بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) سے بنائی گئی تصاویر کا شرعی حکم

سوال

جیسا کہ علماء کرام نے تصویر کشی کی تقسیم کی ہے، تو  اے آئی سے ویڈیو یا تصویر بنانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کی مدد سے جاندار کی تصاویر بنانا شریعت کی رو سےجائز نہیں ہے،جاندار کی تصویر مطلقاً ناجائز و حرام ہے، خواہ ہاتھ سے بنائی جائے، کیمرہ کے ذریعہ ڈیجیٹل تصویر بنائی جائے، یا پھر اے آئی کے ذریعہ بنائی جائے، جاندار کی تصویر بہرصورت ناجائز ہی رہے گی۔ البتہ ایسی تصاویر جو ذی روح کی تصاویر نہ ہوں مثلاً درخت پودے یا پھول وغیرہ کی تصاویر، تو وہ بنا سکتے  ہیں۔

مزید تفصیل کے لیے جامعہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر موجود مذکورہ فتاویٰ ملاحظہ ہو:

اے آئی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعہ تصاویر بنانے کا حکم

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى".

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، 650/1، ط: سعيد)

فقط والله تعالى اعلم بالصواب

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144609101564
تاریخ16-03-2025

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں