بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک سے قرض لے کر مکان بنانا


سوال

میزان  بینک سے قرض لے کر مکان بنا سکتا ہوں یا نہیں ؟

جواب

مقتدر مفتیانِ کرام کی رائے کے مطابق میزان بینک سمیت دیگر  مروجہ اسلامک بینکوں کے معاملات مکمل طور  پر شرعی اصولوں کے موافق نہیں ہیں، اس لیے  ان بینکوں سے house loan (گھر خریدنے کے لیے قرضہ)  لینا شرعاً جائز نہیں ہے؛  کیوں کہ  ہوم لون  ان کی اصطلاح میں  "شرکتِ متناقصہ" کے تحت  جاری ہوتا ہے اور اس معاملے میں بہت سے شرعی اصولوں کی خلاف ورزی لازم آتی ہے۔

تفصیلی معلومات کے لیے ہماری کتاب ’’مروجہ اسلامی بینکاری‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔ 

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وعلى أن النهي عن أكل مال الغير معقود بصفة وهو أن يأكله بالباطل، وقد تضمن ذلك أكل أبدال العقود الفاسدة كأثمان البياعات الفاسدة."

(با ب التجارات وخیار البیع (3/128)،ط.دار إحياء التراث العربي - بيروت، تاريخ الطبع: 1405)

حدیث شریف میں ہے:

"« إن الحلال بين وإن الحرام بين وبينهما مشتبهات لايعلمهنّ كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعى يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ألا ! وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه»."

أخرجه مسلم في«باب أخذ الحلال وترك الشبهات» (5/ 50) برقم (4178)، ط. دار الجيل  بيروت

ترجمہ: بے شک حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے، پس جس شخص نے مشتبہ چیزوں سے پرہیز کیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو پاک ومحفوظ کر لیا ، اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہوا وہ حرام میں مبتلا ہو گیا، اور اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو ممنوعہ چراگاہ کی مینڈ پر چراتا ہے، قریب ہے کہ اس کے جانور اس ممنوعہ چرا گاہ میں گھس کر چرنے لگیں، جان لو ہر بادشاہ کی ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چراگاہ حرام چیزوں ہیں۔

عمدة القاري ميں ہے:

"و قال الخطابي: كل شيء يشبه الحلال من وجه و الحرام من وجه هو شبهة و الحلال اليقين ما علم ملكه يقينًا لنفسه، و الحرام البين ما علم ملكه لغيره يقينًا، و الشبهة ما لايدري أهو له أو لغيره، فالورع اجتنابه، ثم الورع على أقسام: واجب كالذي قلناه، و مستحب كاجتناب معاملة من أكثر ماله حرام، و مكروه كالاجتناب عن قبول رخص الله و الهدايا."

(«كتاب البیوع »«باب تفسير المشبهات» (11/236)،ط. دارالكتب العلمية. الطبعة الاولى: 1421ه)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144206200449

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں