بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1448ھ 15 اگست 2026 ء

بینات

 
 

اسلام میں چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی اہمیت و اجر

اسلام میں چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی اہمیت و اجر


دین اسلام ایک ایسا پیارا دین ہے جس میں معمولی سی نیکی پر بھی اللہ جل شانہُ کی رحمت ہمارے دروازوں پر آن پہنچتی ہے اور ہمیں متوجہ کرتی ہے،اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تو کوئی کنارہ نہیں، پس انسان اپنے رب کی بارگاہ میںآکر سر بسجود ہو کر اپنے گناہوں پر نادم ہو کر جب مانگتا ہے تو پروردگار کی رحمت اس شخص کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے،اسی لیے کہا گیا ہے کہ چھوٹی و معمولی سی نیکی کو اس وجہ سے مت چھوڑ دو کہ اس کا اجر کم ملے گا، نہیں نہیں، بلکہ اس کا اجر بھی قیامت کے روز بہت بلند ہو گا،اسی طرح اسلام ہماری زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ 
اسلام ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں بھلائی، حسن اخلاق، اور نیکی کی تعلیم دیتا ہے۔ دین اسلام میں چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی رائیگاں نہیں جاتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عمل کا وزن نیت اور اخلاص سے ہوتا ہے نہ کہ ظاہری حجم سے۔ اللہ جل شانہُ ارشاد فرماتے ہیں: 
’’تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے (اللہ اُسے دیکھے گا) اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اللہ اسے بھی دیکھے گا۔‘‘ (سورۃ الزلزال)
اس آیتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قیامت کے دن چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا بھی اجر ملے گا اور جو گناہ چھوٹے سمجھ کر کیے گئے ان کی سزا بھی ملے گی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :
’’ ہر روز جب سورج طلوع ہوتا ہے تو لوگوں کے ہر عضو پر صدقہ لازم ہوجاتا ہے، یعنی کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان صلح کرا دے تو یہ صدقہ ہے، کسی کو سواری پر بٹھا دے یہ صدقہ ہے، کسی کو کوئی اچھی بات بتا دینا بھی صدقہ ہے، نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہوئے اُٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے اور راستے میں سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔‘‘
ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: 
’’ تمہارا اپنے بھائی کے لیے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔‘‘ (ترمذی)
معمولی سی نیکی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
’’جہنم سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کو خیرات کرنے کے ذریعے سے ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (بخاری)
اسی طرح سلام کر نا اور اس میں پہل کرنے کی کوشش کرنا، کسی پیاسے کو پانی پلا دینا، کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھا دینا اور سب کے ساتھ خوش اخلاق کے ساتھ پیش آنا، یہ سب چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں، جن کو ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔حالانکہ یہ سب چھوٹے چھوٹے اعمال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
’’ اے سعد! کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتائوں جس میں محنت کم اور ثواب زیادہ ہے۔ انہوں نے عرض کی: جی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پلایا کرو۔‘‘           (المعجم الکبیر)
سورۃالنساء میں ہے: 
’’اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مدد گار دے دے۔‘‘
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کمزوروں، مسکینوں، مظلوموں اور یتیموں کی عملی طور پر مدد کرنے کی تلقین فرمائی۔ اسی طرح کسی بھی معاشرے میں امن و سکون کے لیے عدل و انصاف کا ہونا بہت ضروری ہے۔ عدل و انصاف کے بغیر کوئی بھی معاشرہ امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔ جس معاشرے میں عدل وانصاف ختم ہو جائے وہاں کے لوگ بے راہ روی کا شکا ر ہو جاتے ہیں اور جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو، اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہی ہو۔‘‘ (سورۃ الانعام)
سورۃ المائدہ میں ہے:
’’اے ایمان والو! اللہ کے حکم پر خوب قائم ہو جائو انصاف کے ساتھ گواہی دیتے اور تم کوکسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ پرہیز گاری سے زیادہ قریب ہے۔‘‘
حضرت براء بن عازبؓ سے مروی ہے کہ :
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کام کرنے کا حکم فرمایا اور سات کاموں سے منع فرمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیمار کی عیادت کرو، جنازے میں شریک ہو، جب کسی کو چھینک آئے تو چھینکنے والے کا جواب دو، مظلوم کی مدد کرو، جب کوئی دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرو اور فرمایا کہ: قسم کھانے والے کو قسم سے بری کر دو۔‘‘                                       (بخاری)
حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’تو اپنے بھائی کی مدد کر چاہے وہ مظلوم ہو یا ظالم۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مظلوم کی تو مدد کروں گا، مگر ظالم کی مدد کس طرح کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اُسے ظلم کرنے سے روکو، یہ ہی اس کی مدد ہے۔‘‘                                       (بخاری)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’مومن مومن کا آئینہ ہے اور مومن مومن کا بھائی ہے، وہ اس کو بربادی سے بچاتا ہے اور پیٹھ پیچھے اس کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘                                          (مشکوٰۃ المصابیح)
مظلوموں کی مدد کرنے سے معاشرے میں عدل و انصاف قائم ہوتا ہے۔ جب معاشرے کے کمزور اور بے سہارا لوگوں کا خیال رکھا جائے گا تو ظلم وزیادتی خود بہ خود ہی ختم ہو جائے گی۔ اس طرح معاشرے میں رہنے والے افراد کے دلوں میں باہمی محبت اور ہمدردی پیدا ہو گی اور معاشرے میں امن و سکون قائم ہو گا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے تو وہ نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اس کو اس کے دشمن کے حوالے کرے، جو کوئی اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا اور جو کوئی کسی مسلمان کی تنگی دور کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے قیامت کے دن اس کی تکالیف کو دور کرے گا اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا۔‘‘                              (ابو دائود)
حضرت ابومو سیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
’’ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایسے ہے جیسے دیوار کہ ا س کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘                                                            (مسلم)
یعنی جیسے دیوار کی اینٹیں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر ایک مضبوط دیوار بنا دیتی ہیں اور اسے گرنے سے بچاتی ہیں، یہی مثال مومنین کی ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ باہم تعاون کر کے ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو گرنے نہیں دیتے۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
’’مومن کی مثال باہم محبت کرنے، ایک دوسرے پر رحم کھانے اورمہربانی کرنے میں ایک جسم کی مانند ہے، جب اس کے جسم میں کسی بھی حصے میں تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔‘‘                                                           (بخاری)
آج کے دور میں امت مسلمہ زوال کا شکار ہے، معاشی بد حالی، تعلیمی پسماندگی، فرقہ واریت اور اخلاقی لحاظ سے مسلمان زوال کا شکار ہیں، ان تمام مسائل کاحل باہم تعاون سے ممکن ہے۔ اگر ہم تعلیم و تربیت، روزگار اور دیگر نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے تو امت مسلمہ اپنا کھویاہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔ اسلام کا پیغام باہم محبت، اخوت اور تعاون کا ہے۔ یہ دین ہمیں صرف ذاتی معاملات کو سنوارنے کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ ایک ایسے مثالی معاشرے کے قیام کی تعلیم دیتا ہے جہا ں ہم ایک دسرے کے کام آ سکیں۔ اگر ہم قرآن و سنت کو اپناتے ہوئے اپنی زندگیوں کو بسر کریں تو اس سے نہ صرف ہم اپنے ذاتی مسائل کو حل کر سکتے ہیں، بلکہ ہم ایک ایسا معاشرہ قا ئم کر سکتے ہیں جس میں امن و سکون ہو۔ اگر ہم یہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں جن کو ہم خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کریں تو اس سے ہمارے دل نرم ہوں گے، معاشرے میں محبت، امن و سکون اور خیرسگالی کے جذبے کو فروغ ملے گا۔ بعض دفعہ کسی کی معمولی سی مدد کرنا، کسی کے لیے دعا کرنا یا پھر کسی کو ایک اچھا کلمہ بول کراس کا دل خوش کر دینے سے اللہ تعالیٰ انسان کو اس کے اس چھوٹے سے عمل سے جنت کا مستحق ٹھہرا دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم کسی بھی نیک عمل کو معمولی نہ سمجھیں۔ جب چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے گا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولائے کریم ہمیں دین کی صحیح معنوں میں سمجھ عطا فرمائے ،اپنا ڈر و خوف ہمارے اندر پیدا فرمائے،مخلوقِ خدا کی خدمت ،سچائی اختیار کرنے،برائی سے بچنے اور معمولی نیکیوں کو اللہ کی رضا کی خاطر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین