بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

15 تولہ سونے کی زکوۃ


سوال

میرے پاس   15 تولہ سونا ہے  اس کی زکوۃ  کتنی  بنتی ہے ؟

جواب

 صورتِ مسؤلہ میں جب زکوۃ نکالنے کا وقت آجائے تو مذکورہ سونے کی مارکیٹ میں قیمتِ فروخت کے اعتبار سے جو رقم ہوگی ، اس  قیمت  کی  ڈھائی فی صد زکوۃ لازم ہوگی۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال ۔۔۔لماروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لعلي: «ليس عليك في الذهب زكاة ما لم يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال."

(کتاب الزکوۃ ، فصل في مقدار الواجب في زکاۃ الذھب، ج:2، ص:18، ط:دار الکتب العلمیة)

محیط برہانی میں ہے:

"وإنما اعتبر الوزن حالة الانفراد لقوله عليه السلام: «في مائتي درهم خمسة دراهم» والمراد من الدرهم الوزن، وقال عليه السلام: «في عشرين مثقال ذهب نصف مثقال» ، والمثقال هو الوزن، فالنبي عليه السلام نص على الوزن حالة الانفراد، فإن بلغ الوزن نصابا حالة الانفراد فلا يبقى للقيمة عبرة؛ لأن القيمة إنما تعرف بالاجتهاد في موضع النص إذا كان العبرة للوزن حالة الانفراد، فإن بلغ الوزن نصابا حالة الانفراد تجب الزكاة، وما لا فلا."

(الفصل الثالث فی بیان مال الزکوة، ج : 2 ، ص : 242 ، ط : دارالكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144508102278

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں