بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم اور طلاق کی شرط

سوال

کیا شدید غصہ کی حالات میں کھائی گئی قسم یا شرط لگانے کی وجہ سے طلاق واقع ہو جائے گی ؟

جواب

غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم معتبر ہے۔ نیز غصے کی حالت میں طلاق کی تعلیق بھی معتبر ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

غصہ میں تین مرتبہ بیوی کو طلاق دینا

حاملہ بیوی کو غصے کی حالت میں طلاق کا حکم

غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق کا حکم

انتہائی غصے کی نیم جنونی کیفیت میں طلاق کا حکم

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 244):

"قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201487
تاریخ13-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں