بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچوں کی عیدی اور ان کے انعام کے مصارف

سوال

 بچے کو عیدی یا انعام کے طور پر جو رقم ملتی ہے کیا وہ رقم اسی بچے پر خرچ کی جاسکتی ہے، مثلاً اسکول کی فیس ادا کرنا یا اس کے کپڑے وغیرہ لینا؟

جواب

بچوں کو جو رقم انعام یا عیدی کے طور پر دی جاتی ہے وہ رقم بچے کی ملک ہوتی ہے، کسی اور شخص کا اس رقم کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہوتا، بچے کے اپنے مصارف میں اس کو خرچ کیا جا سکتا ہے، بچے کے کپڑے بھی لیے جا سکتے ہیں اور اس کے اسکول کی فیس بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کے فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

نابالغ بچوں کو ملنے والے تحائف کا حکم

پیدائش کے وقت بچوں کو ملنے والے تحفہ تحائف کا حکم/ نومولود بچی کا ترکہ

بچے کی پیدائش پر رشتے داروں کے تحائف کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106201048
تاریخ19-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں