بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کو ملنے والی عیدی و انعام میں والدین کا تصرف کرنا

سوال

 کیا والدین اپنے بچوں کی عیدی کے پیسے یا انعام کے پیسے اپنی ذاتی ضروریات کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟

جواب

بچوں کو ملنے والی عیدی و انعام بچوں کی ملکیت ہے، لہذا اسے والدین اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لاسکتے بلکہ ان ہی کی ضروریات میں خرچ کرنا لازم ہے۔فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

بچوں کی عیدی اور ان کے انعام کے مصارف

نابالغ بچوں کو ملنے والے تحائف کا حکم

پیدائش کے وقت بچوں کو ملنے والے تحفہ تحائف کا حکم/ نومولود بچی کا ترکہ

بچے کی پیدائش پر رشتے داروں کے تحائف کا حکم

کیا ماں اپنے نا بالغ یتیم بچوں کا مال کاروبار میں لگا سکتی ہے؟

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200786
تاریخ04-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں