بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ارطغرل ڈرامہ دیکھنا

سوال

تلاوت قرآن پاک کے علاوہ  آج کل کتاب پڑھنے کی روایت ختم ہو چکی ہے، سب جانتے ہیں موبائل فون ٹی وی چینل کا زمانہ ہے۔ ڈرامہ ارتغل غازی پر فتویٰ لگایا آپ نے،  کوئی معقول وجہ بتائیں  جسے ہم نہ دیکھیں، کیا صرف وقت گزارنے کے لیے دیکھ  سکتے ہیں؟

جواب

مذکورہ ڈراما  ہو  یا کوئی اور ڈراما  یا فلم، دیکھنا شرعاً جائز نہیں۔

عموماً ٹی وی پر آنے والے پروگرام موسیقی ناچ گانے، بد نگاہی کے اسباب سے خالی نہیں ہوتے، لہذا اس قسم کے پروگراموں کے دیکھنے کی ترغیب دینا (علاوہ جان دار کی تصویر دیکھنے دکھانے کے) اشاعتِ فاحش، و  معاونت علی الاثم کے قبیل سے ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، اگر ان امور سے خالی پروگرام ہو تو بھی جان دار کی تصویر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ان پروگرامز کو دیکھنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل یہاں دیکھیں :

ارطغرل ڈراما دیکھنا

ٹی وی چینلوں کا ”رنگین اسلام“

میڈیا کا ”رنگین اسلام“

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144108201903
تاریخ22-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں