
ایک غیر شادی شدہ خاتون اپنے تعلیمی ادارے کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں شرکت کے لیے پاکستان سے تنہا مکہ مکرمہ جا رہی ہے۔مکہ میں قیام کے دوران کیا وہ بغیر محرم کے عمرہ ادا کر سکتی ہے، یا عمرہ کی ادائیگی کے لیے اس کے ساتھ محرم کا ہونا شرعاً ضروری ہے؟
واضح رہے کہ عورت کے لیے مسافتِ سفر (یعنی سوا ستتر کلومیٹر یا اس سے زیادہ) کا سفر شوہر یا محرم کے بغیر کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، کیوں کہ رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ:” کوئی عورت تین دن (یعنی شرعی مسافت) سے زیادہ سفر نہ کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی محرم ہو۔ “ لہذا اگر کوئی عورت مسافتِ شرعی کے بقدر سفر شوہر یا محرم کے بغیر کرتی ہے، تو وہ گناہ گار ہوگی، جس پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی عورت حج یا عمرہ ادا کرنا چاہے اور اس کے لیے سفرِ شرعی طے کرنا ضروری ہو، تو اس صورت میں بھی اس کے لیے محرم یا شوہر کا ساتھ ہونا شرعاً شرط ہے۔ البتہ اگر سفر کی مسافت شرعی مسافت کے برابر نہ ہو، مثلاً عورت مکہ مکرمہ کی مستقل رہائشی ہو، یا کسی ضرورت کے سبب وہاں عارضی طور پر مقیم ہو، تو ایسی صورت میں حج یا عمرہ کے ارکان ادا کرنے کے لیے محرم کا ساتھ ہونا بہتر ہوگا، کیوں کہ اس صورت میں بغیر محرم کے سفرِ شرعی نہیں پایا جاتا۔ نیز میقات سے حدود حرم میں داخل ہونے کے لیے احرام باندھنا ضروری ہے، بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہونا گناہ ہے، ایسی صورت میں دم دینا اور عمرہ کی قضاء کرنا لازم ہوگا، اور اگر کسی میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کرے گی تو دم ساقط ہوجائے گا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ عورت کے گھر سے مکہ مکرمہ تک کا فاصلہ مسافتِ سفر کے برابر یا اس سے زائد ہے، تو اس کا تنہا سفر کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا ،اور وہ اس پر گناہ گار ہوگی۔ تاہم اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے بغیر محرم کے سفر کر کے مکہ مکرمہ پہنچ گئی، تو اس کے لیے احرام کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہونا ضروری ہوگا، جس سے وہ عمرہ کرکے نکلے گی،اگر وہ بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہوگئی تو اس پر دم لازم ہوگا، اور عمرہ کی قضاء لازم ہوگی، ہاں اگر وہ دوبارہ میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کرے گی تو دم ساقط ہوجائے گا، لیکن وہ خاتون گناہ گار ہوگی۔
الإختیار لتعلیل المختار میں ہے:
"قال: (ولا تحج المرأة إلا بزوج أو محرم إذا كان سفرا) لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر ثلاثة أيام فما فوقها إلا ومعها زوجها أو ذو رحم محرم منها» وقال عليه الصلاة والسلام: «لا تحج المرأة إلا ومعها زوجها أو ذو رحم محرم منها."
(کتاب الحج، ج:1، ص:140، ط:دار الكتب العلمية)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ووقت المكي للإحرام بالحج الحرم، وللعمرة الحل كذا في الكافي، فيخرج الذي يريد العمرة إلى الحل من أي جانب شاء كذا في المحيط والتنعيم أفضل كذا في الهداية."
(کتاب الحج، الباب الثاني، ج:1، ص:221، ط:دار الفکر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707100073
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن