بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

عذر کی وجہ سے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا حکم


سوال

 اگر کسی شخص کو  پتھری ہے اور  کھڑے ہو کر پیشاب اوراستنجاء کرتا ہو،توایسی صورت میں کیا وہ  نماز وغیرہ  پڑھ سکتا ہے؟

جواب

مذکورہ بیماری کی وجہ  سے اگر بیٹھ کر پیشاب کرنا تکلیف دہ ہو تو پھر کھڑے ہو کر پیشاب کرنا جائز ہوگا۔ باقی  مذکورہ شخص کو چاہیے کہ بدن اور کپڑوں کی پاکی کا خیال  رکھے، اگر پیشاب کے قطرے جسم یا کپڑوں پر  لگ جائیں  تو انہیں دھوکر پاک کرے اور  نماز  کا بھی اہتمام کرے۔

بذل المجہود شرح سنن ابی داؤد میں ہے:

"و قال عامة العلماء: ‌البول ‌قائمًا مكروه إلَّا لعذر، و هي كراهة تنزيه لا تحريم، و هو مذهبنا الحنفية."

(كتاب الطهارة، باب البول قائماّ، ج:1، ص:247، ط: مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)

مرقاۃالمفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن حذيفة - رضي الله عنه - قال: «أتى النبي - صلى الله عليه وسلم - سباطة قوم، فبال قائما» . متفق عليه. قيل: كان ذلك لعذر۔۔۔وقيل للأمن حينئذ من خروج شيء من السبيل الآخر، وقيل كان برجله جرح، روى أبو هريرة كما أخرجه الحاكم والبيهقي «أن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم بال قائما لجرح مأبضه۔۔۔وفي الإحياء أجمع أربعون طبيبا على أن البول في الحمى قائما دواء عن سبعين داء قاله زين العرب."

(كتاب الطهارة، باب آداب الخلاء، ج:1، ص:389، ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)

عمدۃالقاری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"وقالت عامة العلماء: ‌البول ‌قائما مكروه إلا لعذر، وهي كراهة تنزيه لا تحريم."

(كتاب الطهارة، باب البول قائماّ وقاعداّ، ج:3، ص:135، ط: دار إحياء التراث العربي)

معارف السنن شرح  جامع الترمذی میں ہے:

"إن البول قائماً وإن کانت فیه رخصة، والمنع للتأدیب لا للتحریم، کما قاله الترمذي، ولٰکن الیوم الفتوٰی علٰی تحریمه أولٰی حیث أصبح شعاراً لغیر المسلمین من الکفار و أهل الأدیان الباطلة."

(كتاب الطهارة، باب النهي عن البول قائماً، ج :1، ص:106)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144409100511

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں