بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1446ھ 16 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا خصی ہونا جانور میں ایک نقص ہے نیز اس کی قربانی کا حکم


سوال

فقہ حنفی میں خصی بکرا قربان کیا جاتا ہے،لیکن اہل تشیع کہتے ہیں کہ خصی ہونا  جانور میں نقص ہے اور جس جانور میں نقص ہو اس کی قربانی نہیں کی جاتی آپ مجھے اس معاملے میں مکمل دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ 

جواب

واضح رہے  کہ خصی جانور کی قربانی    احادیث میں  آپﷺ سے خود ثابت ہے،"سنن ابی داؤد"،"سنن ابن ماجہ" ،"مسند احمد"   اور دیگر کتب حدیث میں اس کا تذکرہ ملتا ہے ، اور جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے خصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہوگیا تو ایک موٴمن کو اس میں کوئی تردد  نہیں ہونا چاہیے۔

نیز قربانی میں ایسا جانور ذبح کرنا افضل ہے ،جس کا گوشت عمدہ ہو اور خصی جانور  کا گوشت عمدہ اور پاکیزہ  ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں خصی ہونا جانور میں عیب کے بجائے  اس کی اچھائی ہے اور اس کی قربانی دوسرے جانور کے مقابلے میں افضل ہے۔

 سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا أراد أن يضحي اشترى كبشين عظيمين سمينين أقرنين أملحين موجوئين، فذبح أحدهما عن أمته ، لمن شهد لله بالتوحيد، وشهد له بالبلاغ، وذبح الآخر عن محمد وعن آل محمد صلى الله عليه وسلم".

 (سنن ابن ماجه، باب أضاحي رسول الله صلى الله عليه وسلم 2/232، ط: قديمي)

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن جابر بن عبدالله، قال: ذبح النبي صلى الله عليه وسلم يوم الذبح كبشين أقرنين أملحين موجئين".

(سنن أبي داود، باب ما یستحب من الضحایا 2/30، ط: حقانیه ملتان)

مسند امام احمد بن حنبل میں ہے:

"عن أبي هريرة أن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ضحى اشترى كبشين عظيمين سمينين أقرنين أملحين موجوئين".

(مسند الإمام أحمد بن حنبل 43/37 رقم: 25843، ط: مؤسسة الرسالة)

فتح الباري بشرح صحیح البخاري میں ہے:

"وأخرج أبو داود من وجه آخر عن جابر ذبح النبي صلى الله عليه وسلم ‌كبشين ‌أقرنين أملحين موجوءين قال الخطابي الموجوء يعني بضم الجيم وبالهمز منزوع الأنثيين والوجاء الخصاء وفيه جواز الخصي في الضحية وقد كرهه بعض أهل العلم لنقص العضو لكن ليس هذا عيبا لأن الخصاء يفيد اللحم طيبا وينفي عنه الزهومة وسوء الرائحة وقال بن العربي حديث أبي سعيد يعني الذي أخرجه الترمذي بلفظ ضحى بكبش فحل أي كامل الخلقة لم تقطع أنثياه يرد رواية موجوءين وتعقب باحتمال أن يكون ذلك وقع في وقتين قوله وقال يحيى بن سعيد سمعت أبا أمامة بن سهل قال كنا نسمن الأضحية بالمدينة وكان المسلمون يسمنون وصله أبو نعيم في المستخرج من طريق أحمد بن حنبل عن عباد بن العوام أخبرني يحيى بن سعيد وهو الأنصاري ولفظه كان المسلمون يشتري أحدهم الأضحية فيسمنها ويذبحها في آخر ذي الحجة قال أحمد هذا الحديث عجيب قال بن التين كان بعض المالكية يكره تسمين الأضحية لئلا يتشبه باليهود وقول أبي أمامة أحق قاله الداودي."

(قوله باب أضحية النبي صلى الله عليه وسلم بكبشين أقرنين، 10/ 10ط:دار المعرفة)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"والخصي أفضل؛ من الفحل لأنه أطيب لحمًا، كذا في المحيط".

(الفتاوی الهندیة، کتاب الأضحیة، الباب الخامس 5/299، ط: رشیدیه)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144510102166

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں