بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بے نمازی کی قربانی کا حکم

سوال

بے نمازی کی قربانی کا کیا حکم ہے قربانی ہوتی ہی نہیں یا ہوتی ہے قبول نہیں؟

 

جواب

اگر کوئی شخص خدا نخواستہ  نماز نہ پڑھتا ہو  اور  وہ صاحبِ نصاب ہو تو اس پر  قربانی لازم  ہے، اسے قربانی کرنی چاہیے ،اور اس کی قربانی ہو جاتی  ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالی اس کی قربانی کو قبول فرما لیں گےاور ایسے شخص کو نماز کا بھی  اہتمام کرنا چاہیے۔ پرانی قضا  نمازوں کو ادا کرنا لازم ہے۔فقط واللہ اعلم

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتاویٰ دیکھیے:

کیا چور کی نماز قبول ہوگی؟

کیا داڑھی منڈے شخص کی نماز قبول ہوتی ہے؟

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144212201688
تاریخ01-08-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں