بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

کسی ایک بیٹی کے نام جائیداد کرنے کی صورت میں حکم


سوال

میرے ابو اکیلے بھائی ھیں اور ان کی پانچ بہنیں ھیں ۔ جناب میری دادی امی کی کچھ زمین ھے جو انھوں نے اپنی ایک بیٹی کے نام کروا دی تھی۔ یہ انھوں نے اس وقت کیا تھا جب وہ باقی سب سے ناراض تھیں اور صرف اس بیٹی سے صلح تھی جن کے نام وہ زمین کر کے گئی ھیں۔ جناب اب دادی فوت ھو گئی ھیں ۔ ان کے فوت ھو جانے کے بعد سب کو پتا چلا کے وہ تو ساری زمین ایک بیٹی کے نام کر گئی ھیں ۔ پھر باقی سب نے اس بیٹی سے اپنا اپنا حصہ مانگنا شروع کر دیا تو وہ کھتی رہی کہ میں سب کو بانٹ کر دوں گی اور بھائی کو صرف ایک حصہ دوں گی ۔ مگر پھر بعد میں وہ اس سے بھی پھر گئی اور اب تک کسی کو کچھ نہیں دیا ۔ جناب آپ سے گزارش ھے کہ آپ شریعت مطہرہ کی روشنی میں بتائیں کہ اب اس جائیداد میں سے کون کون حقدار ھے؟ اور کس کس کا کتنا کتنا حق قرآن کی رو سے بنتا ھے؟ اور اگر یہ تقسیم قرآن کی رو سے نہ کریں تو کون کون گنہگار ھو گا؟ میری ایک پھپھو یعنی دادی کی ایک بیٹی ان کی زندگی میں ھی وفات پا گئی تھیں اب ان کے بیٹے ھیں وہ بھی حصہ مانگتے ھیں کیا قرآن کی رو سے ان کا حق اس جائیداد میں ھے ؟ براہ مہربانی ذرا جلدی اور واضح جواب دے دیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگرسائل کی دادی نے مذکورہ جائیداد اپنی صحت کی حالت میں سائل کی مذکورہ پھوپھی کے نام کرنے کے ساتھ مکمل طورپران کے حوالہ کرکے ان کے قبضےمیں دے دی تھی تومذکورہ جائیداد انہیں پھوپھی کی ملکیت شمارہوگی اس صورت میں مذکورہ جائیداد میں کسی اور بہن بھائی کاشرعی حصہ نہیں ہوگا۔البتہ دادی کو بقیہ اولاد کومحروم کرکے صرف ایک کوجائیدادکامالک نہیں بناناچاہیے تھا۔اوراگرسائل کی دادی نے مذکورہ جائیداد سائل کی مذکورہ پھوپھی کے صرف نام کی تھی ان کے قبضے میں دے کرمکمل طورپرحوالے نہیں کی تھی(سوال میں بہ ظاہر یہی صورت معلوم ہوتی ہے کیونکہ دیگر ورثا کو دادی کی وفات کے بعد معلوم ہوا اگر دادی نے اپنی زندگی ہی قبضہ دے دیا ہوتا تو ورثا کو دادی کی حیات میں اس کا علم ہوجاتا)یاجس وقت مذکورہ زمین سائل کی پھوپھی کے نام کی اس وقت سائل کی دادی مرض موت میں مبتلاتھیں) توسائل کی پھوپھی کی ملکیت اس میں ثابت نہیں ہوگی، بلکہ یہ جائیداد دیگرترکے کے ساتھ شرعی حصوں کے مطابق سائل کی دادی کے انتقال کے وقت موجود تمام بہن بھائیوں(سائل کی تمام پھوپھیوں اورسائل کے والد) میں تقسیم ہوگی۔ بہرصورت سائل کی جن پھوپھی کاسائل کی دادی کی زندگی میں انتقال ہوا ان کی اولاد کاشرعاً کوئی حصہ اس جائیداد میں نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143506200040

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے