بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ابنِ عربی رحمہ اللہ کے نظریہ وحدت الوجود کا تفصیلی جائزہ

سوال

ابن عربی کے مطابق مخلوق نہ اللہ کے وجود کے اندر ہے نہ باہر ہے اور ایسا کہنے والا مشرک ہے،اندر والی بات تو سمجھ آتی ہے،  لیکن باہر والی بات کے لیے وہ مثال دیتا ہے کہ اللہ کی ذات کا وجود لامحدود ہے؛  اس لیے مخلوق کو باہر ماننے والا بھی مشرک ہے۔ تو اگر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے وجود سے باہر ماننا بھی شرک ہے تو پھر مخلوق کہاں ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ مذکورہ نظریہ   کی اصل، نظریہ ’’ وحدت الوجود ‘‘ ہے ، اور اس نظریہ  کے حوالے سے  ابن عربی علماءِ  حق  کی نظر  میں حق بجانب ہیں۔  چنانچہ مذکورہ مسئلہ کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

ابن عربی اور وحدت کے الوجود مسئلہ پر مختصر تبصرہ

ابن عربی رحمہ اللہ کے نظریہ وحدت الوجود اور ان کے بارے میں اکابرین دیوبند کی رائے

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212202309
تاریخ08-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں