مسبوق کے تکبیر تحریمہ کہتے ہی امام نے سلام پھیر دیا تو اقتدا کا حکم
سوال
اگر کسی شخص نے امام کے سلام سے پہلے تحریمہ کہہ لی، لیکن اس کے قعدہ میں پہنچنے سے پہلے امام نے سلام پھیر دیا تو کیا اس کی اقتدا درست ہو گئی ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں امام کے سلام پھیرنے سے پہلے تکبیر تحریمہ کہہ دی تو مذکورہ شخص جماعت میں شامل ہونے والا شمار ہوگا اور اس کی اقتدا درست ہے۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے :
"امام کے سلام پھیرنے سے پہلے تکبیر تحریمہ کہہ دی ہے تو جماعت میں شامل ہونے والا شمار ہوگا، تکبیرِتحریمہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔" (ج5 / ص 153)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 468):
"(قوله: و تنقضي قدوة بالأول) أي بالسلام الأول. قال في التجنيس: الإمام إذا فرغ من صلاته فلما قال: "السلام" جاء رجل و اقتدى به قبل أن يقول: "عليكم" لايصير داخلًا في صلاته لأن هذا سلام؛ ألا ترى أنه لو أراد أن يسلم على أحد في صلاته ساهيًا فقال: السلام ثم علم فسكت تفسد صلاته."
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

