بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

واقف کا وقف کردہ زمین فروخت کرنا


سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے عید گاہ کیلے زمین وقف کردی علائقے کے لوگ دس بارہ سال سے اسی وقف شدہ عیدگاہ پہ عیدنماز پڑھ رہے ہیں۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ جگہ کافی تنگ ہوچکی ہے۔ کچھ فاصلے پرزیدکے بیٹے حارث کی اپنی ذاتی زمیں ہے جو کہ پرانی عیدگاہ سے رقبے کے لحاظ سے کچھ بڑی ہے۔ زید علائقے کے لوگوں سے اپنی ذاتی ملکیت عیدگاہ کے لیے وقف کرناچاہتاہے۔ اور پرانی عید گاہ پے پلاٹینگ وغیرہ کرکے فروخت کرناچاہتاہے۔ مہربانی کرکے اس مسئلے کو شریعت کے مطابق بتائیں کہ کیا ایسا کرنا جائز ہے۔

جواب

وقف کردہ زمین میں واقف کے اختیارات اب ختم ھوچکے، لہذا اب اس میں کسی قسم کی تبدیلی، فروخت وغیرہ جائز نہیں ہے۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143411200010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے