بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1447ھ 08 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسبوق کی فوت شدہ رکعات کی ادائیگی میں قراءت کی ترتیب


سوال

اگر کسی شخص سے 3 رکعات رہ جائیں تو  کیا وہ پہلی دو رکعات میں سورت پڑھے گا؟

جواب

اگر کسی شخص سے 3 رکعات رہ جائیں تو پہلی دو رکعات میں وہ سورت پڑھے گا۔

رد المحتار (1/ 596) ط: سعید

''ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد؛ فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما، وبرابعة الرباعي بفاتحة فقط، ولا يقعد قبلها۔''

و في الرد:'' وفي الفيض عن المستصفى: لو أدركه في ركعة الرباعي يقضي ركعتين بفاتحة وسورة ثم يتشهد ثم يأتي بالثالثة بفاتحة خاصة عند أبي حنيفة. وقالا: ركعة بفاتحة وسورة وتشهد ثم ركعتين أولاهما بفاتحة وسورة وثانيتهما بفاتحة خاصة اهـ. وظاهر كلامهم اعتماد قول محمد''۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 143908200289

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں