بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

افطار کے وقت اجتماعی دعا

سوال

افطار کے وقت اجتماعی دعا کی جائے جیسے والد یا کوئی اور گھر میں دعا کرے اور سب اس پر آمین کہیں،  کیا یہ طریقہ درست ہے ؟

جواب

دعا میں اصل یہ ہے کہ اکیلے اپنے لیے دعا مانگی جائے،  کیوں کہ یہ خدا اور بندے کے درمیان راز و  نیاز اور سرگوشی کے درجے میں ہے،  یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عام معمول انفرادی دعا کا تھا، خاص خاص مواقع پر اجتماعی دعا کی جاتی تھی، لہذا اگر افطار سے پہلے معمول بنائے اور لازم سمجھے بغیر کبھی کبھار اجتماعی دعا کرلی جائے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اس کو روزانہ کا معمول نہ بنایا جائے ،نہ ہی اس پر اصرار کیا جائے اور نہ ہی ضروری سمجھا جائے۔ فقط و اللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

افطار سے پہلے ہاتھ اُٹھا کر دعا کرنا کیا ثابت ہے؟

افطاری کے وقت دعا کرنا

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109200053
تاریخ24-04-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں