بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہندوستان میں بینک کے سود کا حکم

سوال

میں ہندوستان میں رہتا ہوں، بینک میں جو اضافی رقم ملتی ہے، میں اس کو ناجائز سمجھتا ہوں، لیکن کچھ دن پہلے ایک صاحب نے فتویٰ دیا بینک میں جو اضافی رقم ملتی ہے وہ سود نہیں ہے، بلکہ جائز مال ہے؛ کیوں کہ ہم غیر مسلم ملک میں رہتے ہیں۔ اس مسئلہ کی کیا حقیقت ہے؟

جواب

آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ مبارکہ میں سود کے بارے میں وارد ہونے والی سخت اور مطلق وعیدوں کی روشنی میں راجح اور مفتیٰ بہ قول کے مطابق سودی رقم کا کسی بھی قسم کا لین دین کسی بھی جگہ جائز نہیں ہے، نہ دار الاسلام میں اور نہ ہی دار الحرب میں۔

 تفصیل کے لیے درج ذیل فتاویٰ ملاحظہ فرمائیں:

ہندوستان میں سود کے لین دین کا حکم

ہندوستان میں سود کا لین دین

مزید تفصیل کے لیے  امداد الفتاویٰ (ج:3،  کتاب الربوا، ص:155، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)، رسالہ بعنوان:"تحذیر الإخوان عن الربا في الھندوستان" اور فتاویٰ بینات (ج:4، ص:95 تا 100)  کتاب المعاملات۔ 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144112201259
تاریخ10-08-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں