بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

انسانی بالوں کی خرید و فروخت کا حکم


سوال

عورتوں کے بالوں  کو فروخت کرناجائز ہے یا نہیں ؟

جواب

انسانی بالوں کی خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں ہے۔بلکہ  بال انسانی جسم کا حصہ ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام ہیں،  نیز اجنبی مرد کے لیے عورت کے ٹوٹے ہوئے بالوں کو دیکھنا بھی جائز نہیں ہے، اس لیے سر میں کنگھی کرتے ہوئے عورتوں کے جو بال گر جائیں انہیں کسی جگہ دفنا دینا  چاہیے، اگر دفنانا مشکل ہو تو کسی کپڑے وغیرہ میں ڈال کر ایسی جگہ ڈال دیے جائیں   جہاں کسی اجنبی کی نظر نہ پڑے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(كما بطل) (بيع صبي لا يعقل ومجنون) شيئا وبول (ورجيع آدمي لم يغلب عليه التراب) فلو مغلوبا به جاز كسرقين وبعر، واكتفى في البحر بمجرد خلطه بتراب (وشعر الإنسان) لكرامة الآدمي ولو كافرا ذكره المصنف وغيره في بحث شعر الخنزير.

(قوله: وشعر الإنسان) ولا يجوز الانتفاع به لحديث «لعن الله الواصلة والمستوصلة» وإنما يرخص فيما يتخذ من الوبر فيزيد في قرون النساء وذوائبهن هداية.

[فرع] لو أخذ شعر النبي صلى الله عليه وسلم ممن عنده وأعطاه هديةً عظيمةً لا على وجه البيع فلا بأس به، سائحاني عن الفتاوى الهندية.

مطلب: الآدمي مكرم شرعًا ولو كافرًا.

(قوله: ذكره المصنف) حيث قال: والآدمي مكرم شرعًا وإن كان كافرًا فإيراد العقد عليه وابتذاله به وإلحاقه بالجمادات إذلال له. اهـ أي وهو غير جائز وبعضه في حكمه وصرح في فتح القدير ببطلانه ط. قلت: وفيه أنه يجوز استرقاق الحربي وبيعه وشراؤه وإن أسلم بعد الاسترقاق، إلا أن يجاب بأن المراد تكريم صورته وخلقته، ولذا لم يجز كسر عظام ميت كافر وليس ذلك محل الاسترقاق والبيع والشراء، بل محله النفس الحيوانية فلذا لا يملك بيع لبن أمته في ظاهر الرواية كما سيأتي فليتأمل".

(ج:5،ص:58،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144401100200

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں