بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شوال 1441ھ- 02 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

مدۃ الرضاعۃ


سوال

كم سنة يجوز إرضاع الصبي؟ وهل السنة سنة شمسية أم قمرية؟ 

جواب

يجوز إرضاع الصبي سنتين، ولكن تثبت حرمة الرضاعة إلى ثلاثين شهرًا (كما في فتاوي رحيمية) والمعتبر  فيه الحول القمري.

لما في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 209):
"وشرعًا (مصّ من ثدي آدمية) ولو بكرًا أو ميتةً أو آيسةً، وألحق بالمصّ الوجور والسعوط (في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده، وحولان) فقط (عندهما، وهو الأصح)". فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144108200370

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے