بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

باسم نام رکھنا


سوال

باسم نام رکھنا کیسا ہے، کیا یہ کسی صحابی کا نام ہے؟

جواب

باسم کامعنی ہے "مسکرانے والا"یہ نام رکھنادرست ہے، صحابہ کے ناموں سے کسی صحابی کا نام نہیں ،البتہ اس سے ملتاجلتانام ایک مشہورمحدث (بسّام بن عبداللہ الصیرفی)کاہے۔

القاموس المحیط میں ہے:

"بسم يبسم بسما وابتسم وتبسم: وهو أقل الضحك وأحسنه، فهو ‌باسم ومبسام وبسام ،والمبسم، كمنزل: الثغر،وكمقعد: التبسم."

((باب الميم ، فصل الباء ص : 1080 ط : بيروت)

تہذیب الکمال فی اسماء الرجال میں ہے: 

" س: ‌بسام بن عبد الله الصيرفي (1) ، أبو الحسن الكوفي.

روى عن: جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب، والحسن بن عمرو الفقيمي، وزيد بن علي بن الحسين ابن علي بن أبي طالب، وأبي الطفيل عامر بن واثلة الليثي، وعبد الله بن يامين، وعطاء بن أبي رباح، وعكرمة مولى ابن عباس، وعون ابن أبي جحيفه، وأبي جعفر محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب (س) ، ويحيى بن سام (2) ، ويزيد الفقير (س) .

روى عنه: إسماعيل بن بهرام، وحاتم بن إسماعيل، وكناه (س) ، والحسن بن عطية بن نجيح القرشي، والحكم بن مروان الضرير الكوفي، وخالد بن عمرو القرشي."

(باب الباء  ج : 4ص : 58 ط : بيروت)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144403100906

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں