بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

احادیث سے مردوں اور عورتوں کی نماز میں فرق کا ثبوت


سوال

مستورات اور مردوں کی نماز میں فرق کے بارے میں جو حدیثِ مبارک ہے وہ عربی میں اور سند کے ساتھ درکار ہے، اردو ترجمہ بھی مل جائے تو سہولت رہے گی!

جواب

مرد و عورتوں کی نمازوں میں کئی وجوہ سے فرق ہے اور ان فروق کی تفصیل فقہاء نے کتابوں میں بیان فرما دی ہیں اور وہ فرق احایثِ  مقدسہ ہی سے مستفاد ہیں، لہذا ذیل میں چند روایات پیش کی جا رہی ہیں جن سے مرد و عورتوں کی نماز میں فرق واضح ہوتا ہے:

مصنف ابن أبي شيبة (1/ 216):

"حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش، عن عبد ربه بن زيتون، قال: رأيت أم الدرداء، ترفع كفيها حذو منكبيها حين تفتتح الصلاة، فإذا قال الإمام: سمع الله لمن حمده، رفعت يديها , قالت: «اللهم ربنا لك الحمد»".

ترجمہ: عبد رب  بن زیتون فرماتے ہیں کہ میں نے ام الدرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز شروع کرتے ہوئے اپنے ہاتھ کندھوں تک اٹھاتی تھیں۔

إعلاء السنن،۲/۱۸۱، بحواله مجمع الزوائد :

"عن وائل بن حجر رضي الله عنه قال: قال رسول اﷲ ﷺ:  یا ابن حجر إذا صلیت فاجعل یدیك حذاء أذنیك، والمرأة تجعل یدیها حذاء ثدیها".

ترجمہ: وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا کہ اے ابن حجر! جب تم نماز پڑھو تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کانوں تک اٹھا لیا کرو اور عورت اپنے ہاتھ اپنے سینے کے برابر اٹھائے گی۔

كنز العمال (7/ 549):

"إذا جلست المرأة في الصلاة وضعت فخذها على فخذها الأخرى فإذا سجدت ألصقت بطنها في فخذيها كأستر ما يكون لها، وإن الله تعالى ينظر إليها ويقول: يا ملائكتي أشهدكم أني قد غفرت لها".

ترجمہ: جب نماز میں عورت بیٹھے گی تو اپنی ایک ران دوسری پر رکھے ا ور جب سجدہ کرے گی تو اپنے پیٹ کو اپنی ران سے ملائے گی؛  تا کہ نماز میں اس کا ستر  زیادہ ہو سکے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ اے فرشتوں! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کی مغفرت کر دی۔

سنن الترمذي ت بشار (1/ 478):

"حدثنا هناد، قال: حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء".

یعنی  دورانِ نماز امام کو غلطی پر متنبہ کرنے کے لیے مرد ’’سبحان اللہ‘‘  کہیں گے اور عورتیں ایک ہاتھ کو دوسرے پر ماریں گی۔

مذکورہ بالا روایات  یہ بات صراحۃً مذکور ہے کہ عورت تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ کس کیفیت سے اٹھائے گی،  نیز اس بات کا ذکر بھی صراحۃً موجود ہے کہ وہ سجدہ کس کیفیت سے کرے گی،  اس کے علاوہ عورت کا رکوع میں کم جھکنے کا حکم بھی اُسی حدیث سے مستفاد ہے جس میں  "كأستر ما يكون لها" کا ذکر ہے۔

ان تمام روایات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مرد و خواتین کی نمازوں میں کئی وجوہ سے فرق ہے۔ فقط واللہ اعلم

اس مسئلے کی مزید تفصیل احادیث کی روشنی میں جاننے کے لیے درج ذیل لنک پر فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

مرد و عورت کی نماز میں فرق کی دلیل کیا ہے؟

مردوعورت کی نماز میں فرق احادیث میں


فتوی نمبر : 143909200938

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے