بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیشہ پینے کا حکم

سوال

کیا شیشہ پینا جائز ہے؟

جواب

شیشہ پینا فی نفسہ مباح ہے، تاہم کھانے پینے کی طرح مباح نہیں ہے، بلکہ غیر صلحاء کا معمول ہے؛ اس لیے بعض فقہاء نے اسے مکروہ (تنزیہی) کہاہے، اگر اس کی وجہ سے منہ میں بدبو ہو تو اس حالت میں مسجد میں داخل ہونا مکروہِ تحریمی ہے، مسجد میں داخل ہونے سے پہلے اسے زائل کرلینا چاہیے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

سگریٹ نوشی، شیشہ اور حقہ پینا

چرس، بھنگ، نسوار اور سگریٹ کا حکم
پان اور سگریٹ کا حکم

حقہ پینا

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200055
تاریخ26-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں