ اس کی تفصیل یہ ہے کہ لوگ بغیر زادِ راہ لیے حج کو جاتے تھے اورلوگوں سے ضرورت پڑنےپرمانگنے کو ہی بطور زادِ راہ بنائے ہوئے تھے، تو قرآن مجید نے ان کو نصیحت کی کہ وہ زادِ راہ لیا کریں اور ساتھ ہی ایک اِفادہ فرمایا کہ: بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے اور تقویٰ سے یہاں مراد تقویٰ عن السوال نہیں ہے، بلکہ تقویٰ معروف (یعنی گناہوں سے بچنا) ہے۔ اور ظاہر ہے اس معنی کے لحاظ سے یہ پہلے جملے کی تعلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اگرچہ مُوہم ضرور ہے۔
(رہی تقویٰ کے اس معنی میں مرادہونے کی دلیل تو) ’’درِ منثور‘‘ میں قتادہؒ سے مروی ہے کہ یمن کے لوگ حج کیا کرتے تھے اور زادِ راہ نہیں لیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ زادِ راہ اور نفقہ لیا کریں اور یہ خبر دی کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے، چنانچہ راوی کا اسلوبِ بیان اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ یہاں پر دونوں جملے مستقل ہیں، اور مستقل حکم رکھتے ہیں۔
’’ترمذی‘‘ و ’’مستدرک‘‘ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’ایک شخص نے سفر کا ارادہ کیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے زادِ راہ دیجیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے فرمایا کہ: ’’زوّدک اللہ التقوی۔‘‘ (تو اس جملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقویٰ معروف کے لیے تزوّد کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ زادِ راہ کے لیے تقویٰ معروف کو استعمال کیا گیا ہے۔)
اسی طرح ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث صحیح نقل کی ہے کہ: ’’ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کا سفر کا ارادہ تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نصیحت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقویٰ کی نصیحت کی۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ آیتِ قرانی کا دوسرا حصہ تقویٰ معروف کے معنی میں لیا جا سکتا ہے، جبکہ شانِ نزول کے مطابق آیت کا حصہ اولیٰ زادِ سفر معروف معنوں میں مراد لیا گیا ہے، جس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ دونوں جملے بظاہرعلت معلول نظرآتے ہیں، اورایک حکم سے مرتبط معلوم ہوتےہیں، لیکن اپنی حقیقت میں یہ دو مستقل جملے ہیں۔(اسی طرح ایک نظیر) دعاء قنوت ہے، جو کہ حنفیہ کے مختار مسلک کے مطابق ابن مسعود رضی اللہ عنہ واُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مصحف کے مطابق دو سورتیں تھیں، جیسا کہ ’’کنز‘‘ اور ’’إتقان‘‘ میں ہے۔ پیشِ نظر رہے کہ حنفیہ کے یہاں دعاء قنوت کے قرآنِ منسوخ ہونے یا دو سورتیں ہونے کو علامہؒ نے افادۂ مزید کے طور پر پیش کیا ہے۔ علامہؒ کے دعویٰ، صحتِ دعویٰ یادلیلِ دعویٰ میں ان اُمورکاکوئی تعلق نہیں، چنانچہ اس دعا میں ہے: ’’نرجو رحمتک ونخشی عذابک، إن عذابک بالکفار ملحق‘‘ اب اس دعا کا آخری جملہ ماقبل جملے سے علت و معلول کے ربط سے مرتبط نظر آرہا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے لحاظ سے یہ دو مستقل جملے ہیں، کیونکہ پہلے میں مسلمان عذاب سے پناہ مانگ رہے ہیں اور دوسرےمیں کفارکےمعذب ہونے کی بات ہے۔( یہ حدیث کی ایک توجیہ ہے) عموماً اس طرح کا اُسلوب ان مواقع پر ہوتا ہے جہاں پر متکلم ایک واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اپنی طرف سے کوئی اضافی فائدہ بیان کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ ’’أحکام القراٰن‘‘ میں آیت ’’يٰاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَہَادَۃُ بَيْنِکُمْ‘‘ کے تحت اس پر تنبیہ کی گئی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حدیثِ عبادہ میں دونوں جملے مستقل حکم رکھتے ہیں، پہلاجملہ اِباحت اور دوسرا وجوب پر دلالت کرتاہے۔چنانچہ شاہ صاحبؒ نے حدیث کے اس جملہ کی تشریح میں :
۱- علمِ معانی(مبحث قصر)
۲- علمِ بیان(اسلوب بیان)
۳- علمِ نحو (ضمیرِشان)
۴- علمِ فقہ (فقہی حکم کاتعیُّن)
۵- علمِ منطق (علت ومعلول)
۶- علم اللسان والمحاورۃ (بیانِ محاورہ، وتعیینِ معنی تقوی)
۷- اُصولِ فقہ (احکامِ مختلفہ کے مابین رفعِ تعارض پیش کرنا، درست معانی کاتعین کرنا)
۸- علمِ حدیث روایت (نقل روایت مع الحکم علیہ)
۹- علمِ حدیث درایت(تفہیم روایت بالطریق الاجتہادی)
۱۰- علم المصاحف (ابن مسعودؓ واُبیؓ)
۱۱- علمِ تفسیر (آیاتِ مذکورہ کی تفسیر)
۱۲- علم الناسخ والمنسوخ (دعاء قنوت سےاستدلال)
سے استفادہ کرتے ہوئےیہ چند سطری مبحث ان حوالہ جات سے پیش کیاہے:
۱- ’’قرآن مجید‘‘
۲- ’’احکام القرآن‘‘
۳- ’’درِ منثور‘‘
۴- ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘
۵- ’’ترمذی‘‘
۶- ’’نسائی‘‘
۷- ’’ابن ماجہ‘‘
۸- ’’مستدرک‘‘
۹- ’’ کنزالعمال‘‘
انصاف یہ ہے کہ شاہ صاحبؒ کی تعریف میں جو کہا گیا، شاہ صاحبؒ اس مقامِ عالی سے کہیں اوپر ہیں، جو مثالیں کبار اہلِ علم کے نام سے ان کےلیے پیش کی گئیں، ان میں وسعت کی بڑی گنجائش ابھی باقی ہے، فرحمۃ اللہ عليہ واسعۃ۔
کتاب کی یہ ایک چند سطری ’’فصل‘‘ اس مناظرے کی شاہدِ ناطق ہے، جس میں شاہ صاحبؒ نے میرٹھ کے اہلِ حدیث عالم غالباً مولانا احمداللہ یا حمیداللہ میرٹھی صاحب سے اس طرزپرمناظرہ کیا کہ مسلسل دو تین گھنٹے فاتحہ خلف الامام کی روایات پر کلام کرتے رہے، اور پھر ان سے جوابی تقریر کرنے کو فرمایا، تو وہ مبہوت ہوگئے کہ مجھے تو کچھ یاد تک نہیں۔ (تصویرِانور) یقیناً سچ کہاگیاہے کہ شاہ صاحبؒ کی تحریر سمجھنے کے لیے اسے سینکڑوں بار پڑھنا پڑتا ہے۔ اور بلاشبہ اگر کسی کی زندگی کاکل سرمایہ اس جیسی کتاب ہو تو اسے طبقات الفقہاء والمحدثین میں ذکرِ دوام میسر ہوجائے:
أولئک آبائي فجئني بمثلہم
إذا جمعتنا يا جرير المجامع
حضرت شاہ صاحبؒ کے ایک معاصر مولاناعبداللہ صاحب روپڑی نے ’’فصل الخطاب‘‘ کی تردید میں ایک حاشیہ ’’الکتاب المستطاب‘‘ کے نام سے لکھا، جس میں انہوں نےشاہ صاحبؒ پر نقد میں غیرعلمی رویہ اپنایا، لفظی معنوی رکیک جملے کسے ہیں، اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے زیرِبحث فصل میں ان کے نقود ملاحظہ ہوں۔ بین القوسین عبارات اُن کی نقل کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی مختصر اشاراتی جوابات عرض کیے گئے ہیں:
٭[روایت کودو مختلف معانی پرمحمول کرنا مولاناانورشاہ کی اختراع ہے۔]٭
حالانکہ یہ کوشش ادلۂ مختلفہ کے مابین رفعِ تعارض وتطبیق کی ایک صورت تھی اور اس جواب کے ایک جزء پر علامہؒ نے معقول ومنقول ادلۂ ثابتہ پیش کی ہیں۔
٭[’’تقویٰ کا معنی لغوی مرادہویاشرعی، دونوں صورتوں میں استدلال درست نہیں۔اجلہ مفسرین نے تقویٰ عن السوال مرادلیاہے۔تقویٰ کے معنی کے تعین پرمولاناانورشاہ نے جو روایات نقل کی ہیں، وہ بےمحل ہیں۔‘‘]٭
علامہؒ کی پیش کردہ احادیث کے مقابلہ میں اقوالِ علماءکوترجیح دے رہےہیں، اورقرآن کی تفسیر میں حدیث کی اولیت سے انہیں ذہول ہوگیا ہے۔
٭(’’دونوں صورتوں میں یعنی معنی لغوی و شرعی مرادہونےکی صورت میں جملہ ثانیہ خبرِ مستقل نہیں ہے۔‘‘)٭
یہ محض دعویٰ ہے، جوشاہ صاحبؒ کے ادلہ کے پیش قابل ذکر بھی نہیں۔
٭[’’مولاناانورشاہ نے ’’إن عذابک بالکفار ملحق‘‘ کوایک الگ سورت قراردینے کا وہم دیا ہے اور یہ غلط ہے۔ سورت ’’اللّٰہم إیاک نعبد‘‘ سے شروع ہوتی ہے، جیسا کہ ’’کنز‘‘ و’’إتقان‘‘ میں ہے۔‘‘] ٭
حالانکہ شاہ صاحبؒ نے اپنے استدلال کا متعلقہ حصہ نقل کیا ہے۔ ان کی عبارت میں کہیں یہ نہیں کہ یہ جملہ مستقل سورت ہے۔ سورتِ قنوت ایک ہو، یا دو، ان کے استدلال میں کوئی فرق نہیں پڑتا، انہوں نے افادۂ مزید کے طور پر یہ لکھ دیا ہے کہ قنوت‘ حنفیہ کے یہاں دو سورتیں ہیں۔
٭[ ’’زیرِ بحث حدیث میں دوسرے جملہ میں فا تعلیلیہ ہے، جب کہ دعاء قنوت میں فا تعلیلیہ نہیں، لہٰذا استدلال درست نہیں۔قیاس‘ قیاس مع الفارق ہے۔‘‘)٭
حالانکہ حضرت شاہ صاحبؒ نے یہاں فاء تعلیلیہ کاذکرہی نہیں کیا، اورنہ علت پرفاءکاداخل ہونا ضروری ہے اور نہ صحت استدلال میں اسے کوئی دخل ہے، بلکہ آیاتِ قرآنیہ سے معلوم ہوتاہے کہ علت پر فاء کا داخل ہونا ضروری نہیں۔ چنانچہ محی الدین درویشؒ نے لکھا ہے:
’’وَاسْتَغْفِرُوا اللہَ ( الواو عاطفۃ، واستغفروا اللہ، فعل وفاعل ومفعول بہ) اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ( إن واسمہا وخبراہا، والجملۃ تعليليۃ لا محل لہا۔‘‘ ( إعراب القرآن وبيانہ: ۲۹۷/۱)
یعنی ’’وَاسْتَغْفِرُوْا اللہَ، اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ‘‘ میں دوسرا جملہ علت ہے۔
اسی طرح سورت نوح کی تفسیر میں رقم کرتے ہیں:
’’(فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا) الفاء عاطفۃ وقلت فعل وفاعل واستغفروا فعل أمر مبني علی حذف النون والواو فاعل وربکم مفعول بہ وإن واسمہا وجملۃ کان خبرہا واسم کان مستتر، تقديرہٗ ہو، و ’’غَفَّارًا‘‘ خبرہا وجملۃ ’’اسْتَغْفِرُوْا‘‘ مقول القول وجملۃ ’’اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا‘‘ لا محل لہا، لأنہا تعليل للاستغفار۔‘‘(أیضا: ۲۲۷/۱۰)
یعنی ’’فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا‘‘ میں دوسراجملہ علت ہے۔
نیز اس آیت کے دوسرے جملہ میں جملہ تعلیلیہ میں ضمیرِشان بھی آئی ہے۔شاہ صاحبؒ نے لکھا کہ ضمیرِشان‘ مخاطب کے اعتقاد کےبرعکس مواقع پر لائی جاتی ہے،چنانچہ مفسرین نے لکھا کہ قومِ نوح ؑ کہتی تھی کہ ہمارے ان معاصی کے باوجود ہماری توبہ کیسے قبول ہوسکتی ہے؟ تو اس پریہ ارشاد ہوا، رازیؒ لکھتے ہیں:
’’وہاہنا سُؤالَاتٌ: الْأوَّلُ: اَنَّ نُوْحًا عليہ السلام اَمَرَ الْکُفَّارَ قَبْلَ ہٰذِہِ الْاٰيَۃِ بِالْعِبَادَۃِ وَالتَّقْوٰی وَالطَّاعَۃِ، فَاَيُّ فَائِدَۃٍ فِيْ اَنْ اَمَرَہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ بِالْاِسْتِغْفَارِ؟ الْجَوَابُ: اَنَّہُ لَمَّا اَمَرَہُمْ بِالْعِبَادَۃِ قَالُوْا لَہٗ: إِنْ کَانَ الدِّيْنُ الْقَدِيْمُ الَّذِيْ کُنَّا عَلَيْہِ حَقًّا فَلِمَ تَاْمُرُنَا بِتَرْکِہٖ، وَإِنْ کَانَ بَاطِلًا فَکَيْفَ يَقْبَلُنَا بَعْدَ اَنْ عَصَيْنَاہُ؟ فَقَالَ نُوْحٌ عليہ السلام: إِنَّکُمْ وَإِنْ کُنْتُمْ عَصَيْتُمُوْہُ وَلٰکِنِ اسْتَغْفِرُوْہُ مِنْ تِلْکَ الذُّنُوْبِ، فَإِنَّہٗ سُبْحَانَہٗ کَانَ غَفَّارًا)‘‘ (التفسیرالرازي: ۶۵۲/۳۰)
ثابت ہوا کہ حدیثِ عبادہ میں ضمیرِشان کی بابت علامہؒ کااستدلال صرف ائمہ بلاغت پر موقوف نہیں، بلکہ قرآن مجید سے بھی مؤیدہے۔
٭[مصحف ابنِ مسعودؓ کا حوالہ کذب ہے، ہم کئی بارکہہ چکے کہ انورشاہ کی نقل قابلِ اعتمادنہیں ہے۔]٭
گویا مصحفِ اُبیؓ میں موجودگیِ حوالہ تسلیم کرلیاگیاہے۔اور حضرت شاہ صاحبؒ کے حوالۂ دلیل کے لیے اتنا بھی کافی ہے کہ انہوں نے اپنے موقف پر دو حوالے دیے، ان میں سے ایک میں وہ حوالہ موجودہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اگریہ حوالہ ناقد کو نہیں ملا تو علمی دیانت کا تقاضا تھا کہ وہ کہتے کہ ایسا حوالہ موجود نہیں، ملتانہیں، مل نہیں سکا، زیادہ سے زیادہ یہ کہ مولاناانورشاہ سے تسامح ہوا کہ مصحفِ ابن مسعودؓ کی بجائے مصحف ابن عباسؓ لکھناتھا، (علامہ سیوطیؒ نے ’’الدر المنثور‘‘ میں اس کاتذکرہ کیاہے)،وغیرہ۔
نیز ’’کذب‘‘ایک شرعی اصطلاح ہے، اس کے اطلاق کےلیے جن شرعی ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے، اُمیدکی جاتی ہے کہ ناقدمرحوم نے ان کا خیال کیاہوگا۔
رہا مصحفِ ابن مسعودؓ میں دعاء قنوت کاوجودو عدم وجود !تواس سلسلہ میں گزارش یہ ہے کہ مصحفِ ابن مسعودؓ کے متعدد نسخے تھے، جوباہم مختلف فیہ تھے،چنانچہ ’’الفہرست‘‘ میں ابن ندیم نے، اور ’’الإتقان‘‘ میں سیوطیؒ نے مصحف ابن مسعودؓ کے جو مندرجات نقل کیے ہیں، ان میں کمی بیشی اور ترتیب کا اختلاف موجود ہے۔
ابن ندیم ؒ کہتے ہیں کہ انہوں نے مصحف ابن مسعودؓ کے متعدد نسخے دیکھے ہیں، کوئی سے دو بھی آپس میں موافقت نہ رکھتے تھے۔ ایک نسخہ میں تو فاتحہ بھی موجود تھی۔ (ابن ندیم، الفہرست: ۲۹/۱)
ان دو حوالوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر حضرت علامہ انورشاہؒ کی نظر میں ایسا مصحف گزرا، جوناقدکی نظر میں نہ آسکا، تویہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔
نیز متعدد اہلِ علم نے تصریح کی ہے کہ ابن مسعودؓ، اُبی بن کعبؓ اور زیدبن ثابتؓ کے مصاحف میں یکسانیت تھی، چنانچہ ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی ایک عالم قرزی سے نقل کرتےہیں کہ :انہوں نے ابن مسعودؓ، اُبی بن کعبؓ اور زیدبن ثابتؓ کے زیرِ استعمال مصاحف ملاحظہ کیے توان میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ (تاریخ النص القرآني، ص: ۱۴۹)
مصحفِ اُبیؓ میں دعاء قنوت کے وجودکااقرار تو ناقد کوبھی ہے، اس لیےاس پرحوالہ جات کی چنداں ضرورت نہیں رہتی۔
اگر سطورِ بالا کے پیش نظر حضرت شاہ صاحبؒ نے یہ لکھ دیا کہ مصحفِ ابن مسعودؓ میں بھی دعاء قنوت موجودتھی، تواس پر اعتراض کرنا خودقابلِ اصلاح ہے۔
ذیل کی سطور کوبہت سے لکیرکےفقیر تاویل قراردیں گے، اس لیےاس سلسلہ کا واضح حوالہ بھی قارئین کےلیے پیش خدمت ہے۔ علامہ سیوطی ؒ ’’الدرالمنثور‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’وَزعم عبيدٌ اَنہٗ بلغہٗ اَنَّہُمَا سورتان من الْقُرْاٰن فِي مصحف ابْن مَسْعُودؓ۔‘‘ (الدرالمنثور: ۶۹۶/۸)
٭[احکام القرآن کا حوالہ دینا مولاناانورشاہ کو چنداں مفید نہیں، بلکہ وہ مولاناکے برخلاف ہے۔‘‘]٭
اس پر عرض یہ ہے کہ ناقد نے یہ سمجھا ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ نے ’’احکام القرآن‘‘ کا حوالہ اس بات پر دیا ہے کہ حدیثِ عبادہؓ میں موجود جملے الگ الگ ہیں، مقتدی اور مطلق نمازی کے لیے علیحدہ علیحدہ ہیں اور پھر انہوں نے یہ خلاصہ نکالا کہ یہ ’’احکام القرآن‘‘ کا حوالہ حضرت شاہ صاحبؒ کے برخلاف ہے، کیونکہ اس حوالے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پوری تین آیات باہمی ارتباط کی وجہ سے ایک جگہ نقل کی گئی ہیں، تو ویسے حدیثِ عبادہؓ کے دونوں جملے بھی آپس میں ایک ہی حکم سے متعلق ہیں۔
حالانکہ شاہ صاحبؒ نے ’’احکام القرآن‘‘ کا حوالہ ’’افادۂ مزید‘‘کےفائدہ کےحوالہ سے دیا کہ بسا اوقات اِفادۂ مزید کی خاطر ایک ہی سیاقِ عبارت میں ماقبل سے مختلف فائدہ کا تذکرہ کردیا جاتا ہے، چنانچہ ابن عربیؒ نے اس آیت کی تفسیر میں ’’مِنْ بَعْدِ الصَّلٰوۃِ‘‘ کے تحت لکھا :
’’الرابع - من بعد صلاتہما، علی أنہما کافران ! وقد روي في الصحيح أن النبي صلی اللہ عليہ وسلم حلف المتلاعنين بعد العصر. وروی بعدالظہر۔ وفي الصحيح : من حلف علی يمين بعد العصر لقي اللہ سبحانہٗ وہو عليہ غضبان. وہٰذا علی طريق التغليظ بالزمان ۔‘‘ (أحکام القرآن:۷۲۴/۲)
اس عبارت کا آخری جملہ شاہ صاحبؒ کا محلِ استدلال ہے کہ یہ الفاظ ’’مِنْ بَعْدِ الصَّلٰوۃِ‘‘ بطور تغلیظ آئے ہیں، ورنہ استحلاف میں (اور وہ بھی کفارسے) ان کو کوئی دخل نہیں۔
یہی بات امام جصاصؒ نےمزیدوضاحت سے لکھی، وہ استحلاف میں وارد شدہ متعدد روایات جو زمان و مکان کے تعین پر دلالت کرتی ہیں، نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
’’قَالَ اَبُوْبَکْرٍ: وَلَيْسَ فِيْہِ دَلَالَۃٌ عَلٰی اَنَّ ذٰلِکَ مَسْنُوْنٌ. وَإِنَّمَا قَالَ ذٰلِکَ لِاَنَّ النَّبِيَّﷺ قَدْ کَانَ يَجْلِسُ ہُنَاکَ، فَلِذٰلِکَ کَانَ يَقَعُ الْاِسْتِحْلَافُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ، وَالْيَمِيْنُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ اَعْظَمُ مَاْثَمًا إِذَا کَانَتْ کَاذِبَۃً لِحُرْمَۃِ الْمَـوْضِعِ، فَلَا دَلَالَۃَ فِيْہِ عَلٰی اَنَّہٗ يَنْبَغِيْ اَنْ تَکُوْنَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ۔‘‘ (أحکام القرآن، جصاص: ۶۱۶/۲)
ان عبارات سے معلوم ہوا کہ شاہ صاحبؒ کا یہ حوالہ بھی درست ہے اوردلیلِ حوالہ بھی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شاہ صاحبؒ کے علوم ومعارف کو سمجھنے، ان سے استفادہ کرنے کی سعادت سے نوازیں۔ آخر میں اہلِ علم کےلیےچندایک عناوین برائے تحقیق پیش خدمت ہیں:
1- علامہ کشمیریؒ وعلامہ نیمویؒ کی حدیثی خدمات کا تقابل کئی جہات سے ممکن ہے: فقہ الحدیث پر، رجال پر، استنباط واستخراج پر۔
2- علامہ کشمیریؒ کے اُسلوبِ تحریروتقریرکاتقابلی مطالعہ۔ مشترک و مختلف عناوینِ فقیہہ وحدیثیہ لیےجاسکتےہیں، نیزایک ایک حدیث، مبحث، راوی کا تقابلی مطالعہ کرکے مضامین بھی لکھے جاسکتے ہیں۔
3- علامہؒ کی کتب کے متنوع مآخذپرمستقل مقالہ لکھا جاسکتا ہے، نیز ایک ایک کتاب پر بھی یہ کام بصورتِ مضامین ہوسکتا ہے۔
4- شاہ صاحبؒ کا منطق، فلسفہ، علومِ قرآن، حدیث، فقہی آراء مختارہ، ادب وشاعری میں معاصرین، یا متقدمین سے تقابلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ مذکورہ علوم میں اُن کی اجتہادی واختلافی آراء پر کام کیا جاسکتا ہے۔