بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1440ھ- 18 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

میراث


سوال

میرے نانا کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے ان کی تین بیٹیاں 3 بہنیں اور ایک بھائی ہے،ان کی وراثت کس طرح تقسیم کرنی ہوگی،رہنمائی فرمایئں۔

جواب

مرحوم کے ورثاء میں اگر صرف مذکورہ رشتہ دار ہی زندہ ہیں والدین اور بیوی میں سے کوئی حیات نہیں ہے تو ان کے ترکہ میں سے ان کی تجھیز و تکفین کاخرچہ نکالنے کے بعد اگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد اگر انہوں نے کوئی وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ کو 100 حصوں میں تقسیم کر کے ہر بیٹی کو22 روپے 22 پیسے،ہر بہن کو 6 روپے 66 پیسے اور بھائی کو 13 روپے 33 پیسے ملیں گے۔


فتوی نمبر : 143411200030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے