
استاذمحترم قاری مفتاح اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ مُوَفَّقْ مِن اللہ تھے، حضرت استاذ محترم سے میرے تعلق کو ایک عرصہ دراز گزرا ہے ، حضر اور سفر میں رفاقت رہی۔ جہاں تک میرا گمان ہے ، جن اعمالِ صالحہ کی وجہ سے کوئی شخص ولایت کو پہنچتا ہے اور نیک و صالح آدمی کے جو اوصاف قرآن کریم یا احادیثِ مقدسہ میں ہیں ، حضرت استاذ محترم ان صفات کے جامع تھے ۔
اسلام میں پہلی چیز نماز ہے، حضرت استاذجی کی نماز حالت حضر و سفر میں قضا ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھی، اور نہ جماعت کا ناغہ میرے علم میں ہے، اور تہجد کے اہتمام کا تو میں چشم دید گواہ ہوں، مردان ، بونیر، سوات، پشاور وغیرہ کے بعض اسفار میں مجھے ساتھ رہنے کی سعادت حاصل ہوئی ،سردیوں کے موسم میں رات کو تین بجے اُٹھتے، اور کھڑے ہو کر تہجد پڑھتے، اور ایک مرتبہ ان کے گاؤں کے گھر میں جانا ہوا تو دیکھا کہ رات تہجد میں قاری صاحب ستون کی طرح کھڑے ہیں، اور کمال یہ تھا کہ اس قدر اخفا سے کام لیتے تھے کہ نہ لائٹ کھولتے اور نہ طہارت وغیرہ حاصل کرنے کے لیے آنے جانے میں زور سے قدم رکھتے، نہ کھانستے، نہ زور سے تلاوت کرتے ، اور تہجد کی نا معلوم کتنی رکعت مکمل کرنے کے بعد کمبل اوڑھ کر ذکر کرتے، اور جب معلوم ہو جاتا کہ ساتھی اُٹھ گئے ہیں، تو پھر فرماتے کہ: لائٹ کھول دو، اور مجھے قرآن کریم دو، پھر دیکھ کر تلاوت فرماتے، اور فرماتے کہ دیکھ کر پڑھنے میں پارہ جلدی مکمل ہو جاتا ہے، اور دس منٹ میں پارہ مکمل کرتے۔
کئی سال سے روزانہ بلا ناغہ مکمل ایک قرآن کریم پڑھنے کا معمول رہا ، مجھے تو صرف امتحان کے دنوں میں پتہ چلتا ، کیوں کہ صبح میں آٹھ بجے آتا تو استاذ محترم سات یا ساڑھے سات بجے امتحان ہال میں پہنچ چکے ہوتے تھے، اور جب میں آ کر دیکھتا تو سورۂ آل عمران کبھی تیسرا پارہ اور کبھی چوتھا پارہ پڑھ رہے ہوتے تھے، اور صبح ۱۰بجے اور کبھی ۱۱ بجے تک ۱۵ پارے اور کبھی ۱۸ پارے پڑھ چکے ہوتے تھے، اور اگلے دن پھر یہی ترتیب ہوتی، اور مجھے فرماتے کہ الحمدللہ میں روزانہ ایک قرآن کریم کی تکمیل کرتا ہوں، لیکن کسی کو بھی بتانا نہیں، میں کہتا کہ استاذ محترم اس بات کو ہضم کرنا تو بہت مشکل ہے۔
ایک مرتبہ زامبیا کا سفر ساتھ ہوا ، استاذجی کو مستقل بخار تھا ، لیکن معمولات میں فرق آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا، وہاں گھومنے پھرنے اور تفریح کی جگہ تھی اور مقامی لوگوں کی خواہش ہوتی کہ قاری صاحب ساتھ جائیں، لیکن فرماتے: میری طبیعت صحیح نہیں ہے، میری طرف سے اجازت ہے، آپ لوگ چلے جائیں۔ ایک مرتبہ ایک مقامی مولانا صاحب نے ایک پارک میں کھانے کی دعوت رکھی، اور بہت ہی پرتکلف کھانے کا انتظام کیا، اور وہاں پارک میں نظارہ کرنے کی مختلف چیزیں تھیں، انہوں نے قاری صاحب سے کہا کہ ذرا چکر لگا کر دیکھیں، فرمایا: مجھے کمرے میں لے جاؤ، مجھے آرام کرنا ہے، آپ لوگ جائیں، ہم گئے، واپس آ کردیکھا تو بجائے آرام کرنے کے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، اور پھر ایک نوجوان قاری صاحب نے تلاوت کی ، تو قاری صاحب زار و قطار رونے لگے، پھر قاری صاحب سے درخواست کی گئی تو قاری صاحب نے بھی سورۂ نور کے رکوع ’’اَللہُ نُوْرُالسَّمٰوٰتِ‘‘ کی چند آیات نہایت دل سوز لہجے میںتلاوت فرمائیں۔
اگر میں کبھی کہتا کہ فضلاء کرام کا تقاضا ہے کہ آپ آجائیں ، ہم بھی آپ کی رفاقت میں تفریح کر لیں گے تو فرماتے: میں گھر پر اچھا ہوں، سفر پر جانے سے معمولات میں کمی آتی ہے، جس کا مجھے دکھ ہوتا ہے۔ چناں چہ تین سال پہلے ہم لوگ حضرت قاری صاحب کے ساتھ تکمیلِ قرآن کے سلسلہ میں نواب شاہ گئے ، وہاں مولانا عرفان صاحب شہیدؒ ‘ جو مولانا عطاء الرحمٰن صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ ( سابق ناظمِ تعلیمات جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن) کے ساتھ جہاز حادثہ میں شہید ہوئے تھے ، ان کے ایک بچے کا ختم تھا، اگلے دن قاری صاحب نے مجھے کہا کہ کل گزشتہ میں نے تلاوت نہیں کی تھی، یہ سوچ کر کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: میرا یہ بندہ اپنے مقام میں حالتِ حضر میں جو نیک اعمال کرتا تھا وہ سفر میں جانے کی وجہ سے نہیں کر پاتا تو ان کے لیے اس کا اجر وثواب لکھتے رہو تو میں نے سوچا کہ جب مفت میں اجر مل رہا ہے تو اپنے آپ کو کیوں تھکاؤں؟ جب شام کو گھر آیا تو دل میں بار بار یہ خیال آتا رہا کہ آج تلاوت کیوں نہیں کی؟ اور اتنی شدت سے دل میں یہ بات آ رہی تھی کہ میں کروٹیں لیتا رہا، لیکن نیند نہیں آرہی تھی، تو دو بجے میں اُٹھا، اور تہجد کے بعد قرآن کریم شروع کیا ، اور دن کو ۱۰ بج کر ۱۰ منٹ پر ایک قرآن اور سورۂ بقرہ کی تلاوت الحمدللہ پوری کی ، اور دعا کی۔
روزانہ ایک قرآن کریم مکمل پڑھنے کے ساتھ ساتھ ایک ہزار مرتبہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے کا اور دیگر چند آیات کا مخصوص تعداد میں پڑھنے کا معمول الگ تھا ، اور مغرب کے بعد اوابین کے بھی بہت زیادہ پابند تھے، فرماتے کہ: ابھی زیادہ تو اختیار میں نہیں ہے، چلتے پھرتے قرآن کریم پڑھنے کی عادت ہو گئی ہے، فرماتے کہ: صبح گھر سے جامعہ آتا ہوں تو راستے میں آدھا پارہ پڑھ لیتا ہوں، واپسی میں آدھا پونا پارہ پڑھ لیتا ہوں، پھر ظہر کی نماز کی اذان سے پہلے جامعہ میں وضو کر کے صف اول میں بیٹھ کر تقریباً ڈھائی پارے پڑھ لیتا ہوں، اور ظہر کے بعد( جس زمانے میں بعد ظہر پہلا گھنٹہ ہوتا تھا) گھنٹے میں جانے سے پہلے ایک پارہ پڑھ لیتا ہوں، اور ایک پارہ زمانۂ دراز تک فجر کے بعد کسی طالب علم کو سنانے کا معمول رہا ، چاہے بارش ہو، گرمی ہو ، سردی ہو، عید کا دن ہو یا جمعہ کا، اس میں ناغہ نہیں کرتے تھے۔
قاری صاحب اس قدر علیل اور بیمار تھے کہ ہائی شوگر کی وجہ سے فرماتے کہ: رات کو ٹانگوں میں سخت درد ہوتا ہے ، کبھی پیروں کو سمیٹتا ہوں، کبھی پھیلاتا ہوں۔ ہائی بلڈ پریشر کے بھی مریض تھے، اور فرماتے تھے کہ: بلڈ پریشر ہائی ہونے کی وجہ سے ایسے افراد کو غصہ کر لیتا ہوں جس کا افسوس پھر زندگی بھر رہتا ہے اور اس کے لیے دعا بھی کرتا ہوں، اور متعلقین سے بھی دعا کی درخواست کرتا ہوں اور ان کو کہتا ہوں کہ مجھے معذور سمجھیں اور معاف کریں۔ عجیب بات تھی کہ قاری صاحب کا غصہ چند منٹ سے زیادہ نہیں دیکھا گیا، پہلے ڈانٹ پلاتے، اور ایک منٹ کے بعد فرماتے: بیٹھ جاؤ۔ اگر کھانے کا وقت ہوتا تو فرماتے کہ: کھانا کھالو، اگر ناشتے کا وقت ہوتا تو فرماتے: ساتھیوں کو بٹھاؤ اور ناشتہ کرلو۔ جمعہ کے دن تقریباً مہینے میں ایک بار صبح کا ناشتہ قاری صاحب کے ساتھ ہوتا۔ جب سے میں نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ پڑھا تھا کہ خدمت کا مقصد راحت پہنچانا ہے نہ کہ بڑوں کو زحمت اور تکلیف دینا، تو اس کے بعد سے صبح کا ناشتہ میں خرید کر لے جاتا، اور ان کے ساتھ مل کر کرتا ، اور احتیاطاً ان کے خادمین طلبہ اور گھر والوں کی رعایت کر کے اس لحاظ سے لے کر جاتا اور کہتا کہ: یہ حصہ گھر والوں کا ہے اور یہ اپنے کھانے کے لیے ہے ، لیکن حضرت قاری صاحب سختی سے منع فرماتے کہ: گھر بھیجنے کی ابھی کوئی ضرورت نہیں ہے، سارے ساتھی پہلے کھا لیں ، پھر جو بچ جائے گا فیصلہ کریں گے، ابھی رکھو۔ میں چوں کہ چائے نہیں پیتا، بلکہ گرم دودھ میں پتی اور گڑ ملا کر پیتا ہوں، تو مستقل صرف میرے لیے الآصف اسکوائر سے گڑ منگوا کر رکھتے تھے ، اور کلو آدھا کلو دودھ گرم کر کے صرف میرے سامنے رکھواتے کہ یہ آپ کا حصہ ہے ۔
اور ضرورت مند لوگ کثرت سے قاری صاحب کے پاس آتے تھے اور قاری صاحب ان کو پیسے بھی دیتے تھے۔انتقال سے ایک دو دن پہلے جامعہ کے ایک فاضل خدمت کے لیے ساتھ تھے، وہ کہتے ہیں کہ اپنی جیب سے پیسے نکالے اور فرمایا: ان کو گن لو، کتنے ہیں؟ ایک لاکھ سے زیادہ تھے، فرمایا: دیکھو! مجھے اللہ تعالیٰ دے رہے ہیں، میں نے کسی سے بھیک تو نہیں مانگی، آپ روزانہ ایک ہزار مرتبہ یا وہاب پڑھا کریں، آپ کو بھی اللہ تعالیٰ دیں گے اور پھر کچھ پیسے مجھے دیے تو میں نے کہا کہ: اللہ تعالیٰ آپ کو دیتے ہیں، لیکن آپ جمع رکھتے بھی تو نہیں ہیں، ایک طرف سے آئے اور دوسری طرف خرچ کیے۔
اگر جامعہ کا کوئی فاضل مہمان ملاقات کے لیے آتا تو جماعت کی نماز اُن سے پڑھواتے اور پھر ان کی حوصلہ افزائی فرماتے کہ الحمدللہ بہت اچھی قراءت کی ،اچھی نماز پڑھائی ، اللّٰہم زد فزد !
مجھے فرمایا کہ میں شہرت سے بہت ڈرتا ہوں اور مستقل دعا کرتا ہوں کہ: یا اللہ! مجھے شہرت سے بچانا اور فرماتے کہ: مولوی نصیر الدین صاحب کا بھی خلیفہ ہوں، لیکن میں نہ خود بزرگوں کے پاس زیادہ جاتا ہوں، نہ اپنے ہاں بلاتا ہوں، اس لیے کہ آج کل کے بعض بزرگ اپنی شہرت کے لیے خلافتیں بانٹتے ہیں، اگر کسی مشہور ادارہ کا کوئی استاذ ان کی مجلس میں چلا جائے تو ان کو خلافت دے دیتے ہیں یا ان کا نام لیتے ہیں کہ میرے پاس تو فلاں تمہارے استاذ بھی استفادہ کے لیے آتے ہیں اور فلاں ادارہ کے فلاں میرے خلیفہ ہیں۔ اگر کسی ادارے والے آ کر کہتے کہ ہمارے ہاں ختم بخاری کی تقریب ہے، آپ تشریف لائیں گے؟ تو فرماتے کہ: اگر میں کراچی میں ہوا تو آؤں گا، اگر وہ کہتا کہ اگر آپ ابھی سے بتا دیں گے تو ہم اشتہار میں آپ کا نام دے دیں گے، بس! پھر تو صاف انکار کرتے کہ اشتہار بازی کی کیا ضرورت ہے؟ اگر اشتہار میں میرا نام دیتے ہو تو میں ابھی سے منع کرتا ہوں کہ نہیں آؤں گا۔ اور فرماتے کہ: میں اہل اللہ کی بددعا سے بہت ڈرتا ہوں، یہ لوگ جب ناراض ہو جاتے ہیں تو ان کی بددعا آدمی کو تباہ کر دیتی ہے، تو میں دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ! اپنے نیک بندوں کی بددعا سے بچانا۔
’’جو بزرگوں کی ابتدا دیکھےکامیاب اور جو بزرگوں کی انتہا دیکھے ناکام۔‘‘ یہ جملہ مولانا محمد زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی آپ بیتی میں فرمایا ہے۔ حضرت قاری صاحب نے اپنی ابتدا کے بارے میں فرمایا کہ: ہم لوگ کیماڑی میں رہتے تھے اور میں لی مارکیٹ میں ایک مدرسہ میں حفظ کرتا تھا، پیسے نہیں ہوتے تھے اور تقریباً ڈھائی سال میں صبح پیدل آتا اور شام کو پیدل جاتا۔ اس طرح غربت کے ساتھ میں نے حفظ کیا ہے۔
قاری صاحب کے گاؤں میں جو گھر ہے وہاں پانی کا انتظام نہیں تھا، مجھ سے ایک دن فرمایا کہ: میرے بھائی جو وہاں رہتے ہیں، ان کو اور پڑوس والوں کو بڑی تکلیف ہے، تو میں نے کہا کہ: آپ نے کسی کو کہا نہیں؟ تو فرمایا: میں از خود کسی سے نہیں کہتا اور کوئی اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ ایسا آیا نہیں جس نے خود درخواست کی ہو، استاذ محترم کے بعض تلامذہ کو صورت حال کا علم ہوا تو انہوں نے وہاں بورنگ کا کام کر الیا۔
انتقال سے ایک دن پہلے ہسپتال میں اس کا تذکرہ کیاکہ بعض دوستوں کی توجہ سے گاؤں میں پانی کا انتظام ہوگیا ، اور الحمدللہ سارے پڑوس والے پانی بھر کر لے جاتے ہیں، حالانکہ اگر حضرت قاری صاحب از خود اپنے بعض تلامذہ کو اشارہ کر دیتے تو یہ حضرات پہلے ہی بندوبست فرمادیتے۔
موجودہ نوجوان مدرسین کے لیے سبق آموز بات ہے، پچھلے سال حضرت قاری صاحب کے بڑے بھائی جو مؤذن صاحب سے مشہور ہیں، ان کو فالج ہوا، وہ سول ہسپتال کی ایمرجنسی میں تھے، ان کی غیر موجودگی میں ان کی اہلیہ کا انتقال ہوا، ادھر گھر میں بھابھی کی میت اور اُدھر ہسپتال میں بھائی کی بیماری! اور قاری صاحب نے اس دن بھی پانچ منٹ کا ناغہ نہیں کیا، غالباً فجر کے بعد انتقال ہوا اور سات بجے سبق پڑھانے کے لیے آئے، اور طلبہ کو محسوس بھی نہیں ہونے دیا کہ میری بھابھی کا انتقال ہوا اور میرا بھائی ہسپتال میں ہے۔ جب مجھے پتہ چلا کہ قاری صاحب آج کے غم اور میت ہو جانے کے باوجود آئے ہیں تو میں نے قاری صاحب سے کہا: حضرت! آپ لوگوں نے ہمارے لیے معاملہ بہت مشکل بنا دیا۔ فرمایا کہ: کیا کریں؟ بغیر پڑھانے کے چین نہیں آتا، وہاں گلشن عمرؓ سہراب گوٹھ میں بیٹھ کر کیا کرتا ، وہاں بیٹھنے سے تو میت واپس نہیں آسکتی۔ پھر فرمایا: جو بھائی بیمار ہیں ان کو اطلاع کروں یا نہیں؟ ایسا نہ ہو کہ وہ برداشت نہ کر سکے، بالآخر مشورہ سے یہ طے ہوا کہ بلا لیا جائے، چناں چہ وہ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے ایمبولینس میں لائے گئے ۔
حضرت مولانا عبد الرؤف ہالیجوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ: ہماری جامعہ میں میری معلومات کے مطابق دو آدمی ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ صحیح معنوں میں مدرس ہیں، اس لیے کہ یہ دونوں حضرات کتاب دانی بھی جانتے ہیں اور فن دانی بھی، ایک مولانا محمد انور بدخشانی صاحب اور دوسرے قاری مفتاح اللہ صاحب، اور واقعی ان کی کتاب دانی وغیرہ کے جہاں اور اسباب ہیں وہاں ان دونوں کا غضب کا حافظہ بھی تھا ، اور قاری صاحب کا حافظہ تو اب تک ویسا ہی رہا ، جیسے ۲۰؍ سال پہلے دیکھا گیا، شاید یہ قرآن عظیم کی کثرتِ تلاوت کی برکت تھی۔ اور حضرت مولانا محمد انور بدخشانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ: میرے مطالعہ کی کتابیں تین جگہ پر ہیں :
1-میری گاڑی میں، جب بھی کہیں جاتا ہوں تو راستے میں کتاب پڑھتا ہوں۔
2-میری تپائی پر ، جہاں میں مطالعہ کرتا ہوں۔
3-تکیہ کے پاس ، جہاں سوتا ہوں تو جب تک جاگ رہا ہوتا ہوں تو کتاب دیکھتا ہوں ۔
سبحانی مسجد پٹیل پاڑہ میں جب استاذ محترم امام و خطیب تھے تو ڈاکٹر امجد علی صاحب جو لیاقت نیشنل ہسپتال میں دل کے امراض کے تجربہ کار ڈاکٹر اور مدرسہ ابن عباسؓ (گلستانِ جوہر) کے بانی تھے ، وہ استاذ محترم سے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ پڑھنے کے لیے مغرب کے بعد تشریف لاتے اور عشاء تک پڑھتے ، اکثر لائٹ چلی جاتی تو جلدی سے اپنی گاڑی میں بٹھا کر وہاں جاتے جہاں بجلی ہوتی تھی، ایسا نہیں تھا کہ بجلی گئی تو چھٹی کر لی۔
حضرت استاذ محترم قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ تقریباً ۵۰ سال امامت و خطابت فرماتے رہے، اور فجر کی نماز کے بعد پابندی سے درسِ قرآن کریم دیتے رہے، اور جب موت آئی تو طبیعت آخر تک بحال تھی، تہجد کی نماز اور فجر کی نماز بھی پڑھی، اور پھر کچھ دیر سو گئے، پھر اُٹھے معمولی ناشتہ کر کے وضو تازہ کرنے کے لیے تشریف لے گئے ، اور آکر بستر کے قریب پہنچ کر مولانا انور صاحب (استاذ مدرسہ تعلیم الاسلام گلشن عمرؓ)جو اُن کے ساتھ تھے، ان کو فرمایا کہ مجھے پکڑ لیں، میں گررہا ہوں، انہوں نے بستر پر بٹھایا، لیٹ گئے، اور اپنی تلاوت شروع کی، اور ’’فارق الدنيا و لسانہٗ رطبا من ذکر اللہ‘‘ کی حالت میں رب سے جا ملے ۔
إنا للہ وإنا إلیہ راجعون ، إن للہ ما أخذ ولہ ما أعطی وکل شيء بأجل مسمی، اللّٰہم اغفر لہ وارحمہ وأکرم نزلہ ووسع مدخلہ واغسلہ بالماء والثلج والبرد ونقہ من الذنوب کما ينق الثوب الأبیض من الدنس، اللّٰہم اجعل قبرہٗ روضۃ من رياض الجنۃ۔