بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مدرسے کے مہتمم کے لیے مالیات میں تصرف کا حکم


سوال

مہتمم مدرسہ کا ملازمین ادارہ کو قبل ازوقت مشاھرہ ادا کر دینے کاکیاحکم ھے،جبکہ رقم امانت ھی ھے اورپیشگی ادائیگی قرض ہی ھے ؟مہتمم مدرسہ کی وقتی ضرورت سے زائد رقم سے کاروبار کر سکتا ھے،یاکاروبار میں لگا سکتا ھے جبکہ 1.نفع خود لے.2.نفع مدرسہ کودے.3.نفع اپنے اورمدرسہ کے درمیان برابر تقسیم کرے۔مہتمم مدرسہ کی ملک میں مدرسہ کے فائدہ کی غرض سے تصرف کرسکتا ھے مثلا بکرا فروخت کرکہ مدرسہ کے لئے کوئ اور چیز لے لے یا خوردونوش کا سامان لے آۓ؟

جواب

۱-مدرسہ کے ملازمین کو قبل از وقت مشاہرہ دینا قرض نہیں ، بلکہ پیشگی اجرت ہے اور شرعا مال وقف سے پیشگی اجرت دینا جائز ہے ،لہذا مہتمم مدرسہ کا ملازمین مدرسہ کو قبل از وقت مشاہرہ ادا کرنا جائز ہے ۔
۲-مہتمم مدرسہ کا مدرسہ کے لیے جمع شدہ رقم میں سے وقتی ضرورت سے زائد رقم کو کاروبار میں لگانا جائز نہیں ، اگرچہ اس میں مدرسہ کا فائدہ ہی کیوں نہ ہو ۔
3بکرا اگر صدقہ واجبہ کی مد میں ہے تو مہتمم اسے فروخت نہیں کرسکتا اور اگر صدقہ نافلہ ہے تو مدرسہ کی دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے اسے فروخت کرنے کی گنجائش ہوگی۔


فتوی نمبر : 143504200007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے