بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

جہری نماز میں سرًّا قراء ت کرنا


سوال

 آج نمازِ فجر  کی دوسری رکعت میں امام نے سورۂ فاتحہ کی اونچی آواز میں قراء ت شروع نہیں کی، لیکن مقتدی کی طرف سے لقمہ دینے کے بعد قراءتمکمل کر لی۔ کیا اس پر سجدہ سہو بنتا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر مذکورہ امام صاحب نے فجر کی نماز کی دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کی اتنی مقدار آہستہ آواز میں تلاوت کرلی تھی جس مقدارِ قراءت سے نماز درست  ہوجاتی ہے،  یعنی تین مختصر آیتوں کے بقدر تو اس صورت میں سجدہ سہو لازم تھا،( فقہاءِ کرام نے اس کی مقدار تین مرتبہ ’’سبحان اللہ‘‘ بتائی ہے، یعنی کم از کم تیس حروف کی مقدار)، اگر اس سے کم مقدار آہستہ آواز سے تلاوت کی ہو تو  سجدۂ سہو لازم نہیں ہوا۔

اگر مذکورہ امام صاحب نے سجدۂ سہو کرلیا تھا تو بہر دو صورت (خواہ سجدہ سہو لازم تھا یا نہیں) نماز ہوگئی۔ اور اگر سجدہ سہو لازم تھا، لیکن نہیں کیا تو  ترکِ واجب کی وجہ سے اس نماز کا اعادہ وقت کے اندر  لازم تھا، اور  وقت گزر جانے کی صورت میں   اعادہ کا وجوب ساقط ہوگیا، اب  اعادہ کرلینا  مستحب ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 81):

"(والجهر فيما يخافت فيه) للإمام، (وعكسه) لكل مصل في الأصح، والأصح تقديره (بقدر ما تجوز به الصلاة في الفصلين. وقيل:) قائله قاضي خان، يجب السهو (بهما) أي بالجهر والمخافتة (مطلقاً) أي قل أو كثر.

(قوله: والجهر فيما يخافت فيه للإمام إلخ) في العبارة قلب، وصوابها: والجهر فيما يخافت لكل مصل، وعكسه للإمام، ح وهذا ما صححه في البدائع والدرر، ومال إليه في الفتح وشرح المنية والبحر والنهر والحلية على خلاف ما في الهداية والزيلعي وغيرهما، من أن وجوب الجهر والمخافتة من خصائص الإمام دون المنفرد.

والحاصل: أن الجهر في الجهرية لا يجب على المنفرد اتفاقاً؛ وإنما الخلاف في وجوب الإخفاء عليه في السرية، وظاهر الرواية عدم الوجوب، كما صرح بذلك في التتارخانية عن المحيط، وكذا في الذخيرة وشروح الهداية كالنهاية والكفاية والعناية ومعراج الدراية. وصرحوا بأن وجوب السهو عليه إذا جهر فيما يخافت رواية النوادر اهـ فعلى ظاهر الرواية لا سهو على المنفرد إذا جهر فيما يخافت فيه، وإنما هو على الإمام فقط.

(قوله: والأصح إلخ) وصححه في الهداية والفتح والتبيين والمنية؛ لأن اليسير من الجهر والإخفاء لايمكن الاحتراز عنه، وعن الكثير يمكن، وما تصح به الصلاة كثير، غير أن ذلك عنده آية واحدة، وعندهما ثلاث آيات هداية. (قوله: في الفصلين) أي في المسألتين مسألة الجهر والإخفاء".فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144107200849

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے