بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

پائے کھانا کیسا ہے؟


سوال

جانور کی ٹانگوں کے  کھانے کے بارے میں  کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں حلال جانوروں کی ٹانگیں یا پائے کا کھانا شرعاً حلال ہے، اس میں کوئی قباحت یا کراہت نہیں ہے۔

حدیث شریف میں ہے: 

"عن عبد الرحمن بن عابس، عن أبيه، قال: قلت لعائشة: أنهى النبي صلى الله عليه وسلم أن تؤكل لحوم الأضاحي فوق ثلاث؟ قالت: «ما فعله إلا في عام جاع الناس فيه، فأراد أن يطعم الغني الفقير، وإن كنا لنرفع الكراع، فنأكله بعد خمس عشرة» قيل: ما اضطركم إليه؟ فضحكت، قالت: «ما شبع آل محمد صلى الله عليه وسلم من خبز بر مأدوم ثلاثة أيام حتى لحق بالله»".

(باب ما كان السلف يدخرون في بيوتهم وأسفارهم، من الطعام واللحم وغيره، ج: 7، صفحہ: 76، رقم الحدیث: 5423، ط: دارطوق النجاة)

وفیہ ایضاً: 

"حدثنا محمد بن يحيى قال: حدثنا محمد بن يوسف قال: حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس قال: أخبرني أبي، عن عائشة، قالت: لقد كنا نرفع الكراع، فيأكله رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد خمس عشرة من الأضاحي."

(سنن ابن ماجه، باب القديد، ج: 2، صفحہ: 1101، رقم الحدیث: 3313، ط: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي) 

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100156

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں