بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1440ھ- 21 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

غزوہ ہند کی حقیقت


سوال

غزوہ ہند کی حقیقت کیا ہے؟  تفصیل بتادیں!

جواب

غزوہ ہند کے بارے میں مروی احادیث میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

’’عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: وَعَدَنَا رَسُولُ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم فِي غَزْوَةِ الْهِنْدِ، فَإِنْ اسْتُشْهِدْتُ کُنْتُ مِنْ خَيْرِ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُوهُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ‘‘.

 ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے غزوہ ہند کے بارے میں وعدہ فرمایا تھا، سو اگر میں (ابوہریرہ) شہید ہو گیا تو بہترین شہیدوں میں سے ہوں گا۔ اگر واپس آ گیا تو میں آزاد ابو ہریرہ ہوں گا‘‘۔

أحمد بن حنبل، المسند، 2: 228، رقم: 7128، مؤسسة قرطبة، مصر. حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3: 588، رقم: 6177، دار الکتب العلمیة، بیروت

’’عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: وَعَدْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم غَزْوَةَ الْهِنْدِ، فَاِنْ اَدْرَکْتُهَا أُنْفِق فِيْهَا نَفْسِي وَمَالِي فَاِنْ اُقْتَل کُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّهَدَآءِ وَاِنْ أَرْجِع فَأَنَا اَبُوْهُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ.‘‘

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا کہ مسلمان ہندوستان میں جہاد کریں گے، اگر وہ جہاد میری موجودگی میں ہوا تو میں اپنی جان اور مال اللہ  تعالی کی راہ میں قربان کروں گا۔ اگر میں شہید ہو جاؤں تو میں  افضل ترین شہداء میں سے ہوں گا اور  اگر میں زندہ رہا تو میں وہ ابو ہریرہ ہوں گا جو عذاب جہنم سے آزاد کر دیا گیا ہے‘‘۔

سنن النسائي،  3: 28، رقم: 4382، دار الکتب العلمیة بیروت

’’عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمَا اﷲُ مِنْ النَّارِ: عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ وَعِصَابَةٌ تَکُونُ مَعَ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام‘‘.

’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام تھے، سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو گروہوں کو اللہ  تعالیٰ دوزخ کے عذاب سے بچائے گا : ان میں سے ایک ہندوستان میں جہاد کرے گا اور دوسرا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگا‘‘۔

أحمد بن حنبل، المسند، 5: 278، رقم: 22449 سنن النسائي، 3: 28، رقم: 4384 البیهقي، السنن الکبری، 9: 176، رقم: 18381 الطبراني، المعجم الأوسط، 7: 2423، رقم: 6741، دار الحرمين القاهرة

اس غزوے  کے حقیقی مصداق کے بارے میں کوئی صریح نص نہیں ہے کہ یہ کب ہوگا، اور اسے یقینی طور پر متعین بھی نہیں کیا جاسکتا، تاہم حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت سے اشارہ ملتاہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نزول فرمانے کے زمانے کے قریب ’’ہند‘‘ میں غزوہ ہوگا، اس میں شریک مسلمانوں کی جماعت کی خاص فضیلت بیان کی گئی ہے۔ لیکن اسے قطعی طور پر ’’غزوہ ہند‘‘ کا واحد مصداق نہیں کہا جاسکتا۔ در اصل ان احادیث میں اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے  حتی الوسع اپنی کوشش  صرف کرنے کی ترغیب ہے۔اور اس کا وقوع کب ہوگا یہ بات دین کے مقاصد میں سے نہیں۔ نہ اس پردین کا  کوئی حکم موقوف ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201578

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے