بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑنے کا حکم


سوال

کیا بیوی اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑ سکتی ہے؟

جواب

شادی کے بعد عورت کا اپنے نام کے ساتھ والد کے بجائے شوہر کا نام جوڑنا شرعًا جائز ہے؛ کیوں کہ عورت کے نام کے ساتھ  والد کا نام لگے یا شوہر کا،  درحقیقت مقصد اس سے تعارف اور شناخت  ہے، اور یہ  شناخت ان دو طریقوں کے علاوہ بھی ہوسکتی ہے۔ قرآن وحدیث میں بعض عورتوں کا تعارف اللہ نے ان کے شوہروں کی نسبت سے کرایا ہے۔قرآن کریم میں ہے:

﴿ اِمْرَاَةَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَةَ لُوْطٍ، كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ ﴾(التحریم:10)

ترجمہ: یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی۔الخ

حدیث شریف میں ہے:

"جَاءَتْ زَینب امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ، تستاذن عَلیه، فَقیل: یا رَسُولَ الله، هذه زینَبُ، فَقَالَ: أَی الزیانِبِ؟ فَقِیلَ: امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: نَعَمْ، ائْذَنُوا لَها“. (بخاری و مسلم)

 حضرت ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زینب جو امراۃ ابنِ مسعود ہیں، یعنی حضرت ابنِ  مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں اور اجازت طلب کی، پوچھا گیا کون سی زینب؟ جواب دیا گیا کہ: امراۃ ابن ِ مسعود. آپ نے فرمایا کہ: ہاں! اُسے آنے کی اجازت ہے۔

لہذاشادی کے بعد شناخت  کے لیے   والد کی جگہ شوہر کا نام آجائے تو اس میں کوئی قباحت  نہیں۔ باقی اگرکسی کو یہ شبہ ہوکہ بعض احادیث میں والد کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس بارے میں وعیدیں بھی آئی ہیں، تو  واضح رہے کہ ان احادیث کا مقصد یہ ہے کہ اپنے والد کو چھوڑ کر کسی اور شخص کی طرف اپنی نسبت اس طور پر کرنا کہ وہ دوسرا شخص والد سمجھا جائے یا اپنے والد کی نفی کرکے دوسرے کو والد کہنا ممنوع ہے، بیوی کا نام شوہر کی طرف منسوب کرنے میں کسی طرح بھی ولادت کی نسبت نہیں سمجھی جاتی، لہٰذا یہ نسبت حدیث کی ممانعت میں داخل نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144203200041

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں