بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کسی ادارے کے ذریعے فلسطینی مسلمانوں کے لیے صدقات و زکات بھیجنے کا حکم


سوال

کیا میں انصار برنی ٹرسٹ یا الخدمت فاؤنڈیشن والوں کو وکیل بنا کر فلسطین کے متاثرین کے لیے  صدقات یا زکات کے پیسے بھیج سکتا ہوں ؟برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ کوئی بھی ادارہ اگر زکات مستحقین تک واقعۃًپہنچانے کا اہتمام کرتا ہے،تو ایسے ادارے کے ذریعہ زکات کی رقم فلسطین کے مسلمانوں کے لیے دی جا سکتی ہے ،باقی سائل خود تحقیق کر کے اطمینان حاصل کرے کہ واقعۃ مستحقین کو زکوۃ پہنچائی جاتی ہے یا نہیں، اگر پہنچائی جاتی ہے تو دے دیا کرے ورنہ نہ دیا کرے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ."(التوبة: 60)

ترجمہ:"صدقات تو صرف حق ہے غریبوں کا اور محتاجوں کا اور جو کارکن ان صدقات پر معین ہے اور جن کی دلجوئی کرنا ہے اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے قرضے میں اور جہاد میں اور مسافروں میں یہ حکم اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ تعالی بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں ۔"(از بیان القرآن)

الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے :

"اتفق الفقهاءعلى أنه يجوز التوكيل في أداء الزكاة، بشرط النية من الموكل أو المؤدي، فلو نوى عند الأداء أو الدفع للوكيل........ ثم أداها الوكيل إلى الفقير بلا نية جاز؛ لأن تفرقة الزكاة من حقوق المال، فجاز أن يوكل في أدائه كديون الآدميين. وللوكيل أن يوكل غيره بلا إذن ولو نوى الوكيل."

(‌‌القسم الأول، الباب الرابع،‌‌ المبحث السابع،‌‌ المطلب الثاني، التوكيل في أداء الزكاة، ج:3، ص:1975، ط: دار الفكر)

فتاوی ہندیہ  میں ہے :

"ویجوز دفعھا الی من یملک اقل من النصاب."

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:189، ط: رشیدیة)

و فیہ ایضاً:

"ويكره ‌نقل ‌الزكاة من بلد إلى بلد إلا أن ينقلها الإنسان إلى قرابته أو إلى قوم هم ‌أحوج إليها من أهل بلده."

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:190، ط: رشیدیة)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے :

"جواب: زکات ادا کرنے والوں نے زکات نکال کر انجمن کو وکیل بنا دیا ہے،اس لیے ان کو تو ثواب ملے گا ،آگے انجمن کی ذمہ داری ہے کہ اس کو صحیح خرچ کرے۔"

(ج:5،ص:176، ط:مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100893

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں