بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا وکیل مطلوبہ چیز خود خرید کر زائد قیمت پر اپنے موکل کو فروخت کر سکتا ہے؟


سوال

زید نے بکر سے کہا کہ میرے  لیے قسطوں پر گاڑی خرید لو،  بکر نے جاکر دوکان سے اپنے لیے قسطوں پر گاڑی خرید لی،  مثال کے طور پر 50000 کی، پھر آکر وہی گاڑی زید کو قسطوں پر 60000 کی فروخت کردی،  کیا بکر کے  لیے یہ معاملہ کرنا جائز ہوگا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں وکیل کے لیے ایسا کرنے کی شرعاً اجازت نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144008200479

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں