بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1444ھ 08 اگست 2022 ء

بینات

 
 

نقدونظر ، تبصرہ وتعارفِ کتب

نقدونظر ، تبصرہ وتعارفِ کتب

 

منتخب احادیثِ قدسیہ یعنی خدا کی باتیں

تالیف: سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعیددہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ تخریج وتحقیق: حضرت مولانا محمد امیر علوی صاحب مدظلہٗ۔ صفحات: ۱۸۹۔ قیمت: درج نہیں۔ ۳/۲۳، اے بگ پلاٹ، شاہ فیصل کالونی، کراچی۔ فون نمبر: 0300-2202937
سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ ہندوستان میں فصیح وبلیغ معروف خطیب گزرے ہیں، ان کی فصاحت وبلاغت کی وجہ سے عرب کے مشہور خطیب سحبان بن وائل کی نسبت سے انہیںسحبان الہند کا لقب دیا گیا ۔ آپؒ کو جس طرح تقریرمیں ملکہ حاصل تھا، اسی طرح آپؒ کو تحریر کا بھی شغف تھا، آپ کی دو درجن کے قریب تصنیفات وتالیفات شائع ہوئیں، ان میںایک اہم تصنیفی کارنامہ تفسیر ’’کشف الرحمٰن‘‘ ہے، باقی تصانیف میں ایک اہم تصنیف زیرِتبصرہ کتاب ’’احادیثِ قدسیہ یعنی خدا کی باتیں‘‘ ہے، اس میں ان احادیث کو جمع کیا گیا ہے، جو حدیث کی اصطلاح میں احادیثِ قدسیہ کہلاتی ہیں۔ حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ نے ان احادیثِ قدسیہ کے متن کو ذکر کیے بغیر ان کا ترجمہ کیا ہے اور ترجمہ کے ساتھ ساتھ کچھ وضاحتیں اور فوائد بھی لکھے ہیں۔ اصل کتاب کافی بڑی ہے، حضرت مولانا محمد امیر علوی دامت برکاتہم جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے قدیم فاضل ومتخصص اور کئی کتابوں کے مصنف ومحقق اور شیخ طریقت ہیں، انہوں نے اس کتاب کی احادیث میں سے ضعیف اور متکلم فیہ روایات کو چھوڑ کر صحاحِ ستہ، مسند احمد، صحیح ابن حبان وغیرہ جیسی کتابوں کی کچھ احادیث کا انتخاب کیا ہے، پھر ان منتخب احادیث کی تحقیق وتخریج بھی فرمائی ہے، مزید بھی کچھ ملاحظات اور حواشی کا اضافہ کیا ہے۔ 
کتاب کا عنوان ایسا ہے کہ دل کرتا ہے کہ ہر مسلمان اس کا ضرور مطالعہ کرے اور دیکھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے ہم سے کیا باتیں کی ہیں؟ کتاب کا کاغذعمدہ، جلدمضبوط اور ٹائٹل دیدہ زیب ہے۔ 

تحفۂ طلبۂ دورہ حدیث

جمع وترتیب: مولانا مفتی محمد زبیر اشرف صاحب (میمن)۔ صفحات:۱۰۲۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر:مکتبۂ زبیر کراچی، فون نمبر: 0334-0203410۔ ملنے کا پتا: اسلامی کتب خانہ بالمقابل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی۔
زیرِنظر کتابچہ دورۂ حدیث کے طلبہ کرام کے لیے لکھا گیا ہے۔ صحاحِ ستہ، دیگر کتبِ احادیث، ان کے مصنفین اور ان کتب کی عربی شروحات اور ان کے شارحین سے متعلق اہم اور منتخب معلومات جمع کی گئی ہیں۔ 
کتابچہ کی کمپوزنگ اور سیٹنگ عمدہ ہے، مگر ٹائٹل سادہ اور کاغذ ہلکا ہے۔ بہرحال دعاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو طلبہ کرام اور علماء کرام کے لیے نافع بنائے اور مرتب کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین

لطائف معراج النبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (السراج المنیر في معراج البشیر والنذیر)

بیانات: جسٹس (ر) حضرت ڈاکٹر علامہ خالد محمود  رحمۃ اللہ علیہ  (پی ایچ ڈی، لندن)۔ ترتیب وپیشکش: مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی صاحب۔ صفحات:۲۳۱۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: ادارہ اشاعت الاسلام مانچسٹر (برطانیہ)۔ پاکستان میں ملنے کا پتا: محمود پبلی کیشنز (اسلامک ٹرسٹ) L.G:20، ہادیہ حلیمہ سینٹر، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور۔ فون نمبر:0302-4284770
حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمۃ اللہ علیہ  (پی ایچ ڈی، لندن) کا خاص اور ترجیحی موضوع فرقِ باطلہ کی تردید اور مسلکِ حق اہلِ سنت والجماعت (دیوبند) کا دفاع رہا، جس پر آپ کی کئی بے مثال مدلل اور ضخیم کتب شائع ہوئیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم عملی معجزے اور منفرد اعزاز یعنی معراج سے متعلق آپؒ کے آٹھ خطبات و دروس کی تلخیص وتسہیل ہے۔ تکرار سے بچنے کے لیے تلخیص وتسہیل کا اہتمام کیا گیا ہے۔ کتاب کے مرتب مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی صاحب نے بھی اس موضوع پر مفید اور منتخب مواد شذرات کی صورت میں جمع کیا ہے، جو اچھی اور عمدہ کاوش ہے اور اس میں مذکورہ موضوع کی نفیس مباحث اور عنوانات کا کسی قدر اِحاطہ ہوگیا ہے۔ 
کتاب کی فہرست میں مذکور بعض عنوانات کو اندرونی صفحات میں عنوان کے انداز میں واضح اور جلی نہیں کیا گیا، جس سے بعض اوقات قاری کو مطلوبہ مواد تک پہنچنے میں دشواری ہوتی ہے، اور اولِ وہلہ میں گمان گزرتا ہے کہ شاید صفحہ نمبر غلط لگ گیا ہے، بہتر ہوتا کہ فہرست کے عنوانات اندرونی صفحات میں بھی بڑے فونٹ میں واضح اور جلی ہوتے۔ بہرحال کتاب کا کاغذ اعلیٰ، جلد مضبوط اور ٹائٹل عمدہ اور جاذبِ نظر ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور قارئین کے لیے اُسے نافع بنائے، آمین

حیاۃ النبی( صلی اللہ علیہ وسلم ) یعنی إنباء الأنباء في حیاۃ الأنبیاء

مصنف: شیخ امام ابوالحسن صغیر بن محمد صادق سندھی رحمۃ اللہ علیہ ۔ مترجم: مفتی محمد خالد میمن صاحب ہالوی ۔ صفحات:۱۵۲۔ قیمت: ۲۲۰ روپے۔ ناشر : جامعہ دارالعلوم الاسلامیہ، ہالا، سندھ۔ فون نمبر: 0300-3041493
حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا اپنی قبور میں زندہ ہونے کا عقیدہ پوری اُمتِ مسلمہ اور مسلک اہلِ سنت والجماعت دیوبند کا اِجماعی عقیدہ ہے جو مسلکِ دیوبند کے عقائد کی ترجمان کتاب’’ المہند علی المفند‘‘ میں مذکور ہے۔
زیرِ تبصرہ کتاب بعنوان ’’حیاۃ النبی( صلی اللہ علیہ وسلم ) ‘‘ کا موضوع عقیدہ حیات الانبیاء اور حیاتِ شہداء ہے، جو ایک عربی کتاب ’’إنباء الأنباء في حیاۃ الأنبیاء‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے۔ اصل عربی کتاب بارہویں صدی کے سلسلۂ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ حضرت مولانا محمد صادق سندھی رحمۃ اللہ علیہ  کے ہونہار فرزند علامہ ابوالحسن صغیر نقشبندی سندھی مدنی رحمۃ اللہ علیہ  (ولادت: ۱۳۳۵ھ) کی تالیف لطیف ہے، جس میں مذکورہ عقیدہ کو قرآن وحدیث اور عقلی دلائل سے ثابت کیا گیا ہے، اور کچھ اشکالات کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ اپنے موضوع پر یہ ایک مدلل، معتبر اور تحقیقی کتاب ہے۔ کتاب کے شروع میں نامور محقق حضرت مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی ؒ کا ایک مختصر مقدمہ بھی ہے، جس میں تصنیف اور صاحبِ تصنیف کا تعارف کرایا گیا ہے۔ 
ٹائٹل پر عربی کتاب کا نام ’’اَنباء الأنباء الخ‘‘ درج ہے، یعنی پہلا لفظ ’’اَنباء‘‘ہمزہ کے زبر کے ساتھ لکھا گیا ہے، حالانکہ یہ بابِ افعال کا مصدر ہے، اس لیے اسے زیر کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ٹائٹل پر کتاب کے نام میں اس طرح کی غلطی نہایت فحش غلطی ہے۔ پروف ریڈنگ اور علاماتِ ترقیم کی طرف بھی مزید توجہ کی ضرورت ہے۔ نیز افتتاحیہ میں صفحہ نمبر:۶ پر مصنف شیخ ابوالحسن صغیرؒ کا سنِ ولادت ۱۳۳۵ھ لکھا گیا ہے، حالانکہ مصنف کی پیدائش بارہویں صدی میں ہوئی ہے، یعنی درست سنِ ولادت ۱۱۳۵ھ ہونا چاہیے۔ بہرحال کتاب کا کاغذ، ٹائٹل اور جلد بندی اعلیٰ ہے۔ 

فیوض الباري

تصنیف: حضرت مولانا اسلام الحق صاحب  رحمۃ اللہ علیہ ۔ ترتیب: مولانا محمد ایوب سورتی صاحب۔ صفحات: ۴۸۸۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: مولانا محمد ایوب سورتی (مدیر مجلس دعوۃ الحق، لیسٹر، یوکے)۔ ملنے کا پتہ: زمزم پبلشرز، شاہ زیب سینٹر، دکان نمبر:۲، نزد مقدس مسجد، اردو بازار، کراچی۔ فون نمبر: 0309-8204773
حضرت مولانا اسلام الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق انڈیا کے صوبہ بہار کے شہر پٹنہ سے تھا، آپ نے کئی مدارس میں پڑھتے ہوئے مدرسہ امینیہ دہلی میں تعلیم کے مراحل مکمل کیے، آپ مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کے مخصوص تلامذہ میں سے ہیں، فراغت کے بعد پہلے مادرِ علمی مدرسہ امینیہ دہلی میں کئی سال تدریس فرمائی، پھر دارالعلوم رامپورہ سورت گجرات اور جامعہ حسینیہ، راندیر گجرات میں دورہ حدیث تک تدریس فرماتے رہے، پھر ۱۹۸۱ء میں برطانیہ میں دارالعلوم ہولکمب بری میں جب دورہ حدیث شروع ہونے لگا تو مولانا یوسف متالا صاحبؒ کی دعوت پر آپ شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوئے اور دیگر کتب کے علاوہ بخاری شریف بھی پڑھائی۔ ۲۸؍ رمضان المبارک ۱۴۱۶ھ مطابق ۱۹۹۶ء میں ۷۶سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں انتقال فرماکر جنت البقیع میں آرام فرماہوئے، رحمہ اللہ رحمۃً واسعۃً۔
حضرتؒ نے آخری سال بخاری شریف کی شرح لکھنا شروع کی تھی، اور سال بھر میں جو لکھ سکے وہ مطبوع ہوکر ہمارے سامنے ہے، یہ مواد دو کاپیوں میں تھا، جو حضرتؒ کے بیٹوں کے پاس محفوظ تھیں، انہوں نے وہ مولانا محمد ایوب سورتی صاحب کو فراہم کردیں، جنہیں سورتی صاحب کافی محنت کے بعد مواد کی کمپوزنگ، تصحیح اور عنوانات کے اضافہ کے ساتھ منظر عام پر لائے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اور حضرتؒ کے صاحبزادگان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اپنے مشمولات کے اعتبار سے اس کتاب کو ایک طرح سے بخاری شریف کا مقدمہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس میں امام بخاریؒ کے حالات، صحیح بخاری کی اہمیت و مقام، حدیث کی عظمت وحجیت، منکرینِ حدیث کے شبہات اور ان کے جوابات، وحی کی اقسام اور پہلے باب ’’باب بدء الوحي‘‘ کی مکمل شرح ہے۔ کتاب کی ترتیب درج ذیل ہے:بابِ اول: احوالِ امام بخاریؒ۔ بابِ دوم: مقدمۃ العلم۔ بابِ سوم: حجیتِ حدیث اور فتنۂ انکارِ حدیث۔ بابِ چہارم: ابحاثِ متعلقہ کتبِ حدیث۔ بابِ پنجم: کتاب کی ابتدا اور تراجم اور وحی سے متعلق مضامین۔
کتاب کے شروع میں صاحبِ تصنیف حضرت مولانا اسلام الحق  رحمۃ اللہ علیہ  کے حالات بھی درج ہیں۔ کتاب کا یہ طبع دوم ہے۔ ماشاء اللہ کتاب معنوی حسن کے ساتھ سا تھ ظاہری حسن سے بھی مالامال ہے۔ کاغذاعلیٰ، جلد نفیس و مضبوط اور طباعت دورنگہ ہے۔ 

درسِ نظامی کی کتابیں کیسے حل کریں؟ (اصول، طریقہ کار اور مشکلات کا جائزہ)

تالیف: مولانا محمد شہباز صاحب۔ صفحات:۱۳۹۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر وملنے کا پتا: آس اکیڈمی، اڈا پلاٹ، رائیونڈ روڈ، لاہور۔ فون نمبر: 0305-6953536
مولانا محمد شہباز صاحب جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے متخصصِ علومِ حدیث اور آس اکیڈمی لاہور کے استاذِ حدیث وفقہ ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے درسِ نظامی کے طلبہ اور علماء کو درپیش تعلیمی اور دیگر انواع واقسام کے سوالات واشکالات اور مسائل کا حل پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب میں مذکور چند مسائل کے چیدہ چیدہ عنوانات کا یہاں ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے، تاکہ قارئین کو اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ ہو، چنانچہ چند مرکزی عنوانات درج ذیل ہیں:
’’استعداد پیدا کرنے کے راہنما اصول۔ آلاتِ علم کا صحیح استعمال۔ کتبِ لغات سے استفادہ۔ لغات دیکھنے میں پیش آنے والی مشکلات، اسباب اور حل۔ صرف ونحو کی کمزوری کیسے دور کریں؟۔ لغوی ترجمہ۔ ترکیبی ترجمہ۔ فہمِ کتاب کے مراحل۔ فہمِ کتاب مشکل ہونے کی وجوہات اور ان کا حل۔ کتبِ درسِ نظامی کی چار اقسام۔ شرح میں موجود عبارات کی اغراض۔ دلیل کی اقسام اور انہیں حل کرنے کا طریقہ کار۔ فہم سے متعلق فوائد۔ حواشی وشروحات کا حل اور انتخاب۔ حاشیہ یا شرح سمجھ نہ آنے کی وجوہات۔ اردو شروحات کے نقصانات اور عربی کے فوائد۔ نفسیاتی مسائل اور ان کا حل۔اختتامی نصائح۔ ‘‘
کتاب کا ٹائٹل دیدہ زیب، جلد بندی مضبوط اور کاغذ اعلیٰ ہے، مگر کتاب کی کرننگ اور سیٹنگ کی طرف کماحقہ توجہ نہیں دی گئی، جابجا الفاظ کے درمیان بلاوجہ فاصلے اور اسپیس دیئے گئے ہیں۔ بعض مقامات پر عربی عبارات کو اُردو فونٹ میں لکھا گیا ہے۔ لائنوں کے درمیان اسپیس بھی زیادہ رکھا گیا ہے، اُمید ہے کہ اگلے ایڈیشن میں ان باتوں کا خیال رکھا جائے گا۔ 
یہ کتاب اس قابل ہے کہ ہر طالب علم اور ہر عالم کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

یہ تھے اکابرِ مظاہر

جمع وترتیب: مفتی ناصر الدین مظاہری صاحب۔ صفحات:۲۹۲۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: مکتبہ تراث الادب، خانیوال۔ فون نمبر: 0300-4097744
مظاہر علوم (سہارنپور، انڈیا) ہمارے مسلک اہل سنت والجماعت (دیوبند) سے تعلق رکھنے والے برصغیر کے چند معروف اور نمایاں مدارس میں سے ہے۔ زیرِتبصرہ مجموعہ کے مرتب مفتی ناصر الدین مظاہری صاحب اسی ادارے مظاہر علوم (وقف) میں مدرس اور اس کے ترجمان رسالہ ماہنامہ ’’آئینہ مظاہر علوم‘‘کے مدیر اور درجن بھر کتابوں کے مصنف ہیں، انہوں نے مظاہر علوم کے علماء ومشائخ، اساتذہ اور بزرگوں کے تقویٰ، سادگی، اخلاص اور زہد وقناعت سے متعلق قسط وار احوال وواقعات لکھنا شروع کیے اور ’’علم وکتاب‘‘ کے نام سے ایک سنجیدہ اور باوقار واٹس اپ گروپ (جس میں ہندوپاک کے نامور اکابر علماء شامل ہیں) میں ارسال کیے۔ بالآخر سو اَقساط پوری ہونے پر ان تمام مضامین کو یکجا کرکے کتابی صورت میں شائع کردیا گیا ہے۔ کتاب کا تعارف ٹائٹل پر یوں کرایا گیا ہے:
’’ علماء مظاہر کے تقویٰ وتقدُّس، زہد وتقشُّف، علمی تبحُّر، فقہی تعمُّق، عبادت و ریاضت اور سادگی وقناعت پر مشتمل بے مثال واقعات کا شاندار مجموعہ۔‘‘
کتاب کا کاغذ عمدہ، کمپوزنگ اور سیٹنگ مناسب ہے، مگر جلدبندی میں نفاست اور صفائی نہیں ہے۔ 
بہرحال مادیت پرستی، نمود ونمائش، حبِ جاہ اور خود پسندی کے اس دور میں اکابر علماء ومشائخ کے تقویٰ وللّٰہیت، زہد وقناعت، سادگی اور تواضع کے تذکروں پر مشتمل یہ مجموعہ ان شاء اللہ قارئین کی اصلاح کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ 

ردِ الحاد اور دفاعِ اسلام

مؤلف: مولانا عتیق الرحمٰن کشمیری (فاضل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن)۔ صفحات:۹۶۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر وملنے کا پتہ: اسلامی کتب خانہ، بالمقابل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی۔ فون نمبر:0335-2420737
الحاد اور دہریت‘ یہ دولفظ ایک ساتھ ہم معنی استعمال ہوتے ہیں، الحاد اور دہریت کا مطلب لامذہبیت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی الوہیت، اس کے وجود اور اس کی صفات کا انکار، یا دنیا کی ہر تبدیلی کو زمانہ کی طرف منسوب کیا جائے اور کسی قانون اور ضابطہ کے بغیر اپنی خواہش نفسانی کے مطابق زندگی گزاری جائے۔ زیرِتبصرہ کتابچہ (جیسا کہ عنوان سے واضح ہے) دہریت اور خدا کے وجود کا انکار کرنے والے منکرین کے نظریات کی تردید، منکرینِ خدا کی طرف سے کیے گئے اشکالات کے جوابات، دینِ اسلام کے دفاع اور وجودِ باری تعالیٰ کے دلائل پر مشتمل ہے۔ مؤلف موصوف نے درج بالا موضوع کو قرآنی اور عقلی دلائل سے سمجھایا ہے۔ اس موضوع سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے یہ کتابچہ کافی حد تک معاون ہے، اور بنیادی ضرورت پوری کرتا ہے۔ خدانخواستہ کوئی شخص اس فتنہ کا شکار ہوتو اسے بھی مطالعہ کے لیے دیا جاسکتا ہے ۔ 
کتاب کی کرننگ اور فنی سیٹنگ کی طرف توجہ کی ضرورت ہے، اُمید ہے اگلے ایڈیشن میں اس کا خیال رکھا جائے گا۔

مقامِ امامِ عصرؒ(حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ)

ترتیب: مولانا مفتی محمد زبیر اشرف صاحب (میمن)۔ صفحات:۳۸۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر:مکتبۂ زبیر کراچی، فون نمبر: 0334-0203410
زیرِنظر رسالہ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری  رحمۃ اللہ علیہ  کے مختصر حالاتِ زندگی اور اُن کی علمی ودینی خدمات کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ آپؒ کی چند قیمتی نصائح بھی اس کتابچہ کا حصہ ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرتب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اس رسالہ کو قارئین کے لیے نافع بنائے، آمین

تعلیم الإنشاءاردو شرح معلم الإنشاء(حصہ اول)

ترتیب: مولانا ارشاد احمد سلارزئی صاحب۔ صفحات:۱۹۲۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: مکتبۃ الحماد، دکان نمبر:۸، بالمقابل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی۔ فون نمبر: 0334-3455955
مدارس کے نصاب ’’درسِ نظامی ‘‘ کے ابتدائی اور وسطانی درجات میں عربی زبان سیکھنے کے لیے مختلف معاون علوم مثلاً نحو وصرف کی کتابوں کے ساتھ ساتھ لغت اور گرائمر کی بھی کوئی نہ کوئی کتاب ضرور شامل ہوتی ہے، انہی کتب میں سے درجہ ثانیہ میں پڑھائی جانے والی حضرت مولانا عبدالماجد ندوی  رحمۃ اللہ علیہ  کی ایک کتاب ’’معلم الإنشاء‘‘ (حصہ اول) ہے، اس کا دوسرا حصہ درجہ ثالثہ میں پڑھایا جاتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’معلم الإنشاء‘‘ (حصہ اول) کی شرح ہے۔ 
ہمارے خیال میں اس طرح کی تمرین اور مشق سکھانے والی کتب کی شرح لکھنا کوئی زیادہ قابلِ تحسین عمل نہیں ہے، طلبہ کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے ابتدائی طلبہ کی استعداد کمزور رہ جاتی ہے۔ سستی اور تساہل کے دور میں بچوں سے جو کچھ اُمید مشق کی ہوسکتی تھی، اس طرح کی شروحات کی وجہ سے وہ بھی ختم ہوجاتی ہے، تحتانی اور چھوٹے درجات کی عربی اور گرائمر کی کتب کا مقصد طلبہ میں مشق اور تمرین کے ذریعہ استعداد اور صلاحیت پیداکرنا ہے، طلبہ خود محنت کریں گے اور لغت و ڈکشنری سے خود دیکھ کر مشق کریں گے تو ان میں صلاحیت اور نکھار پیدا ہوگا۔ 
بہرحال کتاب کی کمپوزنگ، سیٹنگ، ٹائٹل، کاغذ، طباعت سب عمدہ سے عمدہ ہیںاور طباعت دو رنگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس شرح سے ہونے والے ممکنہ نقصان سے طلبہ کو محفوظ فرمائے اور دیگر قارئین کو اس سے استفادہ کی توفیق نصیب فرمائے، آمین۔

زمیں کے تارے

تالیف: مولانا عبدالخالق ہمدرد صاحب۔ صفحات: ۳۴۹۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: مطبوعات ریشہ، اسلام آباد۔ فون نمبر: 0315-9599955
زیرِتبصرہ کتاب کے جامع ومرتب مولانا عبدالخالق ہمدرد صاحب ہیں، جو جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے فاضل ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے اسکول، کالج اور مدارس (بشمول جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن) کے اساتذہ (جن سے انہوں نے پڑھا) کے شخصی حالات وواقعات، اُن کا طریقۂ تدریس، اور اپنے زمانۂ طالب علمی میں پیش آنے والے دلچسپ اور سبق آموز واقعات واحوال لکھے ہیں۔ واضح رہے کہ اس کتاب میں موصوف کے ان اساتذہ کا تذکرہ ہے جن سے انہوں نے ۱۹۹۸ء تک کسی بھی ادارے میں پڑھا ہے، اس کے بعد کے اساتذہ کے ذکر سے یہ کتاب خالی ہے۔ کتاب کے مندرجات سے متعلق مؤلف موصوف لکھتے ہیں:
’’اساتذہ سے میرے تعلقات درسگاہ کی حد تک رہے ہیں، اس لیے کسی کی نجی زندگی یا تاریخی حالات کا بہت کم علم ہے،اس لیے ہر شخصیت کے بارے میں مندرجہ ذیل سوالات کے جواب لکھنے کی کوشش کروں گا:۱:-فلاں کون تھا؟۔ ۲:- ۶ان سے کیا پڑھا؟۔ ۳:-پڑھانے کا انداز کیسا تھا؟۔ ۴:- ان سے متعلق متفرق، دلچسپ واقعات اور علمی نکات۔ ‘‘
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اِس کتاب کے لکھنے کی ایک بڑی وجہ مؤلف کا اپنے اساتذہ کرام سے عقیدت ومحبت کا تعلق ہے، مگر اساتذہ کی عقیدت ومحبت کا تقاضا یہ بھی تھا کہ کم از کم ان اساتذہ سے منسوب کتاب میں اُن کے مسلک ومشرب کی بھی رعایت کرلی جاتی، لیکن یہاں مؤلف موصوف سے چوک ہوئی اور کتاب کے بیک ٹائٹل پر اپنی تصویر چھاپ دی، جس کی یہاں دنیوی اورشرعی کوئی ضرورت نہ تھی۔ جن اساتذہ کے ہاں مختلف فیہ ڈیجیٹل تصویر حرام ہو، ان سے منسوب کتاب کو متفق علیہ حرام ’’پرنٹڈ تصویر‘‘ سے آلودہ کرنا چہ معنی دارد؟ کتاب میں مذکور ’’زمیں کے تاروں‘‘ میں کیسے کیسے اساطینِ علم وتقویٰ کا تذکرہ ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ ’’عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ‘‘ یعنی ’’نیک لوگوں کے تذکرے کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے۔‘‘ کیا ہی اچھا ہوتا کہ نزولِ رحمت کا سبب بننے والی کتاب میں ’’الملائکۃ لاتدخل بيتا فیہ صورۃ‘‘ کا سبب اختیار کرکے رحمتِ خداوندی سے دوری کے اسباب پیدا نہ کیے جاتے۔ 
نیز فہرست کے عنوانات اور صفحات کے نمبرات میں مطابقت نہیں ہے، فہرست میں دئیے گئے صفحہ نمبر پر مطلوبہ عنوان نہیں ملتا، کہیں دو تین صفحات کا فرق ہے اور کہیں یہ فرق زیادہ بھی ہوگیا ہے۔ 
بہرحال کتاب کا ٹائٹل دیدہ زیب، کاغذبہتراور جلدبندی مضبوط ہے۔ 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین