بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حائمہ نام رکھنا کیسا ہے؟


سوال

 بیٹی کا حائمہ  نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

 عربی میں"حائمہ" کا معنی ہے، پیاسی عورت،معنی کے لحاظ سے یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے،اس لیے بہتر یہ ہے کہ  یہ نام نہ رکھا جائے۔ صحابیات رضی اللہ عنہن اور دیگر نیک خواتین کے ناموں میں سے کوئی اچھا نام رکھا جائے۔

ہماری جامعہ کی ویب سائٹ میں اسلامی ناموں کی فہرست موجود ہے، وہاں سے بھی نام لیا جاسکتا ہے۔

القاموس الوحید میں ہے:

"الحيوان حوما:پیاسا ہونا،حائم ،جمع  حوائم وحوم،وهي حائمة  ،ج،حوائم "

(ج:1، ص:396،ط:ادارہ اسلامیات۔لاہور)

لسان العرب میں ہے:

"وفي حديث ابن عمر: ما ولي أحد إلا ‌حام على قرابته أي عطف كفعل الحائم على الماء، ويروى حامى. وحام الطائر على الشيء حوما وحومانا: دوم. والطائر يحوم حول الماء ويلوب إذا كان يدور حوله من العطش. الجوهري: ‌حام الطائر وغيره حول الشيء يحوم حوما وحومانا أي دار. وفي حديث الاستسقاء:اللهم ارحم بهائمنا الحائمة، هي التي تحوم حول الماء أي تطوف فلا تجد ماء ترده، وحامت الإبل حول الماء حوما كذلك. وكل من رام أمرا فقد ‌حام عليه حوما وحياما وحؤوما وحومانا. والحوم: اسم للجمع، وقيل: جمع. وكل عطشان حائم. وإبل حوائم وحوم: عطاش جدا؛ الأصمعي: الحوم من الإبل العطاش التي تحوم حول الماء؛ وقال الأصمعي في قول علقمة بن عبدة:

كأس عزيز من الأعناب عتقها، … لبعض أربابها، حانية حوم

قال: الحوم الكثيرة، وقال خالد بن كلثوم الحوم التي تحوم في الرأس أي تدور، والمعتقة: التي طال مكثها. وهامة حائمة: عطشى، وفي التهذيب: قد عطش دماغها."

(فصل الحاء المهملة،ج:12،ص:162،دار صادر - بيروت)

المعجم الوسیط میں ہے:

"والحيوان حوما عطش فهو حائم (ج) حوائم وحوم وهي ‌حائمة (ج) حوائم."

(ج:1،ص:210،دار الدعوة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144512100279

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں