جامعہ علوم اسلامیہ
urdu arabic english

شرائط داخلہ

کسی بھی درجے میں داخلہ کے لیے آنے والا طالب علم سابقہ درجہ کے کوائف بالخصوص وفاق المدارس العربیہ کی سندات اور کشف الحضور وغیرہ پیش کرنے کا پابند ہوتا ہے ۔

طلبہ کی تربیت پر جامعہ میں پوری توجہ دی جاتی ہے اس لیے طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ جامعہ کے ان قواعد وضوابط کی پابندی کرے جو آگے آرہے ہیں۔

بنیادی طور پر یہ ضروری ہے کہ طالب علم صحیح العقیدہ مسلمان ہو ،اتباع سنت اور اسلاف کا طرز ِفکروعمل اس کا شیوہ ہو ۔

درجات کتب میں داخلہ کے لیے طالب علم کی عمر کم ازکم ۱۰ سال ہونی چاہیے جبکہ حفظ وناظرہ میں اس سے کم عمر کے طلبہ کو بھی داخلہ دیا جاتا ہے۔

داخلہ کے لیے عموماً مڈل یا میٹرک پاس طلبہ آتے ہیں چنانچہ ایسے طلبہ کو اسکول سے حاصل شدہ سند کی بنیاد پر درجہ اولیٰ کے لیے امتحان ِداخلہ میں شامل کیا جاتا ہے۔

جو طلبہ ابتداء ہی سے (اسکول پڑھے بغیر) جامعہ کا رخ کرتے ہیں ان کے لیے درجہ اولی میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے وفاق المدارس العربیہ کے نصاب کے مطابق مڈل تک کا نصاب پڑھیں جسے "متوسطہ" یا "اعدادیہ "کہا جاتا ہے۔

بیرون کے طلبہ کے لئے شرائط داخلہ

جامعہ کے دروازے روز اول سے دنیا کے ان طلبہ کے لئے کھلے ہوئے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ علم دین حاصل کرکے اپنے اپنے ملکوں میں جاکر اسے دوسروں تک پہنچائیں اور معاشرہ کی تعمیر واصلاح میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں، ایسے طلبہ کے لئے سابقہ شرائط کے علاوہ مندرجہ ذیل امور بھی لازمی ہیں:

قرآن کریم "ناظرہ "پڑھ چکا ہو اور تھوڑی بہت عربی زبان جانتا ہو یا سمجھ سکتا ہو۔

جامعہ میں عربی اور اردو میں تعلیم دی جاتی ہے، اس لئے طالب علم کی دونوں زبانوں سے کچھ نہ کچھ مناسبت ضروری ہے۔

طالب علم کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ملک میں موجود پاکستانی سفارت خانے سے تعلیمی ویزا حاصل کرے، سیاحت یا کسی اور قسم کے ویزے پر داخلہ نہیں دیاجاتا۔

آمد ورفت کے اخراجات کا طالب علم خود ذمہ دار ہوتاہے ، البتہ مستحق طلبہ کو داخلہ کے بعد سے تعلیم، کتب، علاج، کھانے پینے اور جامعہ کے اندر رہائش کی سہولتیں مفت مہیا کی جاتی ہیں۔

داخلہ کا طریقہٴ کار

کسی بھی درجہ میں داخلہ کے خواہش مند طالب علم کو مطلوبہ درجہ میں داخلہ کے لیے سابقہ درجہ کا امتحان دینا ضروری ہے ،صرف امتحان میں کامیابی پر داخلہ نہیں ملتا بلکہ جہاں تعلیمی استعدادکی چھان بین ہوتی ہے وہاں طالب علم کے ذہنی وفکری رجحان کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ جامعہ میں داخلہ لینے والے طالب علم کا ذہن وفکر کہیں غیر علمی امور میں مشغول تو نہیں!

داخلہ کے طریقہٴ کار میں حسب ضرورت قدرے رد وبدل ہوتا رہتاہے، تاہم عام طور پر داخلہ کا طریقہٴ کار درج ذیل ہے۔

داخلہ کا امتحان اور جائزہ تین مراحل پر مشتمل ہوتاہے :

پہلے مرحلہ میں طالب علم سے ناظرہٴ قرآن کریم ، نماز اور دعاؤں کا شفوی جائزہ لیا جاتا ہے اس میں کامیاب ہونے والے طالب علم کی درخواست ِداخلہ اگلے مرحلہ کے لیے قبول کی جاتی ہے۔

پہلے مرحلہ میں کامیاب امیدواروں کا مطلوبہ درجہ کے لیے تحریری امتحان لیاجاتا ہے۔

تیسرے مرحلہ میں تحریری امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ کا تقریری امتحان لیا جاتاہے جس میں سابقہ درجہ کی تمام یا منتخب کتب کا امتحان لیا جاتا ہے ۔

اس مرحلہ میں کامیاب ہونے والے امیدوار طالب علم کو داخلہ فارم دیا جاتا ہے جس پر دفتری کاروائی کے بعد اس طالب علم کا داخلہ مکمل ہوکر اسے "بطاقة القبول" دیاجاتا ہے اور رجسٹر داخلہ میں اس کے نام کا اندراج ہوتاہے۔

واضح رہے کہ جامعہ اور اس کی تمام شاخوں میں داخلہ مرکز ہی سے ہوتا ہے ۔

اوقات تعلیم

درجات کتب میں صبح چار گھنٹے اور ظہر کے بعد دو گھنٹے تعلیم ہوتی ہے ، درمیان میں کھانے،آرام اور نماز کا وقفہ ہوتا ہے ،جبکہ حفظ کی کلاسیں ان دو مذکورہ اوقات کے علاوہ مغرب سے عشاء تک بھی لگتی ہیں۔

اس کے علاوہ درجات کتب کے طلبہ کے لیے مغرب سے لے کر کم ازکم رات ساڑھے دس بجے تک اساتذہ کی نگرانی میں تکرار ومطالعہ کا نظام بنا ہوا ہے،جبکہ درجات متوسطہ اور شعبہ بنات کے تعلیمی اوقات صبح آٹھ بجے سے ایک بجے تک ہیں ۔

تعلیمی دورانیہ اور تعطیلات

جامعہ میں تعلیمی دورانیہ تقریبا دس ماہ پر مشتمل ہے جو نصف شوال سے شروع ہوکر اوائل شعبان پر ختم ہوتا ہے سالانہ تعطیلات دوماہ ہوتی ہیں، عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی دس روز کی تعطیل ہوتی ہے جبکہ ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوتی ہے۔

طلبہ کی کفالت اور وظائف

جامعہ کے تمام شعبوں میں تعلیم مفت دی جاتی ہے، طلبہ سے تعلیمی ،رہائشی یاکسی اورقسم کی کوئی فیس نہیں لی جاتی جبکہ نصاب کی کتابیں طلبہ کو عاریةً دی جاتی ہیں ،مستحق طلبہ کو وظیفہ، کھانا، علاج اور دیگر ضروریات بھی مہیا کی جاتی ہیں، جسے اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم اورنیک بندوں کے تعاون کے ذریعہ سے پورا فرماتے ہیں۔

دار الاقامہ

جامعہ میں طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی اور اخلاقی تربیت پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے، جس کے لئے ضروری ہے کہ طالب علم چوبیس گھنٹے جامعہ کے ماحول میں گزارے، اس مقصد کے لئے جامعہ نے دار الاقامہ کا انتظام کیا ہے،چنانچہ جامعہ اور اس کی شاخوں میں طلبہ کی رہائش کے لیے کئی عمارتیں موجود ہیں جن میں سے ایک عمارت غیر ملکی طلبہ کے لئے بھی مختص ہے ، ان عمارتوں میں بجلی، پانی، پنکھے، گیس کے چولہے ،گیزراور ٹھنڈے پانی کے کولر جیسی ضروریات موجود ہیں اور ملکی اور غیر ملکی طلبہ کے لئے الگ الگ مطبخ (باورچی خانہ) اور مطعم (کھانے کا ہال) ہیں جہاں وہ مل بیٹھ کر کھاناکھاتے ہیں۔

دار الاقامہ میں مقیم طلبہ کی نگرانی اور دیکھ بھال کے لیے اساتذہ مقرر ہیں جوتعلیمی اوقات کے علاوہ بھی ان کی تربیت کا اہتمام کرتے ہیں،رات کو کسی بھی وقت ان کی حاضری بھی لے لیتے ہیں، صبح اور دوپہر میں قیلولے کے بعد انہیں نماز کے لئے جگاتے ہیں ، اگر کوئی طالب علم بیمار ہوجائے تو اس کے فوری علاج معالجے کا انتظام کرتے ہیں۔

دارالاقامہ کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر ہیں ، اسی طرح اس کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے ایک نظام بنایا گیا ہے جس کی نگرانی ناظم دارالاقامہ کرتے ہیں

جامعہ میں کثیر تعداد میں وہ طلبہ بھی پڑھتے ہیں جن کی رہائش کراچی میں ہے،ایسے طلبہ صرف تعلیم اور مطالعہ کے اوقات تک جامعہ میں رہتے ہیں ، اس کے بعد وہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں ۔

طلبہ اور ان کے سرپرستوں کے لئےضروری ہدایات اور قواعد وضوابط

ہر طالب علم کی اہل سنت والجماعت کے مسلک حق سے مکمل وابستگی ضروری ہے،جمہور علماء اور خصوصاجامعہ کے اسلاف کے فکروعمل سے مکمل مطابقت اور ہم آہنگی رکھے اوراس سے کسی بھی قسم کا انحراف نہ کرے ۔

نماز باجماعت کی پابندی ہر طالب علم کے لئے انتہائی ضروری ہے، ترک جماعت کے لئے کوئی غیر شرعی عذر مسموع نہ ہوگا۔

اساتذہ جامعہ سے عقیدت ومحبت اوردل سے ان کی عزت واحترام تحصیل علم اور استفادہ کی اولین شرط ہے، لہٰذا ہر طالب علم کا فرض ہے کہ وہ تمام اساتذہ کا انتہائی احترام کریں اور ان سے قلبی وابستگی پیدا کرے، اگرچہ وہ براہ راست اس کے استاد نہ ہوں۔

ہرطالب علم کے لئے اخلاق واعمال، صورت وسیرت ،وضع قطع اور لباس میں صلحاء امت کی اتباع ضروری ہے، سگریٹ پینا، انگریزی بال رکھنا، داڑھی منڈانا یا خلاف شرع کٹانا قطعاًممنوع ہے، اپنے ساتھیوں یا ملازمین جامعہ سے لڑنا جھگڑنا، بدکلامی یا بداخلاقی سے پیش آنا، ایک دوسرے کی چغلی، عیب جوئی، غیبت، مذاق اڑانا، بیہودہ مذاق کرنا بدترین عیوب ہیں، ان سے اجتناب کرنا ہرطالب علم کا فرض ہے۔

ہرطالب علم کو اپنی شکایات اور ضروریات منتظمین اور اساتذہ کے سامنے پیش کرنی چاہئیں، اگر کوئی ساتھی زیادتی کرے تو خود جواب دینے اور بدلہ لینے کی کوشش ہرگز نہ کرے، بلکہ ناظمین اور اساتذہ کرام کے سامنے پیش کرکے چارہ جوئی کرے۔

سبق سے غیر حاضری جرم ہے اور ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہے، ایسی شدید ضرورت میں جو سبق قضا کئے بغیر نہ پوری کی جاسکے، خود چھٹی کی درخواست دفتر کو دینا ضروری ہے، کسی کے ہاتھ درخواست بھیجنا یا فون پر اطلاع کردیناہرگز کافی نہ ہوگا اسی طرح بیماری کی درخواست اس وقت منظور ہوگی جب سبق میں شرکت ناممکن یا زیادتی ٴمرض کی موجب ہو، دار الاقامہ میں رہنے والے طلبہ کی درخواست اس وقت تک منظور نہ ہوگی جب تک ناظم دار الاقامہ کے دستخط نہ ہوں،باہر رہنے والے طلبہ کو اپنے سرپرست اور پھر کلاس کے نگران استاذسے دستخط کراکر درخواست پیش کرنا ہوگی۔

جو طالب علم مطالعہ اور تکرار میں کوتاہی کرے گا، تنبیہ کے بعد بھی اگر باز نہ آیا تو اس کو سزا دی جائے گی۔

طلبہ کے لئے سیاست، جلسہ،جلوس وغیرہ میں شرکت ممنوع ہے، جو طالب علم کسی سیاسی جماعت یا غیر تعلیمی سرگرمی میں ملوث پایا گیا،اسے خارج کردیا جائے گا۔

چونکہ جامعہ طلبہ کی تمام تر ضروریات کی کفالت کرتاہے اس لئے طلبہ کا فرض ہے کہ وہ اپنا تمامتر وقت یکسوئی کے ساتھ تحصیل علم میں صرف کریں اور اپنی حوائج وضروریات کو پورا کرنے کے لئے اور ذرائع کی جستجو نہ کریں۔

جو طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے طور پر کوئی دوسرا مشغلہ مثلاً: امامت، مؤذنی وغیرہ اختیار کریں گے، وہ جامعہ کی امداد اور دار الاقامة کی سکونت کے مستحق نہیں ہوں گے۔

جن کم سن طلبہ کی سکونت جامعہ کے دار الاقامہ میں نہ ہو، ان کے سرپرست داخلہ کے وقت انکے ہمراہ ضرور آئیں اور جامعہ کے قواعد وضوابط اور اساتذہ ومنتظمین کی ہدایات کو سمجھیں اور بچوں سے ان پر عمل کرائیں، خلاف ورزی پر سخت باز پرس کریں، وقتاً فوقتاً جامعہ میں آکر اساتذہ وانتظامیہ سے حالات ضرور معلوم کرتے رہیں، تعطیلات کے ایام میں خاص طور پر بچوں کے اعمال واخلاق کی پوری نگرانی رکھیں اور انہیں بری صحبت سے بچائیں۔

دار الاقامہ میں مقیم طلبہ کے لئے عصر ومغرب کے درمیانی وقت کے علاوہ کسی بھی وقت دار الاقامہ سے باہر جانے کے لئے ناظم دار الاقامہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔

عصر ومغرب کے درمیانی وقت کے علاوہ بقیہ تمام اوقات میں خصوصاً رات کے اوقات میں دار الاقامہ یا درسگاہوں میں موجود ہونا ضروری ہے، اگر کسی وقت بھی دار الاقامہ کی حاضری لی گئی اور کوئی طالب علم موجود نہ ہوا تو وہ سخت سزا کا مستحق ہوگا۔

جو طلبہ سیر وتفریح، احباب کی ملاقاتوں، غیر ضروری مہمان نوازی میں اپنا وقت ضائع کریں گے، تنبیہ کے بعد بھی اگر وہ باز نہ آئیں تو خارج کردیے جائیں گے، دار الاقامہ میں بغیر اجازت کے مہمان ٹھہرانے کی اجازت ہرگز نہ ہوگی۔

اپنے احباب اور ملنے والوں کو بتا دینا چاہئے کہ وہ صرف عصر ومغرب کے درمیان یا جمعہ کے دن ملاقات کے لئے آیا کریں۔

ہرطالب علم کو چاہیے کہ صفائی وستھرائی کا بھر پور اہتمام کرے، بالخصوص جمعہ کے دن غسل کرنے اور کپڑے بدلنے سے پہلے اپنے کمرے اور برآمدہ کو صاف کرے، کوڑا مقررہ جگہ کے علاوہ اور کہیں نہ پھینکے، درسگاہ، کمرہ اور برآمدہ کو خراب اور گندہ نہ کرے، دیواروں پر نہ لکھے، پتھر اور ڈھیلے لے کر بیت الخلا میں نہ جائے، پانی سے استنجاء کرے، برتن یا کپڑے دھونے کے بعداس جگہ کو صاف کردے، اپنے کمرے کی تمام چیزوں کو سلیقہ اور قرینہ کے ساتھ رکھے، غرض صفائی، شائستگی، تہذیب واخلاق اور دینداری کا مثالی نمونہ پیش کرے۔

جامعہ کے مہتمم ،اساتذہ اور منتظمین کو ہر طالب علم سے مکمل بازپرس کا حق ہے ،ان کے حکم کی تعمیل کرناطالب علم کا فرض ہوگا،انہیں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر مواخذہ کا پورا حق حاصل ہوگا ۔

ہر طالب علم پر لازمی ہے کہ وہ جامعہ کے قواعد وضوابط اور اساتذہ کی طرف سے دی جانی والی تمام ہدایات کی مکمل پابندی کرے ۔