بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بغیر شرعی عذر کے چار ماہ سے قبل اسقاطِ حمل کروانے کا حکم


سوال

میری بیوی کو ایک مہینہ  سے حمل ٹھہر چکا ہے، لیکن فی الحال ہم میاں بیوی دونوں اولاد کی خواہش نہیں رکھتے، تو کیا ہم اسقاط حمل کروا سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں محض اولاد کی خواہش نہ ہونے کی وجہ سے حمل ساقط کروانا شرعاً جائز نہیں ہے، اس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل."

(كتاب النكاح، باب نكاح الرقيق، ج: 3، ص: 176، ط: سعيد)

فیہ ایضاً:

"ويكره أن تسعى ‌لإسقاط ‌حملها … وجاز لعذر حيث لا يتصور.

(قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل.

(قوله حيث لا يتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظهر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 429، ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144407102232

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں