بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

فرعون کا حقیقی نام!


سوال

 فرعون کا اصل نام کیا تھا، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں؟

جواب

حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں موجود فرعون کے حقیقی نام کے بارے میں بعض اہلِ علم  کی  رائے یہ ہے  کہ فرعون ہی اس کا حقیقی نام ہے، جب کہ دیگر اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ اس زمانہ میں فرعون قوم عمالقہ کے ہربادشاہ کا لقب تھا، اس حساب سے  فرعون کا حقیقی نام" ولید بن مصعب بن ریّان"تھا، اور اہلِ کتاب کی کتابوں میں " قابوس" نام کا بھی ذکر ہے۔

 تفسير البغوي المسمى بمعالم التنزيل" میں ہے:

"{ وَإِذْ نَجَّيْنَاكُمْ } ، أي أسلافكم وأجدادكم فاعتدها منة عليهم ، لأنهم نجوا بنجاتهم ، { مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ } : أتباعه وأهل دينه ، وفرعون هو الوليد بن مصعب بن الريان"

(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:49، ج:1، ص:74، ط:دارالسلام)

الجامع لاحکام القرآن (تفسير القرطبي )  میں ہے:

"قوله تعالى: (فرعون) " فرعون" قيل إنه اسم ذلك الملك بعينه. وقيل اسم كل ملك من ملوك العمالقة مثل كسرى للفرس وقيصر للروم والنجاشي للحبشة وإن اسم فرعون موسى قابوس في قول أهل الكتاب. وقال وهب أسمه الوليد ابن مصعب بن الريان ويكنى أبا مرة وهو من بني عمليق بن لاوذ بن إرم بن سام بن نوح عليه السلام. قال السهيلي وكل من ولي القبط ومصر فهو فرعون. وكان فارسيا من أهل إصطخر. قال المسعودي لا يعرف لفرعون تفسير بالعربية. قال الجوهري: فرعون لقب الوليد بن مصعب ملك مصر وكل عات فرعون والعتاة الفراعنة وقد تفر عن وهو ذو فرعنة أي دهاء ونكر. وفي الحديث (أخذنا فرعون هذه الامة)." وفرعون" في موضع خفض إلا أنه لا ينصرف لعجمته".

(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:49، ج:1، ص:383، ط:دارالکتب المصریّۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403102059

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں