بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

اجتماعی قربانی میں مالک جانور سے وعدہ بیع کرنے کے بعد شرکاء سے پیسے لینا


سوال

مجھے یہ  مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ ادارےوالے جانور کے مالک سے وعد بیع کرتے ہیں،  پھر حصہ داروں سے پیسے لے کرجانور خریدتےہیں اور حصہ داروں کی طرف سے قربانی کرتے ہیں، توکیا اس طرح کرنا صحیح ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  ادارے والوں کا  جانور کے مالک سے وعدہ بیع کرنے کے بعد شرکاء سے پیسے لے کر اس جانور کو خریدنا اور  پھر شرکاء کی طرف سے اسے ذبح کرنا اورقربانی کرنا شرعاً درست ہے ۔ 

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے :

"(وصح) (اشتراك ستة في بدنة شريت لأضحية) أي إن نوى وقت الشراء الاشتراك صح استحسانا وإلا لا (استحسانا وذا) أي الاشتراك (قبل الشراء أحب."

(‌‌كتاب الأضحية ، ج : 3 ، ص : 317 ، ط : سعید)

بدائع الصنائع میں ہے :

"ولو اشترى رجل بقرة يريد أن يضحي بها ثم أشرك فيها بعد ذلك قال هشام: سألت أبا يوسف فأخبرني أن أبا حنيفة رحمه الله قال: أكره ذلك ويجزيهم أن يذبحوها عنهم، قال: وكذلك قول أبي يوسف، قال: قلت لأبي يوسف ومن نيته أن يشرك فيها؟ قال: لا أحفظ عن أبي حنيفة رحمه الله فيها شيئا ولكن لا أرى بذلك بأسا."

(كتاب التضحية ، فصل في شرائط جواز إقامة الواجب في الأضحية ، ج : 6 ، ص : 307 ، ط :  دار الکتب العلمیة)

البحر الرائق میں ہے:

"وإن ذكرا البيع بلا شرط ثم شرطاه على وجه المواعدة جاز البيع ولزم الوفاء وقد يلزم الوعد لحاجة الناس فرارا من الربا."

(كتاب البيع ، باب خيار الشرط ، ج : 6 ، ص : 8 ، ط : دار الكتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو بعده على وجه الميعاد جاز لزم الوفاء به؛ لأن المواعيد قد تكون لازمة لحاجة الناس، وهو الصحيح."

(كتاب البيوع، باب الصرف، ج:5، ص:277، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن ذكرا البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزم الوفاء بالوعد كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب البيوع، الباب العشرون، ج:3، ص:209، ط:دار الفكر۔بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511102091

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں