بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 رمضان 1445ھ 28 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا عورت اپنے معتکف ( جائے اعتکاف) سے نکل سکتی ہے؟


سوال

عورت کے لیے اعتکاف کے دوران ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ میں جانا کیسا ہے؟ اور اگر کوئی عورت چلی گئی تو وہ کیا کرے؟

جواب

واضح رہے کہ خاتون اگر مسنون اعتکاف بیٹھنا چاہتی ہو تو  اپنے گھر کے اس مقام کو اپنا معتکف ( اعتکاف کی جگہ) قرار دے دے جو نماز و دیگر عبادات کے لیے مخصوص ہو، اگر گھر میں کوئی جگہ نماز کے لیے مخصوص نہ ہو تو گھر کا کوئی کمرہ یا کمرے میں کوئی حصہ پردہ وغیرہ لگا کر مخصوص کردے،  اور اس مقام کی حیثیت اعتکاف کرنے والی خاتون کے حق میں ویسے ہی ہوگی جیسے اعتکاف کرنے والے مردوں کے حق میں مسجد کی ہوتی ہے، پس اس خاتون کے لیے  شرعی یا طبعی ضرورت ( وضو، پیشاب یا پاخانے کے لیے  جانا) کے بغیر اس مقام سے نکلنے کی اجازت نہ ہوگی۔ اگر ان ضروریات کے علاوہ کوئی عورت نکل گئی تو اس کا اعتکاف فاسد ہوجائے گا، اور روزے کی نیت کے ساتھ ایک رات اور دن کا اعتکاف بطورِ قضا کرنا لازم ہوگا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَالْمَرْأَةُ تَعْتَكِفُ فِي مَسْجِدِ بَيْتِهَا إذَا اعْتَكَفَتْ فِي مَسْجِدِ بَيْتِهَا فَتِلْكَ الْبُقْعَةُ فِي حَقِّهَا كَمَسْجِدِ الْجَمَاعَةِ فِي حَقِّ الرَّجُلِ لَاتَخْرُجُ مِنْهُ إلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ كَذَا فِي شَرْحِ الْمَبْسُوطِ لِلْإِمَامِ السَّرَخْسِيِّ". (الْبَابُ السَّابِعُ فِي الِاعْتِكَافِ، ١/ ٢١١)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"سُئِلَ أَبُو حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - عَنْ الْمُعْتَكِفِ إذَا احْتَاجَ إلَى الْفَصْدِ أَوْ الْحِجَامَةِ هَلْ يَخْرُجُ فَقَالَ: لَا".  (الْبَابُ الْخَامِسُ فِي آدَابِ الْمَسْجِدِ وَالْقِبْلَةِ وَالْمُصْحَفِ وَمَا كُتِبَ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ الْقُرْآنِ نَحْوُ الدَّرَاهِمِ وَالْقِرْطَاسِ أَوْ كُتِبَ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ تَعَالَى، ٥ / ٣٢٠- ٣٢١)

مراقي الفلاحمیں ہے:

"ولا يخرج منه" أي من معتكفه فيشمل المرأة المعتكفة بمسجد بيتها "إلا لحاجة شرعية" كالجمعة والعيدين فيخرج في وقت يمكنه إدراكها مع صلاة سنتها قبلها ثم يعود وإن أتم اعتكافه في الجامع صح وكره "أو" حاجة "طبيعية" كالبول والغائط وإزالة نجاسة واغتسال من جنابة باحتلام لأنه عليه السلام كان لا يخرج من معتكفه إلا لحاجة الإنسان "أو" حاجة "ضرورية كانهدام المسجد". (حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح، باب الاعتكاف، ١/ ٧٠٢)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وَأَمَّا مُفْسِدَاتُهُ) فَمِنْهَا الْخُرُوجُ مِنْ الْمَسْجِدِ فَلَا يَخْرُجُ الْمُعْتَكِفُ مِنْ مُعْتَكَفِهِ لَيْلًا وَنَهَارًا إلَّا بِعُذْرٍ، وَإِنْ خَرَجَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ سَاعَةً فَسَدَ اعْتِكَافُهُ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - كَذَا فِي الْمُحِيطِ". ( کتاب الصوم، الْبَابُ السَّابِعُ فِي الِاعْتِكَافِ، ١/ ٢١٢) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201885

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں