بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

مسلمانوں کی عظیم شخصیتوں کے کرداروں کی فلم بنانا


سوال

کیا عظیم شخصیتوں(جیسے صحابی رسول حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) پر فلمیں بنانے کی شریعتِ مطہرہ کی عین تعلیمات کے مطابق گنجائش ہے؟ 

جواب

جان دار کی تصویر  پر مشتمل فلم سازی ویسے بھی ناجائز اور حرام ہے، بالخصوص انبیاءِ کرام  علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسی مقدس اور معزز ہستیوں کی فلم بنانا  قطعاً حرام اور کبیرہ گناہ ہے،  اس کی شرعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مسلمانوں میں  اپنے اسلاف کی روایت اور طریقہ زندہ کرنے کے لیے ان کے قصے، تذکرے، اور واقعات کی تحریر ی اور  زبانی تشہیر کرنی چاہیے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتوی ملاحظہ کریں :

انبیاء کے کرداروں پر مشتمل فلم کا حکم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201476

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے