بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1444ھ 13 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

دو بیویوں کے درمیان رات گزاری کی ایک صورت


سوال

اگر زوجتین ایک گھر میں ہوں اور بجائے شوہر کا ایک ایک کے کمرے میں جانے کے اپنے مختص کمرے میں اہلیہ کو باری میں بلائے تو یہ صورت عدل کے تحقق کے لئے کافی ہے؟

جواب

شریعت نے دونوں بیویوں کے درمیان جو برابری کرنے کا حکم دیا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ  رات گزارنے میں دونوں میں برابری ہو  ،اس میں یہ شرعا لازم نہیں کہ ان کے ہی خاص کمرے میں ان کے ساتھ  رات گزارے ، اگر کوئی ایسا کمرہ  ہو جو علیحدہ سے ہو اور شوہر کا مختص  ہو تو اس میں بھی باری باری رات گزارنے سے شرعی تقاضا پورا ہوجائے گا ، اس لیے کہ اصل مقصد دونوں بیویوں کے ساتھ رات گزارنے میں برابری ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 201):

"(يجب) وظاهر الآية أنه فرض، نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة، بل يستحب.

 (قوله: وفي الملبوس والمأكول) أي والسكنى، ولو عبر بالنفقة لشمل الكل. ثم إن هذا معطوف على قوله: فيه، وضميره للقسم المراد به البيتوتة فقط؛ بقرينة العطف، وقد علمت أن العدل في كلامه بمعنى عدم الجور لابمعنى التسوية؛ فإنها لاتلزم في النفقة مطلقاً. قال في البحر: قال في البدائع: يجب عليه التسوية بين الحرتين والأمتين في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة، وهكذا ذكر الولوالجي. والحق أنه على قول من اعتبر حال الرجل وحده في النفقة. وأما على القول المفتى به من اعتبار حالهما فلا؛ فإن إحداهما قد تكون غنيةً والأخرى فقيرةً، فلا يلزم التسوية بينهما مطلقاً في النفقة. اهـ. وبه ظهر أنه لا حاجة إلى ما ذكره المصنف في المنح من جعله ما في المتن مبنياً على اعتبار حاله (قوله: والصحبة) كان المناسب ذكره عقب قوله: في البيتوتة؛ لأن الصحبة أي المعاشرة والمؤانسة ثمرة البيتوتة. ففي الخانية: ومما يجب على الأزواج للنساء: العدل والتسوية بينهن فيما يملكه، والبيتوتة عندهما للصحبة، والمؤانسة لا فيما لا يملكه وهو الحب والجماع."

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307200033

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں